BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 January, 2008, 15:27 GMT 20:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الگ الگ لیکن ساتھ ساتھ

طالبان جنگجو فائل
طالبان اور القاعدہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں: ملا داد اللہ
پاکستان میں شدت پسند کارروائیوں میں اضافے کی ذمہ داری اگر حکام قبائلی طالبان پر ڈالتے ہیں تو دوسری جانب امریکی حکام اس کی وجہ القاعدہ کا پاکستان میں متحرک ہونا قرار دیتے ہیں۔

کیا یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں یا پاکستانی اور امریکی حکام انہیں اپنے اپنے مطلب کے لیئے استعمال کر رہے ہیں؟

پاکستانی اور امریکی حکام اس حد تک تو متفق دکھائی دیتے ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کی قبائلی علاقوں میں پناہ گاہیں موجود ہیں۔ لیکن ان کی تان اس پر آکر ٹوٹ جاتی ہے کہ اگر وہ قبائلی علاقوں سے تمام منصوبہ بندی یا کارروائیاں کرتے ہیں تو انہیں پکڑا کیوں نہیں جا سکتا۔

پاکستان اسامہ بن لادن جیسے القاعدہ کے اہم رہنماؤں کی موجودگی کا اشارہ افغانستان جبکہ امریکی یہ اشارہ قبائلی علاقوں کی جانب کرتے ہیں۔

ایک اور اختلاف بظاہر پاکستان میں شدت پسند کارروائیوں پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف اپنے حالیہ غیرملکی دورے میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کو زیادہ خطرہ القاعدہ سے نہیں بلکہ طالبان سے ہے۔ تاہم دوسری جانب امریکی یہ ثابت کرنے کی کوششوں میں آج کل جُتے ہیں کہ القاعدہ نے پاکستان کو اپنا نشانہ بنایا ہوا ہے۔

مبصرین کے مطابق بات تقریباً ایک ہے لیکن اس اختلاف کی وجہ دونوں کا اپنے ’وِلن‘ کو اپنے اپنے چشموں سے دیکھنا ہے۔ اگر پاکستان طالبان سے خوفزدہ ہے تو امریکی القاعدہ سے۔ ایک اور وجہ ان کی اپنی کنفیوژن بھی ہوسکتی ہے۔

طالبان کے ایک سابق رہنما ملا داد اللہ البتہ ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ طالبان اور القاعدہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ بعض طالبان رہنماؤں کی اس بارے میں اختلافی رائے بھی سامنے آئی ہے۔

اصل صورتحال ہے کیا؟

تجزیہ نگار بریگیڈئر ریٹائرڈ شوکت قادر کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر یہ وہ لوگ ہیں جو امریکہ اور اس کی مسلمانوں کے خلاف جارحیت کے مخالف ہیں۔

 جہاد اور اسلامی ریاست کے قیام کی حد تک تو القاعدہ اور طالبان کے اہداف ایک ہی ہیں۔ القاعدہ کا ایجنڈا اگر عالمی ہے تو طالبان کا افغانستان تک محدود۔ القاعدہ اگر بین الاقوامی تنظیم ہے تو طالبان اس کی علاقائی شاخ ہے۔

’ابتداء میں یہ لوگ صرف افغانستان سے پہلے روسی اور اب امریکیوں کا انخلاء چاہتے تھے۔ یہ صرف افغان مزاحمتی تحریک تھی جو بدقسمتی سے اب پاکستان کو بھی بھگتنا پڑ رہی ہے۔‘

پاکستانی حکام کے مطابق القاعدہ ہو یا طالبان انہیں پاکستان میں کالعدم قرار دی جانے والی بعض شدت پسند تنظیموں کی مدد بھی حاصل ہے۔

ان کے مطابق یہ امکان بھی موجود ہے کہ القاعدہ ان تنظیموں کو جن میں لشکر جھنگوی اور جیش محمد سرفہرست ہیں شدت پسند کارروائیوں کی ہدایات دیتی ہے۔

طالبان یا القاعدہ کے اس ابہام کو کم از کم قبائلی علاقوں تک دور کرنے کے لیئے بی بی سی نے جنوبی وزیرستان سے سینٹر اور جرگہ رکن صالح شاہ سے دریافت کیا کہ بیت اللہ محسود دراصل طالبان کے رہنما ہیں یا القاعدہ کے؟

الظواہیری
القاعدہ کے بارے میں خیال ہے کہ یہ عرب، چیچن اور ازبک جنگجوؤں پر مشتمل کوئی تنظیم ہے۔

صالح شاہ کا کہنا تھا کہ بیت اللہ محسود خود کہہ چکے ہیں کہ وہ طالبان کے رہنما ہیں اور القاعدہ کا قبائلی علاقوں میں کوئی وجود نہیں۔ ’اس بارے میں امریکی اور پاکستانی حکام کے دعوے بےبنیاد ہیں۔ میں بھی وزیرستانی ہوں میں نے آج تک کوئی غیر ملکی نہیں دیکھا۔‘

بعض مبصرین کے خیال میں پاکستان میں ایک عام آدمی کے لیئے یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ القاعدہ اور طالبان میں فرق کیا ہے۔ طالبان کی اصطلاح عمومی طور پر افغان یا پاکستانی باشندوں پر مشتمل شدت پسندوں کے لیئے مخصوص ہے۔ جبکہ القاعدہ کے بارے میں خیال ہے کہ یہ عرب، چیچن اور ازبک جنگجوؤں پر مشتمل کوئی تنظیم ہے۔

مبصرین کے خیال میں جہاد اور اسلامی ریاست کے قیام کی حد تک تو القاعدہ اور طالبان کے اہداف ایک ہی ہیں۔ القاعدہ کا ایجنڈا اگر عالمی ہے تو طالبان کا افغانستان تک محدود۔ القاعدہ اگر بین الاقوامی تنظیم ہے تو طالبان اس کی علاقائی شاخ ہے۔

پاکستان کی حد تک طالبان بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ اس سے لڑنا ہرگز نہیں چاہتے۔ لیکن اگر سرکاری الزامات درست ہیں کہ ملک میں حالیہ حملے اور جنوبی وزیرستان میں لڑائی کی وجہ وہی ہیں تو پھر طالبان کی بھی سننا پڑے گی کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ یہ ان کی دفاعی جنگ ہے۔

طالبان اور القاعدہ
مقامی طالبان اور القاعدہ کا ایک نکاتی ایجنڈا
طالبان(فائل فوٹو)وزیرستان میں امن
طالبان کا امن معاہدہ جاری رکھنے کا فیصلہ
طالبانمشرف کو انتباہ
طالبانائزیشن ملک میں پھیل رہی ہے
افغان پاک جرگہ
طالبان کو نہیں، پاکستان کو احتیاط کی ضرورت
طالبان(فائل فوٹو)طالبان نڈر ہوگئے
پہلے فوجیوں کا اغواء اب سکاؤٹ قلعہ پر دھاوا
امام بارگاہ حملہخودکش فرقہ واریت
’طالبان اور فرقہ واریت کا خطرناک گٹھ جوڑ‘
طالبان وال چاکنگاسلام آباد میں طالبان
دارالحکومت میں طالبان کے حق میں وال چاکنگ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد