درہ آدم خیل میں شدید لڑائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں فرنٹیئر کانسٹیبلری اور مقامی طالبان کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے جس میں اب تک قریباً پچیس شدت پسند اور دو ایف سی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن جمعرات کو چھینے گئےگولہ بارود سے بھرے چار فوجی ٹرکوں کی بازیابی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ترجمان نے اس آپریشن کو تلاشی مہم قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ علاقے میں باقاعدہ فوجی آپریشن نہیں ہو رہا۔ فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کو اس آپریشن میں ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ آپریشن کب تک جاری ہےگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولٹیکل انتظامیہ کی جانب سے جرگے کے ذریعے مسئلہ حل نہ ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقہ کا محاصرہ کر کے آپریشن شروع کیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے ان اطلاعات کی بھی تردید کی کہ طالبان نے سکیورٹی فورسز کے کچھ اہلکاروں کو یرغمال بنایا ہے۔ دوسری طرف تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کہ مقامی طالبان نے کوہاٹ سرنگ کے قریب واقع پہاڑ پر موجود سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر حملہ کیا ہے جس میں بقول ان کے سات اہلکاروں کو ہلاک جبکہ چودہ کو یرغمال بنا لیا گیا۔ ان کے دعوے کے مطابق درہ آدم خیل کے اخروال کے علاقے میں سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں ایک فوجی ہلاک جبکہ چار زخمی ہوگئے ہیں تاہم ان کا کوئی ساتھی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اغواء کیے جانے والے اسلحہ اور بارود سے لدے ٹرک اب بھی محفوظ مقام پر طالبان کے قبضے میں ہیں۔
مولوی عمر نے صوبہ سرحد کے علاقے ٹل میں بھی سکیورٹی فورسز کے دو اہلکاروں کو گاڑی سمیت اغواء کرنے اور جمعرات کی شب باجوڑ میں عنایت کلی اور خار میں موجود سکیورٹی فورسز کے قلعہ پر حملہ کر کے پانچ اہلکاروں کو ہلاک جبکہ چھ کو زخمی کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ درہ آدم خیل میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کشیدگی کی وجہ سے صوبہ سرحد کو بلوچستان، سندھ اور جنوبی اضلاع سے ملانے والی واحد کوہاٹ سرنگ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سرنگ کے دونوں جانب سینکڑوں گاڑیاں قطاروں میں کھڑی نظر آرہی ہیں جبکہ درہ آدم خیل سے درجنوں خاندانوں کی کوہاٹ اور پشاور کی جانب نقل مکانی کی بھی اطلاعات ہیں۔ اسلحے کی فیکٹریوں کے لیے مشہور درہ آدم خیل پشاور سے تقریباً پچاس کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور یہ علاقہ گزشتہ دو سال سے ایسے مسلح نامعلوم افراد کا گڑھ بن چکا ہے جنہیں مقامی طور پر طالبان کا نام دیا جاتا ہے۔ اس علاقے میں موجود لڑکیوں کے سکولوں، حجام اور منشیات اور ویڈیو سی ڈی فروخت کرنے والی دکانوں کو بھی مسلسل بم حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ | اسی بارے میں درہ آدم خیل میں فوج کی تلاشی مہم25 January, 2008 | پاکستان جنوبی وزیرستان میں جھڑپیں25 January, 2008 | پاکستان نوشہرہ میں خفیہ ادارے کا اہلکار قتل21 October, 2007 | پاکستان درّہ آدم خیل میں کشیدگی ختم 10 August, 2007 | پاکستان درہ آدم خیل: جھڑپ میں تین ہلاک07 August, 2007 | پاکستان درہ: اسلحہ قیمتوں میں اضافہ 25 July, 2007 | پاکستان ’حملہ آوروں کا تعلق درے سے نہیں‘17 June, 2007 | پاکستان درہ آدم خیل: حجام کی دکان میں دھماکہ02 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||