پنجاب: متحدہ کی انتخابی سرگرمیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی تک محدود سمجھی جانے والی متحدہ قومی موومنٹ ایک عرصے سے اپنے آپ کو قومی جماعت بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ مہاجر سے جہاں اس کا نام تبدیل کرکے اسے متحدہ قومی موومنٹ بنایا گیا تو دوسری جانب اکتوبر دو ہزار پانچ کے تباہ کن زلزلے میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ اور دیگر علاقوں میں جڑیں پیدا کرنے جیسے اقدامات اس کے قومی اعزائم کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم ملک بھی میں اپنا ’اثر و رسوخ بڑھاؤ‘ مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کا تازہ اقدام حالیہ انتخابات میں ملک بھر خصوصاً پنجاب سے بڑی تعداد میں نشستوں پر انتخاب لڑنا ہے۔ متحدہ کے سربراہ الطاف حسین نے انیس سو اٹھتر میں جس طلبہ تنظیم کی بنیاد رکھی تھی وہ اسے مرحلہ وار طریقے سے سندھ کی ایک بڑی جماعت بنا چکے ہیں لیکن ان کی نظر اس سے بھی آگے ہیں۔ وہ بظاہر اس جماعت کو اب ایک قومی جماعت بنانا چاہتے ہیں۔ اس کا آغاز انہوں نے دو برس قبل دیگر تین صوبوں میں جماعتی دفاتر کھول کر کیا تھا۔ یہ اس کا پنجاب سمیت دیر صوبوں کی سیاست میں باضابطہ پہلا قدم تھا۔ لیکن اب اس نے پہلی مرتبہ ان صوبوں کی انتخابی سیاست میں بھی بھر پور حصہ لینا شروع کیا ہے جس کا ثبوت صوبے سے سینتالیس قومی اور ستاون صوبائی نشستوں پر انتخاب لڑنا ہے۔
ان میں سے ایک جنوبی پنجاب میں نشست این اے 178 بھی ہے۔ اس نشست پر مجموعی طور پر چھ امیدوار میدان میں ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ایک سابق رکن راؤ عبدالقیوم ایڈووکیٹ جنہوں نے گزشتہ اکتوبر ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی اب اس کے ٹکٹ پر لڑ رہے ہیں۔ ان کا مقابلہ مسلم لیگ قاف کے نوابزادہ افتخار احمد خان بابر، پیپلز پارٹی کے جمشید احمد خان دستی، مسلم لیگ نون کے احسان کریم قریشی، سلطان احمد خان اور نوابزادہ منصور احمد خان سے ہے۔ پنجاب میں متوسط طبقہ کی ایک بڑی تعداد سیاست میں آنا چاہتی ہے لیکن جاگیردار، وڈیرے اور سردار انہیں آگے آنے نہیں دیتے یا پھر ان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ کام کر سکیں۔ ایم کیو ایم ایک ایسی سیاسی تنظیم ہے جو ایسے لوگوں کی مدد کر سکتی ہے۔ الطاف حسین نے اپنے امیدواروں کے سترا حلقوں میں بیک وقت ٹیلیفون پر خطاب میں بھی جاگیرداری کو ہی نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پنجاب کے لوگوں نے اپنی قسمت تبدیل کرنی ہے تو انہیں جاگیرداروں کی جانب دیکھنے کی بجائے خود آگے آنا ہوگا۔ ایم کیو ایم کے امیدوار راؤ عبدالقیوم نے بتایا کہ لوگ عدم تحفظ کی وجہ سے جاگیرداروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ ’ہم انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ ہم انہیں تحفظ فراہم کریں گے۔ ہم بھی ان کے تھانے کچہری کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔ میں خود ایک وکیل ہوں۔‘
