درہ آدم خیل: جھڑپ میں تین ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں حکام کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان اور ایک مسلح گروہ کے مابین جھڑپ میں تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے فرنٹیر کور کے ایک اہلکار کو ہلاک اور ایک کو زخمی کردیا ہے۔ درہ آدم خیل سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ منگل کی صبح دس بجے کے قریب شینی کلی میں پیش آیا جب گزشتہ روز نامعلوم حملے میں ہلاک کئے جانے والے علاقے میں ایک مبینہ اغواء کار گروہ کے سرغنہ امیر سید عرف چرگ کے حامیوں نے مقامی طالبان کے کچھ افراد پر ہینڈ گرینڈ اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد طالبان جنگجو بھی بڑی تعداد میں بھاری ہتھیاروں کے ساتھ وہاں پر پہنچے اور دونوں کے مابین شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں حکام کے مطابق تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ تاہم مقامی ذرائع کے مطابق جھڑپ میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد مقامی طالبان بڑی تعداد میں درہ بازار میں نکل آئے اور حملہ آواروں کی تلاش شروع کردی جبکہ کوہاٹ پشاور سڑک بھی بند کردی گئی ۔ ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی جنگجوؤں نے اردگرد کے پہاڑوں پر قبضہ کرکے وہاں بھاری ہتھیار نصب کردیئے ہیں۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حملہ آوار گروہ کے افراد بھی بازار کے ایک کونے میں بھاری ہتھیاروں سے مورچہ زن ہیں جس سے علاقے میں سخت کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔ اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار سے رابط کیا گیا تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ مقامی مشران پر مشتمل ایک جرگہ نے دونوں گروپوں سے بات چیت شروع کردی ہے۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات دینے سے انکار کردیا۔ آخری اطلاعات آنے تک درہ بازار میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ ادھر صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے فرنٹیر کور کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوا ہے۔ کوہاٹ پولیس کے مطابق خیبر رائفلز کے دو اہلکار چھٹیاں گزار کر لنڈی کوتل جا رہے تھے کہ انڈس ہائی وے پر سرگل چوک کے قریب نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کردی جس سے ایک اہلکار جمشید الرحمان ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوا۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی جی ٹی روڈ پر واقع لاہور بس سٹینڈ میں ایک بم دھماکہ ہوا ہے جس میں کسی کی ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہے۔ | اسی بارے میں میرانشاہ میں فوجی کارروائی07 August, 2007 | پاکستان طالبان کا حملوں سے صاف انکار06 August, 2007 | پاکستان اراضی کا تنازعہ، پاک افغان راستہ بند05 August, 2007 | پاکستان جھڑپ، خودکش حملے میں ہلاکتیں: حکام04 August, 2007 | پاکستان ’خالی مکانوں کو نشانہ بنایا گیا‘07 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||