جماعت کا بائیکاٹ، کس کو کیا ملے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی کی جانب سے عام انتخابات کے بائیکاٹ کے کراچی کی سیاسی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس بائیکاٹ سے جہاں متحدہ قومی موومنٹ کو ایک مضبوط حریف کی عدم موجودگی سے ریلیف ملےگا وہاں مسلم لیگ نواز کے ووٹروں میں اضافہ ہوگا۔ کراچی میں انتخابی گہماگہمی میں کمی کی ایک وجہ جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کو بھی سمجھا جا رہا ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں کراچی میں قومی اسمبلی کی بیس نشستوں میں سے بارہ پر متحدہ قومی موومنٹ، پانچ پر متحدہ مجلس عمل، دو پر پاکستان پیپلز پارٹی اور ایک پر ایم کیوایم حقیقی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس طرح پانچ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ایم ایم اے کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ کئی ایسی نشستیں تھیں جن پر مذہبی جماعتوں کے اس اتحاد نے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ سن دوہزار دو میں نئے نظام کے تحت ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا ایم کیو ایم کی جانب سے بائیکاٹ کا فائدہ جماعت اسلامی کو پہنچا اور شہر کے اٹھارہ ٹاونز میں سے اکثر میں ان کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جماعت اسلامی سے وابستہ سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے شہر بھر میں ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کردی اور عام انتخابات تک حماتیوں کا ایک بڑا حلقہ بنالیا۔ نتیجے میں دو ہزار دو کے عام انتخابات میں ایم ایم اے اور بالخصوص جماعت اسلامی کراچی کی دوسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ سینئر صحافی شمیم الرحمان کا کہنا ہے جماعت کے بائیکاٹ کے بعد ایم کیو ایم واضح اکثریت حاصل کرلے گی، دیگر جماعتوں کے امیدوار کمزور نظر آرہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت اور پاکستان پیپلز پارٹی کچھ نشستیں لینے میں کامیاب ہوجائیں مگر کراچی میں اکثریت حاصل نہیں کرسکیں گے۔ ایم ایم اے میں جو سرگرم کارکن ہے وہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھتا ہے اس لیے آنے والے انتخابات کے نتائج سے ایم ایم اے کو دہچکا پہنچے گا۔ دوہزار پانچ کو سخت مقابلے اور کشیدگی والی صورتحال میں بلدیاتی انتخابات ہوئے جن میں ایم کیو ایم نے اکثریت حاصل کی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے بعد بظاہر فریقین میں جاری دیرینہ کشیدگی ان انتخابات میں سامنے نہیں آئےگئی۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے حمایتیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے ہی نہ جائیں۔ جماعت اسلامی کے سینئر رہنما پروفیسر غفور احمد کا کہنا ہے کہ وہ تشدد پر یقین نہیں رکھتے۔’ ہم لوگوں کو کہیں گے کہ ووٹ ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، آپ ووٹ نہ ڈالیں لیکن اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ووٹروں کی پہلی ترجیح اور دوسری ترجیح گھر بیٹھنا ہوگی، اس لیے کے جب پہلے سے ہی نتائج مرتب ہوچکے ہیں طے ہوگیا ہے کہ کس کو منتخب ہونا ہے کس کو نہیں تو پھر جوش دکھانے کا فائدہ کیا۔ انیس سو ستانوے کےعام انتخابات میں مسلم لیگ نواز نے کراچی سے دو قومی اور پانچ صوبائی اسمبلی کی نشستیں حاصل کی تھیں۔ دو ہزار دو کے عام انتخابات میں سب سے کم کم ووٹ مسلم لیگ نواز نے حاصل کیے تھے۔ جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے بعد مسلم لیگ نواز کی قیادت پر امید ہے کہ یہ ووٹ ان کے امیدواروں کو ملیں گے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما سردار رحیم کا کہنا ہے کہ جماعت کے حمایتیوں نے ان تک رسائی کی ہے۔’اگر جماعت کے حمایتیوں نے کسی کو ووٹ دیئے تو وہ مسلم لیگ نواز ہی ہوگی کیونکہ کسی نہ کسی ایشو پر ووٹ ملتا ہے اس لیے یہ ووٹ انہیں ہی ملے گا۔‘ شمیم الرحمان کا کہنا ہے کہ جماعت کا جو سخت گیر ووٹر ہے وہ تو ووٹ ڈالنے نہیں جائے گا اگر کوئی ووٹ ڈالتا بھی ہے تو اس کا رجحان مذہبی جماعتوں کی جانب ہی ہوگا مگر ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ مسلم لیگ نواز کو ووٹ دے دیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ماضی کے انتخابات کی نسبت ان انتخابات میں لوگوں اور کچھ سیاسی جماعتوں کی عدم دلچسپی کے باعث ٹرن آؤٹ میں بھی کمی کا امکان ہے۔ سیاسی جماعتیں اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے موثر حکمت عملی اپنا نہیں سکی ہیں | اسی بارے میں ’بائیکاٹ جذباتی فیصلہ ثابت ہوا‘10 December, 2007 | پاکستان مجلس: چارجماعتیں انتخاب لڑیں گی11 December, 2007 | پاکستان ’اے پی ڈی ایم سے الگ ہو جائینگے‘26 October, 2007 | پاکستان بائیکاٹ سے صورتحال تبدیل14 December, 2007 | پاکستان قاضی، فضل: مختلف بیانات04 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||