ایم کیو ایم نے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تیئس ڈاکٹر، نو پروفیسرز، اٹھارہ ایڈووکیٹ، نو انجینئر، دو بی فارمسسٹ اور ایک سابق ونگ کمانڈر ہیں۔ ان میں سے چھ عورتیں اور چار غیر مسلم بھی شامل ہیں۔ ایم کیو ایم پنجاب میں کوئی اتنی نئی بھی نہیں۔ جنوبی پنجاب میں غلام علی بخاری جیسے کارکن انیس سو ترانوے سے جماعت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہیں ابتداء میں خفیہ ادارے کے اہلکار ان کے والدین کے ہمراہ طیارے میں بیٹھا کر تفتیش کے لیے اسلام آباد بھی لائے تھے جبکہ ایک اور کارکن کا کہنا تھا کہ اس کے گھر پر ایم کیو ایم کا پرچم جب لہرایا تو ایسا شدید ردعمل آیا کہ جیسے انہوں نے بھارت کا پرچم لہرا دیا ہو۔ غلام علی بخاری اس پر بھی خوش ہیں چلو زندگی میں پہلی مرتبہ جہاز میں سفر کا مزا تو لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ محض اردو بولنے والے طبقے کی حمایت کے خواہاں نہیں بلکہ ان کے امیدواروں اور حمایتیوں میں پنجابی اور سرائیکی بولنے والوں کی بھی بڑی تعداد ہے۔ جنوبی پنجاب کی پسماندگی اور سرائیکی بولنے والوں کی شکایتیں ایسی وجوہات ہیں کہ جن کی بنیاد پر ایم کیو ایم کو حمایت حاصل ہوگی۔ اس علاقے میں اردو بولنے والوں کی بڑی تعداد کاروباری طبقے پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ چھوٹے شہروں جیسے سرگودھا، خانیوال، مظفر گڑھ، رحیم یار خان، ملتان وغیرہ میں خاصی تعداد میں آباد ہیں۔ تاہم ایم کیوایم کے ووٹر صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی طرف سے کی جانے والی ان کی جماعت کے لیے حمایت کو شک کی نگاہ سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایم کیوایم کو ریاستی اداروں کی سرپرستی میں پنجاب میں اس لیے لایا گیا ہے تاکہ یہاں شہروں میں صدر کی اتحادی جماعت اپنی جگہ بنا سکے۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں ایم کیوایم اگر پنجاب سے نشستیں نہ بھی لے سکے تب بھی حزب اختلاف کی جماعتوں کے ووٹ تو توڑ سکتی ہے۔ خاص طور سے ایسے ماحول میں جب اس کی تنظیم دوسری جماعتوں سے بہتر ہے۔ فی الحال یہ جماعت غریب طبقوں سے تعلق رکھنے والوں پر توجہ دیے ہوئے ہے۔ راؤ عبدالقیوم کہتے ہیں وہ ان لوگوں کو ان کے ووٹ کے اہمیت سے آگاہ کرتے ہیں۔ ’جاگیردار اور وڈیرے ہماری محنت سے پریشان ہیں۔ بات ہے محنت کی۔ ہم یہیں کہ مقامی ہیں جبکہ جاگیردار تو آیا اور چلا گیا۔ وہ ایک جلسہ کرتے ہیں، میں در در گھوم رہا ہوں۔ جب لوگ الطاف بھائی کا پیغام سنتے ہیں تو ہمیں خوش آمدید کہتے ہیں۔‘ متحدہ قومی موومنٹ نے ماضی میں اکا دُکا انتخابات میں بھی حصہ لیا لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ اس مرتبہ بھرپور منظم انداز میں میدان میں کودنے سے شاید کچھ کامیابی ہو۔ لیکن بعض سیاسی مبصرین کے مطابق کامیابی ہو یا ناکامی ایم کیو ایم نے اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔ |
اسی بارے میں انتخابات سر پر، ووٹر ڈرے ڈرے13 February, 2008 | الیکشن 2008 ہزاروں رضاکاروں کی بھرتی کا فیصلہ13 February, 2008 | الیکشن 2008 مشرف مخالف ہی نشانہ کیوں؟13 February, 2008 | الیکشن 2008 کراچی، امن و امان کے خدشات12 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||