’ ہم غریبوں کا بیڑا غرق ہو رہا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی اور جنوبی وزیرستان میں لڑائی کے بعد سے درجنوں خاندان کراچی اور حیدر آباد منتقل ہو رہے ہیں۔ ان خاندانوں میں سے ایک محمد ایوب محسود ہیں۔ دوران منتقلی ان خاندانوں پر کیا بیت رہی ہے اس کا ذکر انہوں نے بی بی سی سے کیا۔ محمد ایوب محسود صرف اپنے خاندان ہی نہیں بلکہ کئی خاندانوں کے ساتھ چار روز قبل ہی حیدر آباد پہنچے ہیں۔ مسافروں سے بھری ہوئی اس بس میں جگہ نہ ہونے کے باعث بچوں کو نشستوں کے نیچے سُلا دیا گیا تھا۔ اگرچہ بس کراچی جا رہی تھی لیکن ایوب حیدر آباد میں اتر گئے۔ اپنے بھرے گھر کو انہوں نے اچانک چھوڑا۔ ایوب نےاپنے گھر کو چھوڑنے کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ گھر سے نکلتے وقت انہوں نے دروازے پر تالا بھی نہیں لگایا۔ ’کسی نے تالا لگایا اور کسی نے نہیں۔ میں تو گھر میں سامان ایسے ہی چھوڑ آیا حتیٰ کہ صندوق بھی‘۔ انہوں نے کہا کہ سامان کے ساتھ وہ اپنی بھیڑ بکری بھی ادھر ہی چھوڑ آئے۔ ’بس اس کے سامنے جو تھوڑی بہت گھاس تھی وہ رکھی اور تھوڑا سا پانی۔ اب معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا نہیں‘۔ ایوب نے کہا کہ’ کوئی حال ہی نہ تھا کہ انسان کوئی چیز اٹھاتا۔ بم گر رہے تھے اور میں نے بال بچوں کو لیا اور نکل پڑے۔قیامت کا حال تھا کیونکہ بم گر رہے تھے اور بھائی بھائی کو نہیں پوچھ رہا تھا۔ ہر ایک اپنی اپنی سوچ رہا تھا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان حالات میں اور کیا کرتا۔ شام کا وقت ہوا تو اہل و عیال کو لے کر نکل پڑا۔ ’جنگل کی طرف نکل پڑا۔ کبھی درخت کے نیچے پناہ لیتے کہ امن ہو جائے تو دوبارہ سفر شروع کریں‘۔ ایوب نے کہا کہ رات پہاڑ ہی میں گزاری۔ اس کے بعد رات کو سفر کرتے تھے اور دن کو سوتے تھے۔ ’دن کو سفر اس لیے نہیں کر سکتے تھے کہ ایک طرف سے اگر گولیاں آتی تھیں تو حکومت رزمک سے گولے چلاتی تھی۔ ایسے میں سفر کرنا نہایت غیر محفوظ تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اتنی سخت سردی میں سفر کرنا بہت دشوار تھا۔ پانی تھا نہیں اور برف کھا کر پیاس بجھائی۔ ’راستے میں کوئی گھر بھی نہ تھا جہاں سے ہم کچھ کھانے کو ہی لے لیتے۔ ہماری عورتیں کچھ چاول اپنے ساتھ لائی تھیں وہی پکا کر بچوں کو کھلایا اور گزارا کیا۔‘ انہوں نے کہا کہ ایک ہی راستہ کھلا تھا جو کہ پہاڑی علاقہ ہے اور نہایت دشوار گزار علاقہ ہے۔’فوج اور طالبان دونوں ہم کو نظر نہیں آتے۔ حکومت دور سے توپخانے سے گولے مارتی ہے۔ اس گولہ باری میں قسمت ہے۔ کوئی بچ جاتا ہے تو کوئی مرتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ دوسری طرف طالبان تھے۔ ’لوگوں کا کیا تھا وہ ادھر حکومت سے ڈرتے ہیں یا طالبان سے ڈرتے ہیں۔ کوئی پتہ نہیں ہے کہ چکر کیا ہے۔ ہم غریب لوگوں کا بیڑا غرق ہو رہا ہے۔ کسی کے پاس کرائے کے پیسے نہیں، روٹی کا ذریعہ نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ سندھ تو آگئے ہیں لیکن ان کو کچھ معلوم نہیں کہ یہاں کیا ہوگا۔ ’بس جو گزرتا ہے وہ غریب لوگوں کے اوپر گزرتا ہے، کوئی مر گیا ادھر، کوئی بچ گیا بس۔‘ سردی اور برف میں پیدل چلنے والی عورتیں بقول محمد ایوب محسود کیا کہہ سکتی ہیں۔ ’ہماری عورتیں ویسے بھی جنگلی عورتیں ہیں، کسی کو پتہ نہیں چلتا ہے کہ کیا ہو گیا۔ کچھ نہیں بولتی تھیں بس بددعا دے رہی تھیں۔ یہ بددعا کرتی تھیں کہ یااللہ ہمارے ساتھ یہ کوئی ظلم کرتا ہے، خدا پاک اس کو ایسے کرے اور ویسے کرے‘۔ | اسی بارے میں ’اوپر سے بمباری، نیچے توپخانے سے مارتے ہیں‘25 January, 2008 | پاکستان جھڑپوں میں کمی، طالبان کی’پسپائی‘ 28 January, 2008 | پاکستان جنوبی وزیرستان میں متعدد ہلاکتیں24 January, 2008 | پاکستان وزیرستان: ہلاکتوں کے متضاد دعوے24 January, 2008 | پاکستان جنوبی وزیرستان میں جھڑپیں25 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||