BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 February, 2008, 01:27 GMT 06:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’طالبان کو مسلح نہ ہونے دیں‘

جنوبی وزیرستان
حکومت قبائلی عمائدین کے ذریعے مقامی طالبان سے معاہدے پر مذاکرات کر رہی ہے
امریکی دفترخارجہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان جنگجوؤں اور جنرل مشرف کی حکومت کے درمیان مذاکرات کی اطلاعات پر کہا ہے کہ امریکہ ایسے کسی بھی معاہدے کے خلاف ہے جس سے طالبان عناصر کو دوبارہ مسلح ہونے کا موقع ملے۔

یہ بات امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان ٹام کیسی نے واشنگٹن میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران کہی۔

گزشتہ کچھ دنوں سے پاکستان کے فوجی حکام بیت اللہ محسود کے زیرقیادت طالبان جنگجؤوں سے قبائلی عمائدین کے ذریعے ایک ممکنہ امن معاہدے پر مذاکرات کررہے ہیں۔اس سے قبل وزیرستان کے قبائلی علاقوں میں خود کو مقامی طالبان قرار دینے والے مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف فوج نے ایک بڑا آپریشن کیا تھا۔

جب امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کی توجہ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کے اس مبینہ بیان کی جانب دلائی گئی جس میں ریٹائرڈ جنرل محمود علی درانی نے طالبان سے بالواسطہ مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے اس معاملے پر امریکہ سے کچھ اختلافات کا بھی اقرار کیا تھا، تو امریکی ترجمان نے کہا کہ کم از کم امریکی پالیسی ایسے امور پر بالکل واضح اور دو ٹوک ہے۔

امریکہ کو کیا قبول ہے کیا نہیں
 امریکہ پاکستان کے ساتھ پیشگی مفاہمت کے بغیر ایسا کوئی دوسرا انتظام نہیں چاہے گا جس سے دونوں کے مشترکہ مقاصد حاصل نہ ہوتے ہوں۔
امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان

ٹام کیسی نے کہا کہ ماضی میں بھی قبائلی عمائدین کے ساتھ اسی مقصد سے معاہدہ کیا گیا تھا اور اس معاہدے کا محور بھی یہی تھا کہ پاکستانی وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں القاعدہ ہوں یا طالبان یا مقامی طور پر ابھرنے والے انتہا پسند، ان کے خلاف سرگرم قوتوں کو یکجا کیا جاسکے۔

تاہم امریکی ترجمان کے مطابق صدر مشرف سمیت سب ہی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ معاہدہ اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکا۔

امریکی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایسی صورت میں امریکہ پاکستان کے ساتھ پیشگی مفاہمت کے بغیر ایسا کوئی دوسرا انتظام نہیں چاہے گا جس سے دونوں کے مشترکہ مقاصد حاصل نہ ہوتے ہوں۔

ترجمان نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض عالمی برادری اور امریکہ کی ہی نہیں ، بلکہ خود پاکستان کی بھی جنگ ہے۔

تاہم ترجمان نے صاف الفاظ میں یہ بات بھی واضح کردی کہ امریکہ ہر صورت میں ایسے کسی بھی معاہدے کے خلاف ہوگا جس سے طالبان عناصر کو دوبارہ منظم اور مسلح ہونے کا موقع ملے یا وہ کسی بھی صورت پاکستانی سرحد کے پار اپنی کارروائیاں جاری رکھیں اور دونوں ملکوں کے مشترکہ مقاصد کی بیخ کنی کرسکیں۔

اسی بارے میں
خود کش حملےمیں پانچ ہلاک
01 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد