BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 November, 2003, 09:39 GMT 14:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر مشرف کے بیان پر قبائلیوں میں تشویش

قبائلی
کیا قبائلی اپنی خودمختاری برقرار رکھ سکیں گے؟

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے اس حالیہ بیان پر، کہ نیم خودمختار قبائلی علاقوں کو حکومت کے کنٹرول میں نہ آنے کی صورت میں ملک پر بمباری ہوسکتی، تشویش اور حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ساتھ میں صدر نے یہ بھی کہا کہ قبائلی علاقے بتدریج ختم کر دیئے جائیں گے جس سے اس علاقے کے لوگوں کے حکومتی عزائم کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد سے پاکستان کے قبائلی علاقوں نے جو اہمیت اختیار کی اس میں صدر پرویز مشرف کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی بھی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

مغربی ذرائع پہلے ہی سے اسے پاکستان کا ’وائلڈ ویسٹ‘ قرار دے رہے ہیں۔ طالبان کی بظاہر ناختم ہونے والی کارروائیوں کی وجہ سے اس علاقے کی جانب بار بار انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں جبکہ حکومت پاکستان اس کی تردید کی اپنی سی کوشش کرتی رہتی ہے۔

لیکن گزشتہ دنوں اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت میں جس قسم کی باتیں صدر مشرف نے قبائلی علاقوں کے بارے میں کیں ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اس تردید کے عمل کو جاری رکھنے اور دنیا کو یہ باور کرانے میں کہ قبائلی علاقے طالبان کی پناہ گاہ نہیں مشکل پیش آرہی ہے۔ ورنہ اتنا سخت بیان دینے کی ضرورت محسوس نہ کی جاتی۔

مبصرین کے خیال میں اس کا ایک اور مقصد طالبان کی حمایت کرنے والے عناصر کو چاہے وہ حکومت میں ہیں یا اس سے باہر یہ باور کرانا ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہیں ہیں اور ملک کے لیے اس کے تنائج اچھے نہیں ہوں گے۔

ان کا جملہ کہ ’یہ ایک علاقہ ہے جو ہمیں ڈبو سکتا ہے‘ تشویش پیدا کرنے کے لئے کافی ہے۔

جہاں تک قبائلی علاقوں کو بندوبستی بنانے کی بات ہے تو ماضی میں بھی کئی مرتبہ اس کی کوشش کی گئی لیکن حکومت کو اس میں کامیابی نہیں ملی تھی۔ اس کی کئی وجوہات تھیں جن میں نوکرشاہی اور سمگلنگ مافیا کے مفادات کا تحفظ بھی ایک بڑی وجہ مانی جاتی ہے۔

اس مرتبہ حکومت کو بظاہر اس سلسلے میں امریکہ کی بھی مدد حاصل ہے۔ امریکی امداد سے قبائلی علاقوں میں پہلے ہی سڑکوں، تعلیم اور دیگر شعبوں میں ترقیاتی کام شروع ہوچکے ہیں۔ کیا قبائلی اس کو ماننے کو تیار ہوجائیں گے۔ اس بارے میں چند قبائلی اور پشاور کے لوگوں کے تاثرات جاننے چاہے تو ملاجلا ردعمل ملا۔

کچھ کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کو بدنام کرنے والے ہی حکومتی اہلکار ہیں۔ ان میں سے چند کے خیال میں قبائلی علاقوں کی حثیت ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ سمگلنگ میں ملوث لوگ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ جبکہ کچھ اور کا موقف تھا کہ قبائلی اسلحہ رکھنے جیسی روایات سے باآسانی دستبردار نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنی آزادی کی خاطر وہ انگریزوں سے لڑے ہیں تو کیسے اب اسے چھوڑ دیں گے۔ دوسری جانب اس سرکاری منصوبے کے حامی بھی موجود ہیں جن کا کہنا ہے کہ اس سے اس علاقے کو مزید بدنام ہونے سے بچایا جا سکے گا۔

صدر مشرف کے اعلان کو کئی قبائلی امریکی ایجنڈا کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔ تحریک اتحاد قبائل خیبر ایجنسی کے ایک رہنما ملک خان مرجان کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کا ایجنڈا امریکہ کا ایجنڈا ہے۔ ’وہ امریکہ کو خوش کرنے کی خاطر اس ملک کو تباہی کی جانب لے جا رہے ہیں۔‘

البتہ معتدل رائے رکھنے والے قبائلی بھی اسے اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور مانتے ہیں۔ قبائلی صحافی سیلاب محسود کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اور پشاور کے ایرکنڈیشن کمروں میں بیٹھے حکام فیصلہ کرتے رہتے ہیں۔ ’لیکن یہ بات اتنی آسان نہیں۔ قبائلی اپنی آّزادی اور مذہب سے بے حد پیار کرتے ہیں اور اس کے تحفظ کے لئے اپنی جان اور مال کی ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں کے خاتمے کے ایک منصوبے پر مشرف حکومت پہلے سے کام کر رہی ہے جس کے تحت وہاں گزشتہ برس بلدیاتی انتخابات بھی منعقد کئے جانا تھے لیکن یہ سب کچھ تعطل کا شکار ہے۔ حکومت کے ذہن میں اس سلسلے میں کیا نظام الاوقات ہے یہ واضح نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد