اراضی کا تنازعہ، پاک افغان راستہ بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ذخہ خیل قبائل نے اراضی کے تنازعے پر پاک افغان شاہراہ بند کردی ہے جس کی وجہ سے افغانستان میں اتحادی افواج کو تیل اور دیگر اشیاء سپلائی کرنے والے سینکڑوں آئل ٹینکر اور دیگر بھاری گاڑیاں پھنس گئے ہیں۔ پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے اتوار کو بی بی سی کو بتایا کہ ذخہ خیل قبیلے کے ایک رکن ملک عطاء اللہ نے ایک دوسرے قبائلی کے ساتھ اراضی تنازعے کے باعث پاک افغان شاہراہ بند کردی ہے۔ تاہم ان کے مطابق شاہراہ کھولنے کے لئے مذاکرات جاری ہے۔ شاہراہ صبح نو بجے بند کی گئی تھی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پاک افغان شاہراہ کی بندش کے باعث سڑک کے دونوں جانب سینکڑوں گاڑیاں کھڑی ہیں جبکہ افغانستان میں اتحادی افواج کے لئے تیل اور دیگر اشیاء سپلائی کرنے والے آئل ٹینکر اور دیگر بھاری گاڑیاں بھی بڑی تعداد میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے مظاہرین کے پاس بھیجا جانے والا آخری جرگہ بھی ناکام ہوگیا ہے۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ انتظامیہ شاہراہ کھولنے کے لئے آپریشن پر غور کر رہی ہے۔ عطاء اللہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور تھانہ پشتخرہ کے اہلکار ان کی زمین پر جمرود کے اقتدار شاہ کے مبینہ ناجائز قبضے کی حمایت کر رہے ہیں اور قابضین کا ساتھ دے رہے ہیں اس لئے انہوں نے مجبور ہو کر یہ قدم اٹھایا ہے۔ شاہراہ کی بندش کی وجہ سے پاکستان سے جانے اور افغانستان سے آنے والے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ادھر صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کی رات نامعلوم افراد نے دو پولیس چوکیوں کو بم حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ تاہم ان واقعات میں کسی ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں۔ | اسی بارے میں تمام شاہراہیں بند، سات سو گرفتار30 August, 2006 | پاکستان شاہراہِ ریشم: تباہی اور نفسا نفسی 12 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||