BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 January, 2008, 12:50 GMT 17:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جے یو آئی میں اختلافات شدید

مولانا فضل الرحمان انتخابات میں حصہ لینے کے حامی ہیں
بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے اندر نظریاتی گروپ کے ارکان نے مرکزی قیادت کی جانب سے بھیجی گئی کمیٹی کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور قائدین نے کہا ہے کہ ان کے امیدوار انتخابات میں ضرور حصہ لیں گے۔ جمعیت کے اندر اختلافات کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

کوئٹہ میں جمعیت علماء اسلام کے نظریاتی گروپ کے قائدین نے کہا ہے کہ ان کا فیصلہ اصولی ہے اور انہیں بڑی تعداد میں کارکنوں کی حمایت حاصل ہے۔

اس گروپ کے رہنما مولوی عصمت اللہ کے مطابق ژوب میں مرکزی کمیٹی سودے بازی کے لیے آئی تھی اور انہوں نے اپنا اصولی وقف کمیٹی کے سامنے رکھ دیا تھا۔

مولوی عصمت اللہ کے بقول کمیٹی کے ارکان نے اُن سے اتفاق کیا اور کہا کہ اگر آپ لوگ جیت گئے تو آپ ہمارے ساتھی ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے ارکان نے اُن کی انتخابات میں کامیابی کے لے دعا بھی کی لیکن بعد میں اخباری کانفرنس میں امیدواروں کی معطلی کا اعلان کیا ہے جو سمجھ سے باہر ہے۔

مولانا محمد خان شیرانی گروپ کے اہم رکن اور سابق صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع کے مطابق جماعت میں اس سے پہلے بھی گروپ بنے تھے لیکن آج ان کا کوئی وجود بھی نہیں ہے اور جماعت صراط مستقیم پر چل رہی ہے۔

بلوچستان کی سطح پر آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل جماعتوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے ان میں پشتون اور بلوچ قوم پرست جماعتیں اہمیت کی حامل ہیں۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالرحیم زیارتوال اور نیشنل پارٹی کے لیڈر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ جماعت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہی جمعیت علماء اسلام میں اختلافات پیدا ہوئے ہیں ۔

اس ساری صورتحال پر سیاسی امور کے ماہر اور پولیٹکل سائنس کے

پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی
 یہ اختلافات انیس سو ننانوے سے جماعت کے اندر موجود ہیں اور یہ اختلافات آنے والے انتخابات میں جمعیت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی کا کہنا تھا کہ یہ اختلافات انیس سو ننانوے سے جماعت کے اندر موجود ہیں اور یہ اختلافات آنے والے انتخابات میں جمعیت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد میں جمعیت پہلے سے کافی کمزور ہوچکی ہے۔

یہاں بلوچستان میں بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اختلافات خود ساختہ ہیں اور مرکزی قیادت کی جانب سے آنے والی کمیٹی کے ارکان کا رویہ بھی یہی کچھ ظاہر کر رہا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ جمعیت کو میدان سیاست میں بھی رکھا جا رہا ہے اور اسے زیادہ نشستیں بھی نہیں دی جا رہی ہیں بلکہ اس طرح کے اختلافات سے شاید مسلم لیگ قائد اعظم کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں جماعت کے اندر اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں اور بلوچستان میں کارکن اپنے وزراء کی پانچ سالہ کار کردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔

مولوی عصمت اللہ گروپ جمعیت کی وہی پالیسی چاہتے ہیں جو انیس سو نناوے سے پہلے تھی یعنی طالبان کی حمایت ضروری ہے اور جمعیت اپنی نظریاتی پالیسوں پر عملدرآمد کرے۔ اس کے برعکس مولانا محمد خان شیرانی گروپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی پالیسی حالات کے مطابق پارلیمانی سیاست پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی سیاست فوجی حکمرانوں کی پالیسوں سے قریب تر ہوتی ہے کیونکہ گزشتہ سال جنوری میں صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد مولانا محمد خان شیرانی نے بلوچستان آپریشن کے بارے میں یہ بیان جاری کر دیا تھا کہ ستر کا آپریشن مختلف تھا اور اب صورتحال مختلف ہے۔

اسی بارے میں
’ہر قربانی کے لیے تیار ہیں‘
24 September, 2007 | پاکستان
قاضی، فضل: مختلف بیانات
04 December, 2007 | پاکستان
مسلم لیگ (ن) انتخاب لڑے گی
09 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد