’جماعت اسلامی خود علیحدہ ہوئی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعیت علماء اسلام کے اپنے دھڑے کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اس تاثر کی پرزور الفاظ میں نفی کی ہے کہ متحدہ مجلس عمل توڑنے کے ذمہ دار وہ ہیں۔ انہوں نے مشرف حکومت کےساتھ کسی خفیہ مفاہمت کے تاثر کو بھی اپنے خلاف منفی پراپیگنڈے کا حصہ قرار دیا۔ مولانا فضل الرحمان بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں دنیا بھر سے سامعین کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کی موجودگی کے الزامات اور اس پر اپنی کی پالیسی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ: ’پاکستان کی جغرافیائی حدود کے اندر کسی کو بھی پاکستان کے قوانین پامال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ بات کہ یہاں کوئی غیر ملکی رہتا ہے یا نہیں، تو اس حوالے سے مجھ پر تو پابندی ہے (کیونکہ) انیس سو ننانوے سے جب نواز شریف کی حکومت تھی اور مجھے قبائلی علاقوں میں جانے سے روکاگیا، آج تک مجھے ان علاقوں میں جانے نہیں دیا گیا، تو پھر باہر کے لوگوں کے بارے میں ذاتی طور پر تو یقیناً نہیں جانتا۔‘ ٹاکنگ پوائنٹ میں مولانا فضل الرحمان سے یوکرین، جاپان، آسٹریلیا، چین، کینیڈا سمیت میانوالی، سکھر، بہاولنگر، اور کوئٹہ سے سامعین نے سوال کیے۔
قائد حزب اختلاف ہونے کے باوجود مشرف حکومت کے ساتھ مبینہ قربتوں کے حوالے سے پوچھےگئے ایک سوال کے جواب میں مولانا نے کہا: ’میں خود ایک نظریاتی قوت ہوں۔ میں نے امریکہ کا ساتھ دینے کی مخالفت کی تھی، آج بھی اس مؤقف پر قائم ہوں۔ شریعی معاملات میں ہم نے ہمیشہ (حکومت کا) ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، اگر وفاق میں حدود اللہ کو ختم کیا جاتا ہے تو ہم سرحد میں قران و سنت کے مطابق حسبہ قانون پاس کر تے ہیں۔ حسبہ قانون کو عدالتوں میں گھسیٹے والے مشرف ہیں۔ قومی اسمبلی میں مشرف کے قانون کی ہم نےمخالفت کی جبکہ پیپلز پارٹی مشرف کی حمایت کر رہی ہے۔ یہ کیسا تاثر ہے کہ آپ پیپلز پارٹی کو تو اپوزیشن اور ہمیں مشرف کا حامی سمجھتے ہیں۔‘ ایک اور سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہوں نے ایم ایم اے کو نہیں توڑا بلکہ جماعت اسلامی نے خود اتحاد سے علیحدہ ہونے کی پالیسی اپنائی۔ ’ایم ایم اے میں چھ جماعتیں تھیں اور اس وقت بھی پانچ جماعتیں ہمارے ساتھ ہیں۔ جماعت اسلامی بائیکاٹ میں تنہا ہے۔ ہم نے جماعت اسلامی کی موجودگی میں اور قاضی صاحب کی زیر صدارت ایم ایم اے کے منشور کی منظوری دی، منشور کی منظوری الیکشن میں حصہ لینے کے لیے تھی، بائیکاٹ کے لیے نہیں۔ یہ سوال تو قاضی صاحب سے کیا جا سکتا ہے کہ آپ ایم ایم اے کا خیال کیے بغیر عمران خان اور محمود خان اچکزئی کے ساتھ ملک کر بائیکاٹ کیوں کیا۔ اے پی ڈی ایم کا اجلاس بھی موجود تھا۔ان کو بھی نہیں پوچھا۔‘ ایک سامع نے ان خبروں کی وضاحت چاہی کہ مولانا نے سیاست میں کتنا پیسہ اور کیسے کمایا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ’ کچھ کالم نگار اتنا جھوٹ لکھتے ہیں کہ افسوس ہوتا ہے۔ میرے ہاتھوں کو کرپشن کے پیسوں کی گرد تک نہیں لگی۔ میرے پاس وہی کچھ ہے جو میرے والد صاحب چھوڑ کر گئے تھے۔ میں چندے کرتا ہوں، بھیک مانگتا ہوں۔ آپ جیسے لوگ پیسے دیتے ہیں تو الیکشن لڑتا ہوں۔‘ | اسی بارے میں جے یو آئی میں اختلافات شدید19 January, 2008 | پاکستان مولانا کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں: طالبان09 January, 2008 | پاکستان بائیکاٹ پرنظرثانی کریں: فضل الرحمان30 November, 2007 | پاکستان بلوچستان: جے یو آئی میں تقسیم19 December, 2007 | پاکستان سرحد میں بھی شدید اندرونی چپقلش کا سامنا26 December, 2007 | پاکستان جماعت کا بائیکاٹ، کس کو کیا ملے گا17 December, 2007 | پاکستان الیکشن بائیکاٹ مہم کا آغاز18 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||