BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 December, 2007, 18:38 GMT 23:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’روشن خیال ، پرامن معاشرے کا قیام‘

 اسفندیار ولی (فائل فوٹو)
اے این پی اصولی سیاست سے پیچھے نہیں ہٹے گی: اسفندیار ولی (فائل فوٹو)
قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے جنوری میں ہونے والے عام انتخابات کےلیے اپنے سات نکاتی منشور کا اعلان کیا ہے جس میں روشن خیال، پرامن، خوشحال اور ترقی پسند معاشرے کے قیام کے لیے کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔

اتوار کو پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں انتخابی منشور کا اعلان کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ان کی جماعت پارلمینٹ کی بالادستی اور عدلیہ اور میڈیا کی مکمل آزادی پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ اے این پی نے ہمیشہ ملک میں اصولوں کی سیاست کی ہے اور آئین وقانون کی بالادستی کے لیے آواز اٹھائی ہے اور آئندہ بھی اصولی سیاست سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔‘

اے این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت میں آتی ہے یا نہیں آتی ہے ، دونوں صورتوں میں برطرف کیے گئے ججوں کی بحالی اور آزاد عدلیہ کے قیام کےلیے کوششیں جاری رکھے گی۔

ایک سوال کے جواب میں اسفند یار نے کہا کہ کالا باغ ڈیم ایک مردہ ایشو ہے اس لیےاس پر بات کرنا اور اسے اچھالنا فضول ہے۔

اے این پی کی طرف سے جاری کردہ سات نکاتی انتخابی منشور کے مطابق امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کیے جائیں گے کیونکہ منشور کے مطابق اس سے پاکستان بڑا فائدہ حاصل کرسکتا ہے، جبکہ افغانستان اور چین سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

سات صفات پر مشتمل منشور میں جن چیزوں کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے ان میں داخلی امور، سیاسی، قانونی اور انتظامی معاملات، جمہوریت اور قانون کی بالادستی، سماجی اور اقتصادی امور، روزگار، صنعتی ترقی، شہری ترقی، تعلیم، صحت، ماحولیات، علاقائی تجارت، پن بجلی کی پیدوار، امور خارجہ، قبائلی علاقہ جات، سیاسی تبدیلیاں اور ترقیاتی اصلاحات شامل ہیں۔

انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے ممکنہ اتحاد کے حوالے سے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اسفند یار ولی نے واضح کیا کہ اے این پی کسی سیاسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی اور نہ ہی پارٹی کے ضلعی رہنماؤں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے طور پر کسی جماعت سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں۔

جسٹس خواجہ شریف ’باغی‘ جج نظربند
ججوں کے گھر کے باہر پولیس تعینات کردی گئی
پھیکی انتخابی مہم
عام انتخابات سر پر لیکن انتخابی مہم میں زور نہیں
مسلم لیگنون لیگ کی کشش
گجرات کے چودھریوں کے خواب چکنا چور؟
قرآن پر قسم
پی پی پی اپنے امیدواروں سے حلف نامے لے رہی ہے
اختیارات سب کیلیے
ایم کیو ایم کا سترہ نکاتی انتخابی منشور
انتخابی سرگرمیاں؟
انتخابی سرگرمیاں کہیں نظر نہیں آرہیں
اسی بارے میں
مسلم لیگ منشور: ججز کی بحالی
14 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد