اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | مبصرین کے مطابق نیا حکم نامہ فوج کے کردار اور ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش ہے |
سیاست دانوں سے میل جول پر پابندی اور سویلین محکموں سے فوجی افسران واپس بلانے کے احکامات کے بعد فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ماتحت افسران کے لیے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے۔ یہ حکم نامہ جسے ’کمانڈ کمیونیکے‘ کہا جا رہا ہے، ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق‘ پچیس دسمبر کو جاری ہوا تھا جس میں آرمی چیف نے کہا کہ وہ فوج کے کمانڈ سسٹم کو مؤثر بنانے کے لیے فوقتاً فوقتاً ایسے احکامات جاری کرتے رہیں گے۔ تین پیراگراف پر مشتمل آرمی چیف کے اس حکم میں کہا گیا ہے کہ ان کا ارادہ ہے کہ کمانڈ کمینونیکے کے اجراء کا ادارہ جاتی نظام شروع کریں۔ ’ایسے احکامات نہ صرف نئے پیدا ہونے والے معاملات کے بارے میں جاری ہوں گے بلکہ فوج کے اسیے نازک معاملات کی نشاندھی کے لیے بھی جاری ہوتے رہیں گے جہاں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ فوجی معیار اور روایات مٹ چکی ہیں۔ چاہے ایسا غلطی سے ہوا ہو یا خود بخود ہوا ہو۔‘ آرمی چیف نے لکھا ہے کہ کمانڈ کمیونکے نہ صرف ان کی کمانڈ کی ترجیجات کو مضبوط کریں گے بلکہ مختلف عہدوں تک ان کے براہِ راست رابطے کو بھی یقینی بنائیں گے تاکہ ان کے ارادوں کے بارے میں واضح طور پر فوجی افسران کو پتہ چل سکے۔ ’میری خواہش ہے کہ کمانڈ کمیونیکے کو مناسب سطح تک وسعت دی جائے تاکہ اس پر ترجیحی بنیاد پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ میں اس بارے میں مؤثر جواب کی توقع رکھتا ہوں تاکہ کمانڈ کو صحتمند اور درست ماحول میں یقینی بنایا جائے۔‘ آرمی چیف کے اس حکم نامے کے بارے میں فوج کے ترجمان رابطے کی کوششوں کے باوجود دستیاب نہیں تھے۔ تاہم تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئے آرمی چیف کے حالیہ بیانات فوج کے متاثر ہونے والے کردار اور ساکھ کو بہتر بنانے کی ایک کوشش ہیں۔ واضح رہے کہ فوج کا تعلقاتِ عامہ کا شعبہ، فوج کے کردار کو بہتر بنانے کے لیے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ سرکاری ٹیلی وژن پر ایک ٹی وی ڈارمہ بھی پر نشر کر رہا ہے۔ |