BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 December, 2007, 15:44 GMT 20:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الیکشن بائیکاٹ مہم کا آغاز

اچکزئی اے پی ڈی ایم کے نئے سربراہ ہیں
پاکستان میں آٹھ جنوری کے عام انتخابات کے بائیکاٹ کرنے والے آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ نے اپنی احتجاجی تحریک کا آغاز منگل کو ایک کنوینشن کے انعقاد سے کر دیا ہے۔

اسلام آباد کے ایک فارم ہاؤس میں یہ کنوینشن پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور اے پی ڈی ایم کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے عمران خان، بلوچ رہنما عبدالحئی بلوچ اور وکلاء کے رہنما اور سابق جج جسٹس وجیہہ الدین احمد نے بھی شرکت کی۔

کنوینشن کے اختتام پر بارہ نکاتی مشترکہ اعلامیہ انگریزی زبان میں جاری کیا گیا جس کا پہلا نکتہ ہی دو نومبر کی عدلیہ کی بحالی ہے۔ دیگر مطالبات میں قبائلی علاقوں اور سوات میں فوجی کارروائیوں کا خاتمہ، صدر پرویز مشرف کے تین نومبر کے بعد کے تمام اقدامات کی منسوخی، آزاد انتخابی کمیشن کے قیام، میڈیا کی بحالی اور لاپتہ افراد کی بازیابی شامل ہیں۔

عمران خان نے بینظیر کو تنقید کا نشانہ

اے پی ڈی ایم کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب میں اتحادی جماعتوں کے سامنے ان ممالک کی تقریبات کے بائیکاٹ کی تجویز پیش کی جو ججوں کی بحالی کی حمایت نہیں کرتے۔ انہوں نے اس موقع پر انتخابی سیاست کو بھی خیرباد کہا۔

’میرا وعدہ ہے چاہے اس پر میری جماعت مجھے نکال بھی دے کہ میں اس ملک میں جمہوری، صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد تک انتخابات میں حصہ نہیں لوں گا۔’

پنڈال کو ’آٹھ جنوری کے فراڈ انتخابات کا بائیکاٹ، اصولوں کی سیاست اختیار کریں اور پیمرا قوانین نامنظور‘ جیسے بینرز آویزاں تھے۔ شرکاء میں بائیکاٹ کے سٹیکرز بھی تقسیم کیئے گئے۔

محمود خان اچکزئی نے الزام لگایا کہ جمہوری نظام کی راہ میں بڑی روکاوٹ فوج، سول بیورکریسی اور ماضی کی عدلیہ شریک رہیں ہیں۔ اس تناظر میں تین نومبر کے بعد کے ستر فیصد ججوں کے حلف نہ لینے کو انہوں نے ایک معجزہ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے لیئے ایک مضبوط فوج کے خواہاں ہیں تاہم اسے ہر صورت پارلیمان کے تابع ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں جمہوریت قائم ہوئی تو اس کا اثر کعبہ اور حسنی مبارک والی اسلامی دنیا پر بھی ہوگا۔

کنونشن میں موجود شرکاء تھوڑے تھوڑے وقفوں کے ساتھ مشرف کے خلاف نعرہ بازی بھی کرتے رہے۔

اس سے قبل جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے اپنی تقریر میں اعتراف کیا کہ عوام کا سیاسی جماعتوں پر اعتماد اٹھ چکا ہے تاہم وہ حق پر ہیں اور آگے بڑھیں گے۔

تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے پیپلز پارٹی کی رہنما بےنظیر بھٹو اور جعمیت علما اسلام کے مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید کی اور خصوصاً بےنظیر بھٹو کے لیئے ’لبرلی کرپٹ‘ کا لفظ استعمال کیا۔

عمران خان کے مطابق اب ان کا احتجاج الگ الگ نہیں بلکہ مشترکہ ہوگا۔

اے پی ڈی ایم نے آٹھ جنوری تک احتجاجی جلسے اور جلوسوں کے پروگرام کا اعلان پہلے ہی کر رکھا ہے۔ پولنگ کے دن اتحاد کے کارکن احتجاجی کیمپمس بھی قائم کریں گے تاکہ لوگوں کو بائیکاٹ پر راضی کیا جاسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد