BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 August, 2007, 12:56 GMT 17:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خالی مکانوں کو نشانہ بنایا گیا‘

قبائلی علاقوں میں فوج (فائل فوٹو)
حکومت کے ساتھ مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے: طالبان
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نےعلاقے میں تازہ فوجی کارروائی کے بارے میں بتایا کہ اس میں انہیں کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ایک ترجمان عبدالحئی غازی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے خالی مکانات کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ قریب میں گاؤں کے لوگ بھی حملے کے آغاز کے بعد علاقے سے نکل گئے تھے۔

تاہم ان کے مطابق گولہ باری اور ہیلی کاپٹروں سے حملوں کا سلسلہ صبح دس بجے تک جاری رہا۔ ’اگر کوئی گاؤں کا شخص یا بچہ زخمی ہوا ہو تو ہو، ہمارا کوئی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا ہے۔‘

سرکاری ذرائع کے مطابق منگل کو صبح پانچ بجے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے تیس کلومیٹر دور دیگان کے مقام پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی جس میں گن شپ ہیلی کاپٹروں کے علاوہ توپخانے کا استعمال بھی کیا گیا۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق فوج کو اطلاع ملی تھی کہ افغان سرحد کے قریب اس مقام پر فوج پر حملے کی تیاری کی جارہی ہے جس پر سکیورٹی فورسز نے مذکورہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔

طالبان کے ترجمان کا شمالی وزیرستان میں بعض قبائلیوں کی جانب سے فوج کے ساتھ تعاون کے سلسلے میں کمیٹیاں تشکیل دینے کے فیصلے کے بارے میں کہنا تھا کہ ایسے افراد کو قتل کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جس قبائلی نے بھی فوج کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔

ایجنسی میں عیدک اور چند دوسرے مقامات پر مقامی قبائل نے اپنے علاقے کو لڑائی سے پاک رکھنے کی خاطر ایسی کمیٹیاں تشکیل دی تھیں جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تھیں کہ ان کی زمین سے سکیورٹی فورسز پر حملے نہ ہوں۔

البتہ طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ عیدک کے قبائل سے رابطے پر انہوں نے یہ اعلان واپس لے لیا تھا۔

حکومت کے ساتھ جرگے کے ذریعے مذاکرات میں پیش رفت کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ عمل تعطل کا شکار ہے۔ جرگہ اراکین کی جانب سے حکومت پر پہلے حفاظتی چوکیاں ہٹانے کے مطالبے کے بعد سے ان مذاکرات میں بظاہر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد