فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ،حکومت کی تردید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور سےچالیس کلو میٹر دور درہ آدم خیل میں مقامی طالبان اور پاکستانی فوج میں شدید لڑائی جاری ہے اور طالبان نےاغواکیے جانےوالے پندرہ فوجیوں میں سے پانچ کو ہلاک کر نے کا دعوی کیا ہے جبکہ پاکستانی فوج نے اس بات کی تردید کی ہے۔ درہ آدم خیل شہر پر مقامی طالبان کا مکمل کنٹرول ہے۔ فوجی گن شپ ہیلی کاپٹر قریبی پہاڑوں پر طالبان کےمورچوں پر گولہ باری کر رہے ہیں۔ درہ آدم خیل میں طالبان کے کمانڈر عبد الجبار نے بتایا ہے کہ انہوں نے پندرہ پاکستانی فوجیوں کو کوہاٹ سرنگ کے قریب فوجی چوکی پر حملے کے دوران حراست میں لیا تھا جن میں سے پانچ شدید زخمی حالت میں تھے جنہیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ تاہم پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ہاتھوں پانچ فوجیوں کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کوہاٹ سرنگ طالبان کے قبضے میں ہے جو بقول انکے ایف سی کے جوان ان کے قبضے سے چھڑواکر ٹریفک کے لیے کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انکے بقول’ آپریشن دوسرے روز بھی جاری رہا تاہم اس میں دونوں طرف سے تازہ ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ رات کو انہوں نے فوجی کیمپ پر حملہ کیا تھا جسے پسپا کر دیا گیا ہے۔‘ دوسری طرف شہر سے درجنوں خاندان گھر بار چھوڑ کر گاڑیوں میں اور پیدل پشاور کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ ایک بزرگ شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلسل بمباری اور طالبان کے جوابی حملوں کی وجہ سے وہ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ انکے مطابق’حالات حکومت نے خراب کیے ہیں۔ شرپسند حکومت کے ہی پیدا کردہ ہیں۔اگر حکومت دینی مدارس پر حملہ نہ کرتی تو آج طالبان کا سرے سے وجود ہی نہ ہوتا۔‘ پولیس نے درہ آدم خیل سے کئی کلومیٹر دور ناکہ لگایا ہوا ہے اور کسی بھی گاڑی کو شہر کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ایک پولیس اہلکار نے ہمیں آگے جانے سے روک کر معذرت خوانہ انداز میں کہا کہ ’ہمیں میجر صاحب نے حکم دیا ہے کہ کسی کو آنے مت دیں نہیں تو ہم انہیں شوٹ کردیں گے۔‘
دو دن کی بمباری اور توپ خانوں کے استعمال کے باوجود سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو درہ آدم خیل کے مر کزی علاقے سےتقریباً تین کلومیٹر دور اخوروال کے مقام پرگورنمنٹ کالج میں تعینات چوکس حالت میں پایا۔ کالج کے گیٹ پر فوجی کھڑے ہیں جبکہ اندر کئی ٹینک کھڑے نظر آرہے ہیں۔ درہ آدم خیل بازار کے قریب پہنچا تو دو مسلح طالب جنگجو گاڑیوں کی تلاشی لیتے ہوئے نظر آئے جبکہ ایک اور کاندھے پر راکٹ لانچر سنبھالے تیار حالت میں دو زانو ہوکر بیٹھا ہوا تھا۔تعارف کرانے کے بعد انہوں نے اپنے رہنماؤں سے موبائل پر رابطہ کیا۔ شہر میں داخل ہوئے تو بازار کو مکمل طور پر بند پایا جبکہ جگہ جگہ پر لوگ ٹولیوں کی صورت میں کھڑے موجودہ حالات پر تبصرے کر رہے تھے۔تعلیمی ادارے اور سرکاری ادارے بند تھے۔سول ہسپتال میں ماسوا سپروائزر کے کسی ڈاکٹر اور عملے کے دیگر ارکان کو نہیں پایا۔ وارڈ خالی تھے جبکہ جگہ جگہ پر جھڑپوں میں زخمی ہونے والے افراد کا خون پڑا ہوا تھا جبکہ ہسپتال کے عقبی دیوار میں راکٹ لگنے سے سوراخ بن گیا تھا۔ درہ بازار میں سے تھوڑا آگے جاکر گھنے جنگل میں طالبان نظر آئے جو فضاء میں پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹروں پر نظر رکھ کر اپنے آپکو بچانے کی کوشش میں تھے۔انکے پاس راکٹ لانچر اور کلاشنکوف تھے ۔ان طالبان جنگجؤوں کی عمریں تیس سال سے کم معلوم ہو رہی تھیں۔ ہم نے تقریباً پورے علاقے کا دورہ کیا جو بالکل سنسان پڑا تھا۔کوہاٹ سرنگ کی جانب جاتے ہوئے راستے میں بمباری کا نشانہ بننے والے ایک ڈبل کیبن پک اپ نظر آئی جس کے آگے نمبر پلیٹ کی جگہ پر طالبان کا چھوٹا بورڈ لگا ہوا تھا۔گاڑی کے چاروں ٹائر پھٹ چکے تھے اور اندر بہت زیادہ خون پڑا تھا۔
کوہاٹ سرنگ کے قریب پہنچ کر ایک طالب نے لفٹ مانگا جنہوں نے بعد میں ہمیں سرنگ کے قریب پہنچایا۔وہاں پہنچ کر سرنگ کے لیے جدید طرز پر بنی ورکشاپ کی عمارت کو تباہ دیکھا۔ایک کمرے کو مکمل تباہ کیا گیا تھا جبکہ باقی چار کمروں کو آگ لگا کر اسکا تمام سامان لوٹ لیا گیا تھا۔آگ بجھانے کے سلنڈر زمین پر بکھرے ہوئے پڑے تھے جبکہ عمارت کے گیٹ پر سرخ رنگ سے ’لشکر جھنگوی زندہ باد، سپاہ صحابہ زندہ باد‘ کے نعرے لکھے گئے تھے۔ ایک طالب کو اس عمارت کی نگرانی پر مامور کیا گیا تھا جنہوں نے پہلے پہل ہمیں تصاویر لینے سے منع کر دیا مگر دوسرے طالب نے یہ کہہ کر اس سے قائل کر لیا کہ’ہمیں میڈیا پر اپنی کامیابیوں کی تشہیر کرنی چاہیئے۔‘ اس دوران ہیلی کاپٹر آیا جس سے چھپنے کے لیے ہم ایک دیوار کے ساتھ دبک کر بیٹھ گئے۔ہمارے ساتھ گاڑی میں سوار طالب نے اپنا نام اصل نواز بتایا جو ایف اے پاس تھا۔اس نے بتایا کہ وہ بھی فوج میں جانا چاہ رہا تھا لیکن افغانستان پر امریکی حملے نے اس کا ذہن ’جہاد‘ کی طرف مائل کر دیا۔ اس نے دعوی کیا کہ اس نے چند سال قبل مانسہرہ میں ’کشمیر کے جہاد، کے لیے بقول اسکے حکومتی ’سرپرستی‘ میں قائم تربیتی کیمپ میں حربی تربیت حاصل کی تھی۔ بات کرتے کرتے ایک موقع پر انہوں نے استہزائیہ انداز میں کہا’ پاکستانی فوج کے ساتھ لڑ نے کے بعد سوچتا ہوں کہ یہ ہم سے نہیں لڑ سکتی تو اپنی دشمن فوج سے کیسے لڑی گی۔‘ | اسی بارے میں طالبان نڈر اور بے باک ہوگئے16 January, 2008 | پاکستان فوج دوسرا قلعہ بھی چھوڑگئی: طالبان17 January, 2008 | پاکستان مقامی طالبان کی حکومت کو دھمکی04 January, 2008 | پاکستان ’نوے عسکریت پسند ہلاک‘18 January, 2008 | پاکستان ’طالبان اور فرقہ واریت کا گٹھ جوڑ‘20 January, 2008 | پاکستان ’اوپر سے بمباری، نیچے توپخانے سے مارتے ہیں‘25 January, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں طالبان کے آثار17 January, 2008 | پاکستان دیرسکاؤٹس فورس کے چاراہلکار اغواء01 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||