سکاؤٹس قلعوں پر طالبان کے حملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے سکاؤٹس قلعہ رزمک پر راکٹوں اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے جس میں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ طالبان نے اس حملے میں آٹھ اہکاروں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی وزیرستان کے تین مقامات پر فوج اور بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور جنوبی وزیرستان میں لدھا سکاؤٹس قلعہ پر بھی حملہ ہوا ہے جس میں طالبان نے دو اہلکاروں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔ شمالی وزیرستان کے مقامی انتظامیہ کے مطابق بدھ کو دس بجے کے قریب مسلح مقامی طالبان نے شمالی وزیرستان کے تحصیل رزمک میں سکاؤٹس قلعہ رزمک پر راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجہ میں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق پانچ راکٹ قلعہ کے حدود میں گرے جن سے چند عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ جنوبی وزیرستان میں مقامی جنگجوؤں طالبان کے خلاف فوج کی کاروائی جاری ہے۔ بدھ کی صبح تحصیل مکین، تیارزہ اور لدھا کے مقام پر مقامی طالبان اور سکیورٹی فوسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ لدھا سکاؤٹس قلعہ پر بھی راکٹوں سے حملہ کیا گیا ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کےترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو ٹیلیفون کرکے دعوی کیا کہ رزمک سکاؤٹس قلعہ میں آٹھ اور لدھا میں دو اہلکار ہلاک جبکہ بارہ زخمی ہوگئے ہیں۔ رزمک سکاوٹس قلعہ اور لدھا سکاؤٹس پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کاروائی میں توپخانے کا بھی استعمال کیا لیکن اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ علاقہ محسود پر منزئی، رزمک اور وانا سے توپخانے کا استعمال بدستور جاری ہے۔ گولہ باری سے علاقہ محسود میں ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے ہیں اور ٹانک کے قریب تورمندی میں ہزاروں لوگ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان افراد کو کسی قسم کی امداد فراہم نہیں کی گئی ہے البتہ سماجی تنظیموں نے کچھ خیموں اور بستروں کا انتظام کیا ہے۔ | اسی بارے میں ’اوپر سے بمباری، نیچے توپخانے سے مارتے ہیں‘25 January, 2008 | پاکستان جھڑپوں میں کمی، طالبان کی’پسپائی‘ 28 January, 2008 | پاکستان جنوبی وزیرستان میں متعدد ہلاکتیں24 January, 2008 | پاکستان وزیرستان: ہلاکتوں کے متضاد دعوے24 January, 2008 | پاکستان جنوبی وزیرستان میں جھڑپیں25 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||