درہ آدم خیل آپریشن، ہلاکتوں کے متضاد دعوے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز اور مقامی شدت پسندوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور فوجی حکام نے دعوٰی کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شدید لڑائی کے بعد کوہاٹ سرنگ اور اس کے اردگرد واقع پہاڑوں کا دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ حکام نے تازہ لڑائی میں پچیس شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔تاہم دوسری طرف مقامی طالبان نے سرکاری دعوؤں کی تردید کی ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے اتوار کی شام بی بی سی کو بتایا کہ شدید لڑائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے کوہاٹ سرنگ اور اس کے قریب واقع تمام علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرلیا ہے۔ ان کے مطابق سرنگ اور اس کے اردگرد پہاڑوں سے شرپسندوں کا صفایا کر دیا گیا ہے اور اب وہاں سکیورٹی فورسز کا کنٹرول ہے۔ مقامی لوگوں کا بھی کہنا ہے کہ بعض پہاڑی علاقوں میں مسلح افراد کو اترتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ علاقے میں آپریشن جاری رہے گا اور اتوار کو ہونے والی کارروائی میں کوئی اہلکار ہلاک نہیں ہوا اور صرف دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے اتوار کو ہی بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اب تک کے آپریشن میں پانچ فوجیوں سمیت سات سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت اور دس کو یرغمال بنائے جانے کی تصدیق بھی کی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے درہ آدم خیل میں فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور یرغمال بنائے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس سے قبل حکومت اس بات کی سختی سے تردید کرتی رہی ہے۔
دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے کوہاٹ ٹنل پر سکیورٹی فورسز کے قبضے کے دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کر کے دعوٰی کیا کہ گزشتہ رات سے جاری لڑائی میں اب تک آٹھ سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ ان کے صرف دو ساتھی زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق لڑائی اب کوتل کے پہاڑوں پر کوہاٹ کی جانب منتقل ہورہی ہے۔طالبان ترجمان نے یہ دعوٰی بھی کیا کہ چار مبینہ خودکش حملہ آوار بارود سے بھری ہوئی گاڑیوں سمیت کوہاٹ ٹنل کے آس پاس گشت کررہے ہیں اور انہیں جب بھی حکم ملے گا وہ سکیورٹی فورسز پر حملہ کریں گے۔ ادھر آپریشن کی وجہ سے علاقے میں تمام بازار ، تعلیمی ادارے ، سرکاری و نیم سرکاری دفاتر گزشتہ تین دن سے مکمل طور پر بند ہیں۔ اس کے علاوہ صوبہ سرحد کو سندھ اور بلوچستان سے ملنے والی انڈس ہائی وے تیسرے روز بھی ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند ہے جس سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ شہر سے درجنوں خاندان گھر بار چھوڑ کر گاڑیوں میں اور پیدل پشاور کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ ایک بزرگ شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلسل بمباری اور طالبان کے جوابی حملوں کی وجہ سے وہ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق’حالات حکومت نے خراب کیے ہیں۔ شرپسند حکومت کے ہی پیدا کردہ ہیں۔اگر حکومت دینی مدارس پر حملہ نہ کرتی تو آج طالبان کا سرے سے وجود ہی نہ ہوتا۔‘ اس سے قبل درہ آدم خیل میں طالبان کے کمانڈر عبدالجبار نے بی بی سی اردو کے عبدالحئی کاکڑ کو بتایا تھا کہ انہوں نے پندرہ پاکستانی فوجیوں کو کوہاٹ سرنگ کے قریب فوجی چوکی پر حملے کے دوران حراست میں لیا تھا جن میں سے پانچ شدید زخمی حالت میں تھے جنہیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ بی بی سی اردو کے نمائندے عبدالحئی کاکڑ نے یرغمال بنائے جانے والے فوجیوں سے ملاقات بھی کی تھی جن میں ان فوجیوں کا کہنا تھا کہ اگر وہ سب سپاہی ہیں اور اگر انہیں رہا کر دیا گیا تو وہ مزید فوج کی نوکری نہیں کریں گے۔ | اسی بارے میں فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ،حکومت کی تردید26 January, 2008 | پاکستان طالبان نڈر اور بے باک ہوگئے16 January, 2008 | پاکستان فوج دوسرا قلعہ بھی چھوڑگئی: طالبان17 January, 2008 | پاکستان مقامی طالبان کی حکومت کو دھمکی04 January, 2008 | پاکستان ’نوے عسکریت پسند ہلاک‘18 January, 2008 | پاکستان ’طالبان اور فرقہ واریت کا گٹھ جوڑ‘20 January, 2008 | پاکستان ’اوپر سے بمباری، نیچے توپخانے سے مارتے ہیں‘25 January, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں طالبان کے آثار17 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||