درہ آدم خیل کا آنکھوں دیکھا حال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی اردو کے عبدالحئی کاکڑ نے پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں مقامی طالبان کے ہمراہ ان کے خلاف جاری آپریشن کے دوران علاقے کا دورہ کیا۔ دورے کا احوال پولیس نے درہ آدم خیل سے کئی کلومیٹر دور ناکہ لگایا ہوا ہے اور کسی بھی گاڑی کو شہر کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ایک پولیس اہلکار نے ہمیں آگے جانے سے روک کر معذرت خوانہ انداز میں کہا کہ ’ہمیں میجر صاحب نے حکم دیا ہے کہ کسی کو آنے مت دیں نہیں تو ہم انہیں شوٹ کردیں گے۔‘ مقامی طالبان نے کوہاٹ سرنگ پر ابھی قبضہ کیا ہوا ہے اور فوج اسے چھڑانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دو دن کی بمباری اور توپ خانوں کے استعمال کے باوجود سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو درہ آدم خیل کے مر کزی علاقے سےتقریباً تین کلومیٹر دور اخوروال کے مقام پرگورنمنٹ کالج میں تعینات چوکس حالت میں پایا۔ کالج کے گیٹ پر فوجی کھڑے ہیں جبکہ اندر کئی ٹینک کھڑے نظر آرہے ہیں۔ درہ آدم خیل بازار کے قریب پہنچا تو دو مسلح طالب جنگجو گاڑیوں کی تلاشی لیتے ہوئے نظر آئے جبکہ ایک اور کاندھے پر راکٹ لانچر سنبھالے تیار حالت میں دو زانو ہوکر بیٹھا ہوا تھا۔تعارف کرانے کے بعد انہوں نے اپنے رہنماؤں سے موبائل پر رابطہ کیا۔ شہر میں داخل ہوئے تو بازار کو مکمل طور پر بند پایا جبکہ جگہ جگہ پر لوگ ٹولیوں کی صورت میں کھڑے موجودہ حالات پر تبصرے کر رہے تھے۔تعلیمی اور سرکاری ادارے بند تھے۔
سول ہسپتال میں ماسوا سپروائزر کے کوئی ڈاکٹر یا عملے کا رکن نظر نہیں آیا۔ وارڈ خالی تھے جبکہ جگہ جگہ پر جھڑپوں میں زخمی ہونے والے افراد کا خون پڑا ہوا تھا جبکہ ہسپتال کے عقبی دیوار میں راکٹ لگنے سے سوراخ بن گیا تھا۔ درہ بازار میں سے تھوڑا آگے جاکر گھنے جنگل میں طالبان نظر آئے جو فضاء میں پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹروں پر نظر رکھ کر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں تھے۔انکے پاس راکٹ لانچر اور کلاشنکوف تھے ۔ان طالبان جنگجؤوں کی عمریں تیس سال سے کم معلوم ہو رہی تھیں۔ ہم نے تقریباً پورے علاقے کا دورہ کیا جو بالکل سنسان پڑا تھا۔کوہاٹ سرنگ کی جانب جاتے ہوئے راستے میں بمباری کا نشانہ بننے والے ایک ڈبل کیبن پک اپ نظر آئی جس کے آگے نمبر پلیٹ کی جگہ پر طالبان کا چھوٹا بورڈ لگا ہوا تھا۔گاڑی کے چاروں ٹائر پھٹ چکے تھے اور اندر بہت زیادہ خون پڑا تھا۔ کوہاٹ سرنگ کے قریب پہنچ کر ایک طالب نے لفٹ مانگی جنہوں نے بعد میں ہمیں سرنگ کے قریب پہنچایا۔وہاں پہنچ کر سرنگ کے لیے جدید طرز پر بنی ورکشاپ کی عمارت کو تباہ دیکھا۔ایک کمرے کو مکمل تباہ کیا گیا تھا جبکہ باقی چار کمروں کو آگ لگا کر اسکا تمام سامان لوٹ لیا گیا تھا۔آگ بجھانے کے سلنڈر زمین پر بکھرے ہوئے پڑے تھے جبکہ عمارت کے گیٹ پر سرخ رنگ سے ’لشکر جھنگوی زندہ باد، سپاہ صحابہ زندہ باد‘ کے نعرے لکھے گئے تھے۔
ایک طالب کو اس عمارت کی نگرانی پر مامور کیا گیا تھا جنہوں نے پہلے پہل ہمیں تصاویر لینے سے منع کر دیا مگر دوسرے طالب نے یہ کہہ کر اس سے قائل کر لیا کہ’ہمیں میڈیا پر اپنی کامیابیوں کی تشہیر کرنی چاہیے۔‘ اس دوران ہیلی کاپٹر آیا جس سے چھپنے کے لیے ہم ایک دیوار کے ساتھ دبک کر بیٹھ گئے۔ہمارے ساتھ گاڑی میں سوار طالب نے اپنا نام اصل نواز بتایا جو ایف اے پاس تھا۔اس نے بتایا کہ وہ بھی فوج میں جانا چاہ رہا تھا لیکن افغانستان پر امریکی حملے نے اس کا ذہن ’جہاد‘ کی طرف مائل کر دیا۔ اس نے دعوی کیا کہ اس نے چند سال قبل مانسہرہ میں ’کشمیر کے جہاد‘ کے لیے بقول اس کے حکومتی ’سرپرستی‘ میں قائم تربیتی کیمپ میں حربی تربیت حاصل کی تھی۔ بات کرتے کرتے ایک موقع پر انہوں نے استہزائیہ انداز میں کہا |
اسی بارے میں درہ آدم خیل: لڑائی جاری، ہلاکتوں کی تصدیق27 January, 2008 | پاکستان درہ آدم خیل میں فوج کی تلاشی مہم25 January, 2008 | پاکستان درہ آدم خیل میں شدید لڑائی25 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||