BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 August, 2007, 14:06 GMT 19:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کا حملوں سے صاف انکار

سوات میں سرکاری اہلکار
’طالبان نےدو ایف سی کے اہلکاروں کے گلے کاٹنے کے واقعے سے بھی لا تعلقی کا اظہار کیا
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان نے ایک قبائلی امن جرگے کو حلفاً یقین دلایا ہے کہ ایجنسی میں جاری سرکاری اہلکاروں اور چیک پوسٹوں پر حملوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس بات کی تصدیق ماموند قبائل کے سربراہ ملک عبد العزیز نے پیر کو باجوڑ کی تمام اقوام پر مشتمل گرینڈ جرگے کے سامنے کیا۔ صدر مقام خار میں منعقدہ اس گرینڈ جرگہ میں پولیٹکل ایجنٹ شفیر اللہ خان اور دیگر اعلٰی سرکاری اہلکاروں کے علاوہ جرگہ کے ایک سو تیس اراکین نے بھی شرکت کی۔

قبائلی سربراہ ملک عبد العزیز نے بعد ازاں بی بی سی کو بتایا کہ گرینڈ جرگے کے فیصلے کے مطابق ماموند قبائل کے مشران نے دو روز قبل مقامی ’مجاہدین‘ کے نمائندوں سے باجوڑ میں امن کے قیام اور امن معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے بات چیت کی۔

منکرات
 سرکاری اہلکار نے کہا کہ حکومت اس وقت تک سکیورٹی فورسز کے کی تعداد میں کمی نہیں کرسکتی جب تک علاقے میں مکمل امن قائم نہیں ہوجاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان جس چیز کو منکرات سمجھتے ہیں وہ حکومت کے خیال میں منکرات نہیں تاہم اس سلسلے میں حتمی فیصلہ جرگہ کے ساتھ مل کر طے کیا جائے گا۔ جرگے کا آئندہ اجلاس تیرہ اگست کو ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی طالبان نے جرگے کو حلفاً یقین دلایا کہ باجوڑ میں سرکاری اہلکاروں اور چیک پوسٹوں پر حملوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ طالبان نے چند روز قبل گلا کاٹ کر ہلاک کئے جانے والے دو ایف سی کے اہلکاروں کے قتل سے بھی لا تعلقی کا اظہار کیا۔

ان کے مطابق حکومت کے ساتھ تعاون کےلئے مقامی طالبان نے بھی کچھ شرائط پیش کی ہیں جن میں سرکاری چیک پوسٹوں پر سکیورٹی فورس کی تعداد میں کمی، قیدیوں کی رہائی اور اسلحہ لے کر چلنے کی اجازت شامل ہیں۔

ملک عبد العزیز کے بقول طالبان نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ان کے ساتھی نقاب پہن کر ایجنسی کے حدود میں آزادانہ طور پرگھوم پھر سکیں گے تاہم ان کے ساتھ ان کا ایک کمانڈر بغیر نقاب کے ہوگا جو اس بات کا ثبوت ہوگا کہ مذکورہ گروپ مقامی طالبان کا ہے۔

طالبان نے ان چیزوں پر بھی پابندی عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا جنہیں وہ ’منکرات‘ کہتے ہیں۔ ان میں فلموں اور سی ڈیز کی خرید و فروخت، شیو کرنا، چرس اور افیون وغیرہ شامل ہیں۔

اس سلسلے میں باجوڑ کی انتظامیہ سے رابط کیا گیا تو ایک اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکو مت نے مذاکرات کی کامیابی اور خیر سگالی کے جذبے کے تحت مقامی طالبان کے پانچ قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔

رہا کئے جانے والے پانچوں افراد کا تعلق طالبان کے ایک دوسرے گروپ سے بتایا جاتا ہے۔

سرکاری اہلکار نے کہا کہ حکومت اس وقت تک سکیورٹی فورسز کی تعداد میں کمی نہیں کرسکتی جب تک علاقے میں مکمل امن قائم نہیں ہوجاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان جن چیزوں کو منکرات سمجھتے ہیں وہ حکومت کے خیال میں منکرات نہیں تاہم اس سلسلے میں حتمی فیصلہ جرگہ کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔ جرگے کا آئندہ اجلاس تیرہ اگست کو ہوگا۔

واضح رہے کہ پولیٹکل انتظامیہ کی طرف سے آج رہا کیے جانے والے قیدیوں میں ڈاکٹر اسمعیل نامی ایک جہادی کمانڈر کے بیٹے اور ان کے چار دیگر ساتھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر اسمعیل کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے کمانڈر رہ چکے ہیں۔ وہ پہلے مقامی طالبان کمانڈر مولوی محمد فقیر کے گروپ میں سے تھے تاہم اب انہوں نے الگ گروپ بنایا ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں پہلی دفعہ طالبان کے دو گروپ سامنے آئے ہیں۔
یاد رہے کہ باجوڑ میں سرکاری چیک پوسٹوں پر رات کے وقت حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں
’جرگہ امن کی آخری کوشش ہے‘
12 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد