BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 August, 2007, 14:39 GMT 19:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
درہ آدم خیل: جھڑپ میں تین ہلاک

ایف سی
صوبہ سرحد میں بم دھماکوں کے بعد سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے
پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں حکام کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان اور ایک مسلح گروہ کے مابین جھڑپ میں تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری طرف صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے فرنٹیر کور کے ایک اہلکار کو ہلاک اور ایک کو زخمی کردیا ہے۔

درہ آدم خیل سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ منگل کی صبح دس بجے کے قریب شینی کلی میں پیش آیا جب گزشتہ روز نامعلوم حملے میں ہلاک کئے جانے والے علاقے میں ایک مبینہ اغواء کار گروہ کے سرغنہ امیر سید عرف چرگ کے حامیوں نے مقامی طالبان کے کچھ افراد پر ہینڈ گرینڈ اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد طالبان جنگجو بھی بڑی تعداد میں بھاری ہتھیاروں کے ساتھ وہاں پر پہنچے اور دونوں کے مابین شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں حکام کے مطابق تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ تاہم مقامی ذرائع کے مطابق جھڑپ میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد مقامی طالبان بڑی تعداد میں درہ بازار میں نکل آئے اور حملہ آواروں کی تلاش شروع کردی جبکہ کوہاٹ پشاور سڑک بھی بند کردی گئی ۔ ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی جنگجوؤں نے اردگرد کے پہاڑوں پر قبضہ کرکے وہاں بھاری ہتھیار نصب کردیئے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں فوج کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حملہ آوار گروہ کے افراد بھی بازار کے ایک کونے میں بھاری ہتھیاروں سے مورچہ زن ہیں جس سے علاقے میں سخت کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔

اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار سے رابط کیا گیا تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ مقامی مشران پر مشتمل ایک جرگہ نے دونوں گروپوں سے بات چیت شروع کردی ہے۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات دینے سے انکار کردیا۔

آخری اطلاعات آنے تک درہ بازار میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز درہ آدم خیل میں مختلف جرائم میں مبینہ طورپر ملوث ایک گروہ کے سرغنہ امیر سید عرف چرگ کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کیا تھا جبکہ اس قتل کا شبہ مقامی طالبان پر ظاہر کیا جارہا ہے۔

ادھر صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے فرنٹیر کور کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوا ہے۔

کوہاٹ پولیس کے مطابق خیبر رائفلز کے دو اہلکار چھٹیاں گزار کر لنڈی کوتل جا رہے تھے کہ انڈس ہائی وے پر سرگل چوک کے قریب نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کردی جس سے ایک اہلکار جمشید الرحمان ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوا۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی جی ٹی روڈ پر واقع لاہور بس سٹینڈ میں ایک بم دھماکہ ہوا ہے جس میں کسی کی ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد