BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 January, 2008, 10:32 GMT 15:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور صرف چالیس کلومیٹر

وزیرستان، فوج (فائل فوٹو)
سینکڑوں فوجی محسود علاقے میں آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں
چھبیس جون د وہزار دو میں افغانستان کی سرحد کے قریب پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ’دہشت گردی‘ کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ ساڑھے پانچ سال میں تقریباً ساڑھے تین سو کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد بالآخر صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور سے چالیس کلومیٹر دور نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل تک پہنچ گئی ہے۔

ملک میں پھیلتی لڑائی
 غیر ملکیوں جنگجؤوں کے خلاف جنوبی وزیرستان تک محدود جنگ اب بالعموم پورے پاکستان میں اور بالخصوص شمالی وزیرستان، مہمند، باجوڑ، کرم ایجنسیوں، سوات، درہ آدم خیل، ٹانک، بنوں اور لکی مروت کے مضافاتی علاقوں تک پہنچ گئی ہے۔
یہ جنگ اب کور کمانڈر ہاؤس اور گورنر ہاؤس سے فقط چالیس کلومیٹر کی دوری پر لڑی جارہی ہے جہاں پر مبینہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نہ صرف فوجی، سیاسی اوراقتصادی منصوبہ بندی ہوتی ہے بلکہ قبائلی علاقوں کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے حوالے سے اعلیٰ امریکی عہداروں سے لے کر دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں شامل مختلف ممالک کے اعلیٰ حکام کو ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بٹھا کر انہیں قائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان کے قبائلی اور بندوبستی علاقوں سے ’دہشت گردی‘ کے خاتمہ میں کافی حد تک کامیابی حاصل ہوچکی ہے، اور یوں ان سےاس ’موذی مرض‘ کے مکمل خاتمہ کے لیے مزید مالی اور تکنیکی امداد دینےکی ضرورت پر زور دیا جا تا ہے۔

درہ آدم خیل میں طالبان کا ایک منظم قوت کے طور ابھرنا اور اسکی سرکوبی کے لیے سکیورٹی فورسز کی بھاری توپخانوں اور ہیلی کاپٹروں کی بمباری کےدھؤوں نے سرکاری پروجیکٹروں پر کامیابیوں کی چلنے والی سلائیڈوں کو بظاہر دھندلا کے رکھ دیا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں چھبیس جون دو ہزار دو کا فوجی آپریشن فقط کئی سوغیر ملکیوں کے خلاف شروع کیا گیا تھا جس میں دو عرب جنگجو جبکہ دس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے مگر آج ساڑھے پانچ سال بعد اس جنگ کے مرکزی کردار یعنی غیر ملکی جنگجو بظاہر پس منظر میں چلے گئے ہیں اور انکی جگہ پر پاکستانی فوج اور پاکستانی طالبان ایک دوسرے کے مدمقابل آگئے ہیں۔

فوج اور قبائیلی مد مقابل
 جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں کژہ پنگہ میں چھبیس جون دو ہزار دو کا فوجی آپریشن فقط کئی سوغیر ملکیوں کے خلاف شروع کیا گیا تھا جس میں دو عرب جنگجو جبکہ دس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے مگر آج ساڑھے پانچ سال بعد اس جنگ کے مرکزی کردار یعنی غیر ملکی جنگجو بظاہر پس منظر میں چلے گئے ہیں اور انکی جگہ پر پاکستانی فوج اور پاکستانی طالبان ایک دوسرے کے مدمقابل آگئے ہیں۔
غیر ملکیوں جنگجؤوں کے خلاف جنوبی وزیرستان تک محدود جنگ اب بالعموم پورے پاکستان میں اور بالخصوص شمالی وزیرستان، مہمند، باجوڑ، کرم ایجنسیوں، سوات، درہ آدم خیل، ٹانک، بنوں اور لکی مروت کے مضافاتی علاقوں تک پہنچ گئی ہے۔ ان علاقوں میں مقامی افراد پر مشتمل طالبان مضبوط اور منظم قوت کے طور پرمنظر عام پر آئے ہیں۔ بلکہ انہوں نے وہاں پر تربیتی مراکز بھی قائم کیے ہیں۔انہوں نے اپنی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے بعض علاقوں پر مکمل قبضہ کیا ہے جو سکیورٹی فورسز کے لیے ’نوگو ایریاز‘ میں تبدل ہوچکے ہیں۔

درہ آدم خیل میں گزشتہ دو سال میں طالبان سرگرم عمل ہوئے ہیں جنہوں نے لڑکیوں کے سکولوں، حجام، منشیات، سی ڈیز کی دکانوں کو بارہا بم حملے کا نشانہ بنایا ہے مگر مقامی انتظامیہ ان دھماکوں کی آوازیں سننے کے باوجود عملاً خاموش رہی۔

درہ آدم خیل میں طالبان کا ابھرنا نہ صرف اس لحاظ سے قابل تشویش ہے کہ یہ جنگ نہ صرف پشاور تک پہنچ سکتی ہے بلکہ طالبان کو ایک ایسی اہم شاہراہ بھی مِل گئی ہے جو کوہاٹ کی سرنگ کے ذریعےصوبہ سرحد کو اپنے جنوبی اضلاع، صوبہ سندھ اوربلوچستان سے ملاتی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق طالبان نے سرنگ کے اندر بارود سے بھری پک اپ کو اڑا کر صوبہ سرحد کا رابطہ ان علاقوں کے ساتھ اب مکمل طور پر منقطع کردیا ہے۔

اس وقت ہر ایک کے ذہن میں صرف یہی ایک سوال محوِگردش ہے کہ ساڑھے پانچ سال قبل جنوبی وزیرستان سے شروع کی جانے والی جنگ درہ آدم خیل تک پہنچنے کے بعد نجانے کتنی ہولناکیوں کو اپنےساتھ لے کر کہاں ختم ہو گی۔

اسی بارے میں
نیک محمد: ایک سوداگر طالب
18 June, 2004 | پاکستان
بلوچستان اسمبلی فوج پر برہم
24 September, 2003 | پاکستان
طالبان نڈر اور بے باک ہوگئے
16 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد