پشاور صرف چالیس کلومیٹر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھبیس جون د وہزار دو میں افغانستان کی سرحد کے قریب پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ’دہشت گردی‘ کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ ساڑھے پانچ سال میں تقریباً ساڑھے تین سو کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد بالآخر صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور سے چالیس کلومیٹر دور نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل تک پہنچ گئی ہے۔
درہ آدم خیل میں طالبان کا ایک منظم قوت کے طور ابھرنا اور اسکی سرکوبی کے لیے سکیورٹی فورسز کی بھاری توپخانوں اور ہیلی کاپٹروں کی بمباری کےدھؤوں نے سرکاری پروجیکٹروں پر کامیابیوں کی چلنے والی سلائیڈوں کو بظاہر دھندلا کے رکھ دیا ہے۔ جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں چھبیس جون دو ہزار دو کا فوجی آپریشن فقط کئی سوغیر ملکیوں کے خلاف شروع کیا گیا تھا جس میں دو عرب جنگجو جبکہ دس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے مگر آج ساڑھے پانچ سال بعد اس جنگ کے مرکزی کردار یعنی غیر ملکی جنگجو بظاہر پس منظر میں چلے گئے ہیں اور انکی جگہ پر پاکستانی فوج اور پاکستانی طالبان ایک دوسرے کے مدمقابل آگئے ہیں۔
درہ آدم خیل میں گزشتہ دو سال میں طالبان سرگرم عمل ہوئے ہیں جنہوں نے لڑکیوں کے سکولوں، حجام، منشیات، سی ڈیز کی دکانوں کو بارہا بم حملے کا نشانہ بنایا ہے مگر مقامی انتظامیہ ان دھماکوں کی آوازیں سننے کے باوجود عملاً خاموش رہی۔ درہ آدم خیل میں طالبان کا ابھرنا نہ صرف اس لحاظ سے قابل تشویش ہے کہ یہ جنگ نہ صرف پشاور تک پہنچ سکتی ہے بلکہ طالبان کو ایک ایسی اہم شاہراہ بھی مِل گئی ہے جو کوہاٹ کی سرنگ کے ذریعےصوبہ سرحد کو اپنے جنوبی اضلاع، صوبہ سندھ اوربلوچستان سے ملاتی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق طالبان نے سرنگ کے اندر بارود سے بھری پک اپ کو اڑا کر صوبہ سرحد کا رابطہ ان علاقوں کے ساتھ اب مکمل طور پر منقطع کردیا ہے۔ اس وقت ہر ایک کے ذہن میں صرف یہی ایک سوال محوِگردش ہے کہ ساڑھے پانچ سال قبل جنوبی وزیرستان سے شروع کی جانے والی جنگ درہ آدم خیل تک پہنچنے کے بعد نجانے کتنی ہولناکیوں کو اپنےساتھ لے کر کہاں ختم ہو گی۔ | اسی بارے میں قبائلی علاقے: کچھ ہونے والا ہے؟22 February, 2004 | پاکستان قبائل کے کارروائی کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں10 January, 2004 | پاکستان طالبان دوبارہ اکٹھے ہو رہے ہیں13 December, 2003 | پاکستان نیک محمد: ایک سوداگر طالب18 June, 2004 | پاکستان بلوچستان اسمبلی فوج پر برہم24 September, 2003 | پاکستان طالبان نڈر اور بے باک ہوگئے16 January, 2008 | پاکستان محسود میں جیٹ طیاروں کی بمباری03 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||