BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 January, 2008, 07:20 GMT 12:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جھڑپوں میں کمی، طالبان کی’پسپائی‘

 کوہاٹ سرنگ
کوہاٹ سرنگ کے آس پاس جھڑپوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے
پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز اور مقامی عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ پیر کو چوتھے روز بھی جاری ہے تاہم فائرنگ کی شدت میں کمی کے علاوہ بعض علاقوں سے شدت پسندوں کے پسپائی کی بھی اطلاعات ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق آپریشن کے چوتھے دن اگرچہ لڑائی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے تاہم اس کی شدت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز بھی سپینہ تھانہ سے کوہاٹ سرنگ کی طرف پہاڑوں پر تیزی سے پیش قدمی کر رہی ہیں۔

درہ آدم خیل سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ شام سکیورٹی فورسز کی طرف سے کوہاٹ ٹنل کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد پیر کی صبح وہاں ایک بار پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شدت پسندوں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے اتوار کی شام بی بی سی کو بتایا تھا کہ شدید لڑائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے کوہاٹ سرنگ اور اس کے قریب واقع تمام علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرلیا ہے۔ ان کے مطابق سرنگ اور اس کے اردگرد پہاڑوں سے شرپسندوں کا صفایا کر دیا گیا ہے اور اب وہاں سکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے۔

گزشتہ شام سکیورٹی فورسز کی طرف سے کوہاٹ ٹنل کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد پیر کی صبح وہاں ایک بار پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شدت پسندوں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے

مقامی لوگوں کے مطابق عسکریت پسند پہاڑی علاقوں میں قائم مورچے چھوڑ رہے ہیں اور نامعلوم مقام کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ درہ بازار سے ایک عینی شاہد ثاقب جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار سے مسلح جنگجو بازار میں نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے پہلے مسلح عسکریت پسندوں بازار میں گشت کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سپینہ تھانہ سے درہ بازار تک مرکزی سڑک بھی جزوی طور پر کھول دی گئی ہے جس پر گاڑیوں کی آمد روفت بھی شروع ہوگئی ہے۔

کوہاٹ سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے درہ آدم خیل سے متصل کوتل پہاڑوں پر پوزیشنیں سنبھال لی ہیں جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کو چار اطراف سے گھیرے میں لے لیا ہے۔

ادھر درہ آدم خیل کا دورہ کرنے والے پشاور کے صحافیوں کی ایک ٹیم پر بھی مسلح افراد نے کوہاٹ سرنگ کے قریب حملہ کیا ہے جس سے ان کی گاڑی کو نقصان پہنچا تاہم حملے میں تمام صحافی محفوظ رہے۔ اس واقعہ کے عینی شاہد اور بین الااقوامی ٹی وی الجزیرہ سے منسلک سیف الااسلام سیفی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی گاڑی جب کوہاٹ ٹنل کے قریب پہنچی تو قریبی پہاڑی سے ان پر نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی۔ ان کے مطابق فائرنگ سے ان کی گاڑی کو چار گولیاں لگی ہیں تاہم حملے میں تمام صحافی محفوظ رہے۔

درے کے کچھ علاقوں سے مقامی طالبان نے پسپائی اختیار کی ہے

انہوں نے تصدیق کی کوہاٹ ٹنل پر فوج جوانوں کا تو قبضہ برقرار ہے لیکن پہاڑی علاقوں میں مسلح طالبان بدستور موجود ہیں اور سکیورٹی فورسز کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز پچاس سے زائد عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے جو دعوے کر رہی ہے اس کے ثبوت اس علاقے میں نظر نہیں آ رہے ہیں۔

علاقے میں فوجی آپریشن کی وجہ سے تمام بازار ، تعلیمی ادارے ، سرکاری و نیم سرکاری دفاتر گزشتہ چار دن سے مکمل طور پر بند ہیں۔ اس کے علاوہ صوبہ سرحد کو سندھ اور بلوچستان سے ملنے والی انڈس ہائی وے بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے جس سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ درہ آدم خیل میں جمعہ کو ایف سی اور فوج نے اسلحہ اور گولہ بارود سے بھرے ان چار ٹرکوں کی بازیابی کے لیے آپریشن شروع کیا تھا جنہیں جمعرات کو مسلح افراد نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

چار دن سے جاری اس آپریشن میں اب تک سرکاری ذرائع کے مطابق پچاس سے زائد شدت پسند اور پانچ فوجیوں سمیت سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ مقامی طالبان نے آٹھ سکیورٹی اہکاروں کو ہلاک کرنے اور دس فوجیوں کو یرغمال بنانے کا دعوٰی کیا ہے۔

آپریشن کے نتیجے میں مقامی آبادی نے بھی بڑی تعداد میں گھر بار چھوڑ کر گاڑیوں میں اور پیدل پشاور کی طرف نقل مکانی کی ہے اور ان افراد کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل بمباری اور طالبان کے جوابی حملوں کی وجہ سے وہ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
طالبان نڈر اور بے باک ہوگئے
16 January, 2008 | پاکستان
’نوے عسکریت پسند ہلاک‘
18 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد