BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 12 February, 2008 - Published 13:07 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج کی تعیناتی شروع ہوگئی

بعض علاقوں میں فوج کی تعیناتی شروع ہوگئی ہے اور یہ عمل پندرہ فروری تک مکمل ہو جائے گا
وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈیئرریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں منگل سے شروع ہونے والی فوج کی تعیناتی پندرہ فروی تک مکمل کر لی جائے گی لیکن فوج کو پولنگ سٹیشنوں پر تعینات نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پولنگ کے دوران امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کی صورت میں فوج کو کسی بھی علاقے میں طلب کیا جا سکتا ہے۔

ہفتہ وار بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج کے ساتھ ساتھ پیراملٹری فورسز یا نیم فوجی دستوں کو بھی جن میں فرنٹیرئر کانسٹیبلری اور رینجرز شامل ہیں، ملک کے مختلف علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتحابات کی پولنگ کے دوران کسی کو بھی اسلحہ لانے کی اجازت نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

حساس پولنگ سٹیشن
 ملک بھر میں تقریبا پندرہ ہزار پولنگ سٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔صوبہ پنجاب میں سات سے آٹھ ہزار، سندھ میں پانچ ہزار بلوچستان میں گیارہ سو اور صوبہ سرحد میں پندرہ سو پولنگ سٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے
کنور محمد دلشاد

الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور محمد دلشاد نے نامہ نگار اعجاز مہر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں تقریباً پندرہ ہزار پولنگ سٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔’صوبہ پنجاب میں سات سے آٹھ ہزار، سندھ میں پانچ ہزار بلوچستان میں گیارہ سو اور صوبہ سرحد میں پندرہ سو پولنگ سٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا ہے‘۔

نگران وزیرِ داخلہ حامد نواز کا کہنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشاورت کے بعد حساس قرار دیے گئے علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی شروع کردی ہے۔

جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں چونسٹھ ہزار ایک سو پچھتر پولنگ سٹیشن قائم کیے جائیں گے اور ان میں سے پنجاب کے تین ہزار سات سو ستاسی، سندھ کے ایک ہزار پانچ سو پچھتر، سرحد کے ایک ہزار چورانوے، بلوچستان کے ایک ہزار تین سو پچاس اور قبائلی علاقوں کے تمام پولنگ سٹیشنوں کو حساس ترین قرار دیا گیا ہے۔

صوبہ پنجاب میں گیارہ ہزار تین سو اٹھاون، سندھ میں تین ہزار چھ سو تینتیس، صوبہ سرحد میں تین ہزار دو سو انیس، بلوچستان میں ایک ہزار ایک سو پندرہ جبکہ اسلام آباد میں بیس پولنگ سٹیشنوں کو حساس قرار دیا ہے۔

فوج کو پولنگ سٹیشنز میں تعینات نہیں کیا جائے گا

انہوں نے کہا کہ ان انتخابات کو مانیٹر کرنے کے سلسلے میں ایک ہزار سے زائد غیرملکی مبصرین اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے پاکستان آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان افراد کو مکمل سیکورٹی فراہم کرے گی۔

جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ان غیر ملکی مبصرین اور میڈیا کے نمائندوں کو سہولتیں فراہم کرے گی۔ اس کمیٹی میں وزارت خارجہ، وزارت اطلاعات، الیکشن کمیشن اور صوبوں کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے افسران شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے تمام ہوائی اڈوں پر سپیشل ایمیگریشن کاونٹر لگائے جائیں گے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا صوبہ سرحد کے علاقوں سوات، شانگلہ، لوئر دیِر، مالاکنڈ ایجنسی، ہنگو، ٹانک اور بنوں، فاٹا کے علاقوں میں شمالی اور جنوبی وزیر ستان باجوڑ ایجنسی بلوچستان میں کوہلو، ڈیرہ بگٹی اور قلعہ عبداللہ کو سکیورٹی کے اعتبار سے حساس علاقے قرار دیے گئے ہیں اور ان غیر ملکی مبصرین سے کہا جائے گا کہ وہ ان علاقوں میں نہ جائیں۔

اسی بارے میں
انتخابات میں فوج، فیصلہ جلد
01 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد