قبائلی علاقے: کچھ ہونے والا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ذرائع ابلاغ میں ایک بار پھر القاعدہ اور طالبان کے خلاف ممکنہ بڑی کارروائی اور اسامہ بن لادن اور ملا عمر کے گرد گھیرا تنگ ہونے کی خبریں گرم ہیں جبکہ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے ان کی سختی سے تردید کی ہے۔ فوجی ترجمان کا کہنا ہے نہ تو نئے دستے علاقے میں بھیجے جا رہے ہیں اور نہ ہی کوئی ایسا ارادہ ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں اور ایک برطانوی اخبار میں اتوار کے روز پاکستانی اور امریکی خفیہ اداروں کے حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایک بڑے آپریشن کی تیاری ہو رہی ہے۔ رائٹرز نے خبر دی ہے کہ پاکستانی حکام نے قبائلی علاقوں میں ایک بڑی کارروائی کے لئے نیم فوجی دستوں کی امداد طلب کر لی ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں پناہ لئے ہوئے القاعدہ اور طالبان کے افراد کے خلاف کاروائی کی تیاریاں مکمل ہیں جو کسی بھی لمحے شروع کی جا سکتی ہیں۔ اے پی کی مطابق اس نئی کارروائی کا مقصد اس علاقے میں القاعدہ اور طالبان کے چھپے ہوئے ارکان کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے جہاں اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی موجودگی کا بھی شبہ ہے۔ میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا فوج کسی ایک خاص شخص کے خلاف نہیں بلکہ وہ عمومی طور پر دہشت گردی کا خاتمہ چاہتی ہے۔ اسامہ بن لادن کے بارے میں اطلاعات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سب غلط ہے۔ اےایف پی نے برطانوی روزنامے سنڈے ایکسپریس کی خبر کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی اور برطانوی افواج نے اسامہ بن لادن کو افغانستان کی سرحد کے قریب گھیرے میں لے لیا ہے۔ اخبار نے امریکی خفیہ اداروں میں ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسامہ اور ان کے پچاس ساتھی کوئٹہ کے شمال میں ایک سولہ مربع کلومیٹر کے علاقے میں گھر گئے ہیں۔ خبر میں مزید لکھا ہے کہ اسامہ یہاں سے دو سو چالیس کلومیٹر جنوب سے ایک ماہ قبل ٹوبہ کاکڑ کے اِس پہاڑی علاقے میں پہنچے تھے۔ اخبار کے مطابق انہوں نے واشنگٹن میں محکمۂ دفاع سے رابطہ کیا لیکن محکمۂ کے ترجمان نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ رائٹرز کی خبر کے مطابق قبائلی علاقے میں حکام نے ہفتے کو آٹھ ہزار نیم فوجی دستوں کا مطالبہ کیا ہے جبکہ چار ہزار نیم فوجی پہلے سے وہاں موجود ہیں۔ ایجنسی نے کہا کہ یہ نیا مطالبہ صدر مشرف کی طرف قبائلی عمائدین سے القاعدہ ارکان کی گرفتاری میں تعاون کی اپیل کے تین دن بعد کیا گیا۔ خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی حکام موسم بہار میں افغانستان میں ایک بڑی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں جو اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے کی کوششوں کی کڑی ہو سکتی ہیں۔ قبائلی علاقے وانا میں عینی شاہدوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نیم فوجی دستوں کے سکاؤٹ بڑی سڑک کے کنارے خندقیں کھود رہے ہیں اور اہم راستوں پر چوکیاں قائم کی جا رہی ہیں۔ ایک شہری نے رائٹرز کو بتایا کے علاقے کے لوگوں میں کافی تشویش پائی جا رہی لیکن ابھی تک وہاں معمول کے مطابق کاروبار جاری ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے پاکستانی خفیہ اداروں کے ایک اعلیٰ اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ متوقع کارروائی کا بڑا مقصد اسامہ کی گرفتاری نہیں بلکہ ایسی معلومات کا حصول ہے جو بالآخر سب سے ’بڑی برائی‘ تک لے جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||