ہزاروں رضاکاروں کی بھرتی کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نگراں حکومت نے اٹھارہ فروری کو ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں یومیہ اجرت پر ہزاروں رضاکار بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو حکام کے بقول پولنگ سٹیشنز پر نظم و ضبط قائم رکھیں گے۔ محکمہ داخلہ حکومت سندھ کے سیکریٹری عارف احمد خان نے بتایا کہ صوبہ سندھ نے پندرہ ہزار اور صوبہ پنجاب نے پچاس ہزار رضاکار بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہیں سولہ سو روپے فی کس اجرت دی جائے گی۔ ’انہیں ہم رضاکار نہیں سپیشل پولیس کہتے ہیں جو کہ پولنگ سٹیشن پر ڈسپلن کو بھی قائم کریں گے اور انہیں سیکیور (حفاظت) بھی کریں گے تاکہ وہاں کوئی ہنگامہ آرائی نہ ہو سکے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’سپیشل پولیس‘ کے اہلکار غیرمسلح اور سادہ لباس میں ملبوس ہوں گے لیکن ان کے گلے میں شناختی کارڈ ہوگا اور ان کے بازو پر ایک پٹی بندھی ہوگی جس سے یہ پتہ چلے گا کہ وہ سپیشل پولیس کے لوگ ہیں۔ سیکریٹری داخلہ کے مطابق حکومت سندھ نے ان رضاکاروں کی بھرتی شروع کردی ہے اور یہ ذمہ داری پولیس کو سونپی گئی ہے۔ ’پولیس کے پاس ان سب لوگوں کی لسٹیں موجود ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مختلف اوقات میں پولیس میں بھرتی کے لیے درخواستیں دیں، جس پر انہیں شارٹ لسٹ کیا گیا اور ان کی سیکیورٹی کلیئرنس ہوئی لیکن جب وہ انٹرویو تک پہنچے تو اس میں کامیاب نہ ہو پائے۔‘
لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت کو اس مرتبہ ہی انتخابات کے لیے اتنی بڑی تعداد میں سپیشل پولیس کی بھرتی کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ عارف احمد خان اس کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’حالات کچھ اس طرح کے ہیں۔ سکیورٹی کی صورتحال گزشتہ الیکشن سے اس مرتبہ قدرے مختلف ہے خصوصاً صوبہ سندھ میں، اسکے علاوہ ہمارے پاس صرف 53 ہزار پولیس کی نفری ہے جبکہ صوبے کے 13 ہزار چار سو پانچ پولنگ سٹیشنز کے لیے کل نوے ہزار نفری کی ضرورت ہے۔‘ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے حکومت کے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی کہتے ہیں کہ یہ انتخابات میں دھاندلی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ ’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جو نئی بھرتیاں ہورہی ہیں اس میں حکومتی پارٹیوں کے ورکرز کو بھرتی کیا جا رہا ہے اور وہ پولنگ کے دن جو کچھ کریں گے وہ آپ کے اور ہمارے سب کے سامنے ہوگا۔‘ مسلم لیگ نون کے رہنما راجہ ظفر الحق کے خیالات بھی اس بارے میں کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’یہ تو اس وقت جو صوبائی حکومتیں ہیں انہی کے لوگ ہوں گے اور زیادہ تر وہی لوگ ہوں گے جو سرکاری امیدواروں کے نامزد کردہ ہوں گے یا ان کی سفارش سے بھرتی ہوں گے۔ یہ تو الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔‘ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کے ان تحفظات کے بارے میں الیکشن کمیشن کا مؤقف جاننے کے لیے الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد سے رابطہ کرنے کی بارہا کوشش کی گئی لیکن وہ دستیاب نہیں تھے۔ تاہم نگراں وفاقی وزیر داخلہ حامد نواز کہتے ہیں کہ رضاکاروں کی بھرتی معمول کی کارروائی ہے اور اس سے انتخابات کی شفافیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ’جہاں دس پولیس والے دوسرے کھڑے ہیں وہاں ان کے ساتھ گیارہواں بندہ یہ رضاکار کھڑا ہوجائے تو یہ کیا کرلے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا ’محرم میں بھی یہ (رضاکار) استعمال ہوتے ہیں اور اس قسم کے جب بھی موقع ہوتے ہیں جہاں پولیس کی نفری کم پڑجائے تو یہ ریگولر طریقہ ہے اس کمی کو پورا کرنے کا۔ سیاسی جماعتیں تو اور ہزاروں باتیں بھی کہہ رہی ہیں۔‘ مبصرین کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کی غیرجانبداری پہلے ہی مشکوک بنی ہوئی ہے ایسے میں الیکشن ڈیوٹیوں کے لیے ہزاروں رضاکاروں کی بھرتی انتخابات کے انتظامات کو مزید مشکوک بنا سکتی ہے۔ |
اسی بارے میں کراچی، امن و امان کے خدشات12 February, 2008 | الیکشن 2008 فوج کی تعیناتی شروع ہوگئی 12 February, 2008 | الیکشن 2008 ’مشرف کا یومِ حساب ضرور آئےگا‘12 February, 2008 | الیکشن 2008 انتخابی امیدوار پر حملہ، سات ہلاک11 February, 2008 | الیکشن 2008 ’جنوبی وزیرستان: انتخاب ممکن نہیں‘09 February, 2008 | الیکشن 2008 انتخابات: دو الگ الگ تحریکیں08 February, 2008 | الیکشن 2008 انتخابی تشدد میں چار ہلاک08 February, 2008 | الیکشن 2008 | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||