’ ہم نے فوج کی نوکری نہیں کرنی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے علاقے درہ آدم خیل میں جن فوجیوں کو یرغمال بنایا گیا ہے ان سے ملنے کے لیے سفر کا آغاز کچھ یوں ہوا کہ طالب کمانڈر نے، جو اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے پر مصر تھے، مجھے اپنی کیمو فلاج گاڑی کی پچھلی نشست پر بٹھایا اور گاڑی سٹارٹ کرتے ہی عربی زبان میں نعتوں کی کیسٹ لگا دی۔ ہمارے ساتھ گاڑی میں دو اور طالبان جنگجو بھی بیٹھے ہوئے تھے جن میں سے ایک نے تین راتیں جاگ کر گزاری تھیں۔ وہ کچھ دیر کے بعد اونگھتے ہوئے نیند کی آغوش میں چلے گئے جبکہ اگلی نشت پر براجمان طالب نے چْپ کا روزہ واپس پہنچ کر بھی نہیں توڑا۔ واکی ٹاکی پر پیغامات دیے جا رہے تھے۔ تھوڑی سی مسافت طے کرنے کے بعد حماس کے جنگؤوں کی طرز پر کالے نقاب اور کمانڈو وردی میں ملبوس ایک بارعب نوجوان بھی ہمارے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئے جنکا تعارف کمانڈر عبدالجبار کے طور پر کرایا گیا۔ واکی ٹاکی پر سبھی طالبان کو حکم دیا گیا کہ وہ فضا میں موجود فوجی ہیلی کاپٹر کی پرواز سے ہمیں مسلسل آگاہ کرتے رہیں۔ جوں جوں گاڑی برق رفتاری سے ایک اونچے پہاڑی سلسلے پر بڑھنے لگی خوف اور عدم تحفظ کی وجہ سےمیرے دل کی دھڑکن اتنی ہی تیز ہوتی گئی۔ ہم نے نصف راستے طے ہی کیا تھا کہ فوجی ہیلی کاپٹر نے ہمارا پیچھا شروع کر دیا تو ہمیں تین مرتبہ سنگلاخ چٹانوں کے پیچھے پناہ لینا پڑی۔ ہیلی کاپٹر اور ہمارے درمیان آنکھ مچولی کا یہ سلسلہ چالیس منٹ تک جاری رہا۔
بالآخر ہم اس مقام پر پہنچے جہاں پر دس یرغمال فوجیوں کو رکھا گیا تھا۔ہمیں جس مکان میں لے جایا گیا وہاں مسلح طالبان پہرہ دے رہے تھے۔ مجھے ایک کمرے میں بیٹھنے کا حکم دیا گیا لیکن خوف اور سردی کی شدت سے میں باہر صحن میں ہی کھڑا رہا۔ ایک طالب نے دروازہ کھول کر فوجی وردی میں ملبوس ایک ادھیڑ عمر باریش فوجی کو باہر نکالا جس کے ہاتھ پیٹھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔ کمانڈر نے تمام فوجیوں کو باہر نکالنے کا حکم دیا جس پر مکان میں موجود تمام مغوی فوجیوں کو ایک ایک کرکے باہر نکالا گیا۔ سب کے ہاتھ پیچھے باندھے گئے تھے جبکہ بعض کے پاؤں میں رسیاں بھی تھیں۔ زیادہ تر کی وردیوں پر خون کے دھبے تھے اور بعض کے چہرے بھی خون آلود تھے۔شدید سردی اور خوف کی وجہ سے وہ سبھی کانپ رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سپاہی ہیں۔ ان میں سے ایک نے بتایا: ’ کل (جمعہ پچیس جنوری کو) ہم کوہاٹ سرنگ کے اوپر قائم چوکی میں تھے کہ طالبان نے محاصرہ کر کے ہمیں ہتھیار ڈالنے کو کہا ۔میں نے صوبیدار صاحب کو جو فائرنگ میں ہلاک ہوچکے ہیں ہتھیار ڈالنے کو کہا لیکن وہ نہ مانے اور ہمیں مزاحمت کرنے کا حکم دیا، جسکے بعد جھڑپ ہوئی جس میں سات فوجی ہلاک ہوگئے اور ہم پندرہ کو یر غمال بنا لیا گیا۔‘ شاید طالبان کے خوف اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سپاہی کہتے رہے کہ فوج نے ہمیں دھوکہ دیا کیونکہ وہ امریکہ کے حکم پر’مجاہدین‘ کو مار رہے ہیں۔ ایک دوسرے سپاہی نے گلوگیر انداز میں گویا ہوئے کہ ’ ہم نے فوج کی نوکری نہیں کرنی ہے اور اپنے آنے والی نسل کو بھی کرنے نہیں دیں گے۔ میری ماں نے پیغام بیھجا تھا کہ نوکری چھوڑ کے واپس آجاؤ۔ میں جا ہی رہا تھا کہ یہ واقعہ پیش آ گیا۔‘ ایک اور فوجی سے سے اس کی حالت پوچھی تو لفظ آنسوؤں میں دب کر ان کے حلق ہی میں اٹک کر رہ گئے ۔ وہ صرف اتنا کہہ سکے: ’ ہم، م، ماری حالت تو آپ دیکھ ہی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘ گفتگو کے دوران یک مرتبہ تمام سپاہی ایک ساتھ گویا ہوئے: ’ہمیں رہا کر کے صرف اتنا وقت دیا جائے کہ ہم وردی نکال سکیں۔ اس کے بعد زندگی بھر کے لیے فوج کو خیر باد کہہ دیں گے۔‘ ٹھٹھرتے ہوئے ایک سپاہی نے طالبان سے بچتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں ایک اچھی سٹوری کرنے والے لالچی صحافی کے انسانی جذبات کو یہ کہہ کر جھنجھوڑ دیا کہ ’ سر، میں کچھ دیر کے لیے دھوپ میں بیٹھ سکتا ہوں۔‘ | اسی بارے میں طالبان نڈر اور بے باک ہوگئے16 January, 2008 | پاکستان فوج دوسرا قلعہ بھی چھوڑگئی: طالبان17 January, 2008 | پاکستان مقامی طالبان کی حکومت کو دھمکی04 January, 2008 | پاکستان ’نوے عسکریت پسند ہلاک‘18 January, 2008 | پاکستان ’طالبان اور فرقہ واریت کا گٹھ جوڑ‘20 January, 2008 | پاکستان ’اوپر سے بمباری، نیچے توپخانے سے مارتے ہیں‘25 January, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں طالبان کے آثار17 January, 2008 | پاکستان دیرسکاؤٹس فورس کے چاراہلکار اغواء01 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||