اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | چارسدہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک انتخابی اجتماع کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا |
پاکستان میں انتحابی عمل کے ساتھ پرتشدد واقعات میں اضافے پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ جان بوجھ کر عوام کو خوف زدہ کرنا چاہتی ہے۔ حزب مخالف کی ان دونوں بڑی جماعتوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر کار کیا وجہ ہے کہ اکثر حملوں کا نشانہ صدر پرویز مشرف کی مخالف سیاسی جماعتوں کو بنایا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر بابر اعوان نے کہا کہ ’بم دھماکے اور حملے عوام کو خوفزدہ کرنےکے لیے کروائے جارہے ہیں تاکہ لوگ ووٹ دینے کے لیے گھر سے نہ نکلیں اور حکومت صدر پرویز مشرف کے حامیوں کو جتوانے کے لیے ٹھپے مار کر ڈبے بھرے۔‘ ’گزشتہ برس انسٹھ دھماکے ہوئے اور رواس برس آٹھ دھماکے ہوچکے تاحال کوئی ملزم نہیں پکڑا جاسکا۔ انگلیاں حکومت میں بیٹھے لوگوں کی طرف اٹھ رہی ہیں۔ چار مقدمے ایسے ہیں جن میں صدر مشرف کے بارے میں لوگوں نے گفتگو کی یا سوچا کہ ہم ان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو وہ سارے سارے لوگوں کا کورٹ مارشل ہوگیا۔۔ یہ دہشت گرد کدھر گئے جنہوں نے نو سو سے زائد لوگوں کو خون میں نہلادیا اور دو ہزار سے زائد کو معذور کردیا۔۔ میری سوچ کے مطابق یہ خوف کی سٹیٹ سپانسرڈ ٹیکنالوجی ہے۔‘  | حکومت سے سوال  یہ دہشت گرد کدھر گئے جنہوں نے نو سو سے زائد لوگوں کو خون میں نہلادیا اور دو ہزار سے زائد کو معذور کردیا۔۔ میری سوچ کے مطابق یہ خوف کی سٹیٹ سپانسرڈ ٹیکنالوجی ہے  احسن اقبال |
مسلم لیگ نواز کے مرکزی اطلاعات سیکریٹری احسن اقبال کا دعویٰ ہے کہ صدر پرویز مشرف دہشت گردی کو ملکی اور عالمی سطح پر ایک کارڈ کے طور پر اپنی حکمرانی کو طول دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ’حملوں کا نشانہ جمہوری قوتیں ہیں۔ مسلم لیگ (ق) اور صدر مشرف کی دیگر حمایت یافتہ جماعتیں سرکاری پروٹوکول میں جلسہ کرتی ہیں۔ پرویز الہیٰ کو غیر معمولی سیکورٹی ملتی ہے لیکن میاں نواز شریف کو ایک دو پولیس موبائیل دیتے ہیں۔۔ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو بھی سیکورٹی ناقص ہونے کی شکایت کرتی رہیں اور انہیں قتل کردیا گیا۔‘ مسلم لیگ نواز کے نمائندے نے کہا اٹھارہ فروری کے مجوزہ عام انتخابات میں صدر پرویزمشرف اپنے حامیوں کو جتوانے کے لیے جہاں ریاستی مشینری اور وسائل استعمال کر رہے ہیں وہاں امن و امان کا مسئلہ پیدا کرکے عوام کو خوف میں بھی مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ حزب مخالف کی جانب سے حکومت پر امن امان خراب کرنے کے الزامات کی نگران وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد نواز سختی سے تردید کرتے ہیں۔ جب ان سے حزب مخالف کی نشاندہی کی بنا پر پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ زیادہ تر حملے صدر مشرف کے مخالفین پر ہورہے ہیں تو انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا۔  | رابطوں کی تصدیق  اس میں کوئی شبہہ نہیں ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں شدت پسند تنظیموں کو ہینڈل کرتی رہی ہیں اور طالبان سے ان کے روابط تھے۔ یہ اسلامی سوچ رکھنے والے ایسے نہیں ہیں کہ اپنے ہی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کا ارادہ کرلیں  جنرل حمید گل |
’نواز لیگ کو کچھ نہیں ہوا۔۔ (ق) لیگ کو کچھ نہیں ہوا۔ نواز لیگ تو حکومت میں نہیں ہے نہ۔۔ پہلے تینوں حملے پیپلز پارٹی پر ہوئے اور وہ اس خیال سے ہوئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کا موقف بھی حکومت جیسا بلکہ حکومت سے بھی سخت ہے۔۔ اے این پی پر حملہ صوبے میں انتخابی ماحول کو خراب کرنے کی کوشش ہے۔۔ ویسے خطرہ تو پرویز الہیٰ کو بھی ہے ۔۔ امیر مقام اور شیر پاؤ پر بھی حملے ہوئے ہیں۔‘ اس بارے میں جب آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل سے پوچھا کہ کیا انٹیلی جنس اداروں کے طالبان اور مذہبی شدت پسند تنظیموں سے روابط ہوتے ہیں جن کی بنا پر وہ اپنے ہی ملک میں گڑ بڑ پھیلائیں تو حمید گل نے رابطوں کی تو تصدیق کی لیکن اپنے ہی شہریوں کے خلاف انٹیلی جنس اداروں کی کارروائیوں کے تاثر کو سختی سے رد کیا۔ ’اس میں کوئی شبہہ نہیں ہے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں شدت پسند تنظیموں کو ہینڈل کرتی رہی ہیں اور طالبان سے ان کے روابط تھے۔ یہ اسلامی سوچ رکھنے والے ایسے نہیں ہیں کہ اپنے ہی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کا ارادہ کرلیں۔‘ جنرل حمید گل کی رائے ہے کہ ملک میں حالیہ خود کش حملے قبائلی علاقوں پر حکومتی حملوں اور لال مسجد واقعہ کی ہلاکتوں کا بدلہ ہوسکتی ہے۔ کیونکہ ان کے بقول انتقام لینا پشتونوں کی اسلام سے بھی پہلے کی روایت ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کا طاقتور ہونا پاکستان کے مفاد میں ہے۔ جب حمید گل سے پوچھا کہ کیا افغانستان میں طالبان کا طاقتور ہونا پاکستان کے مفاد میں ہے تو انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ پاکستانی قوم کی مفاد میں نہیں کہ امریکہ وہاں مضبوط ہوجائے اور قدم جمالے۔ نیٹو کو بٹھادے یہاں پر اور یہ سارے مل کر پاکستان کو چین کے خلاف استعمال کریں۔ طالبان اب ایک قومی مزاحمتی تحریک بن چکی ہے اور قابض فوجوں کے خلاف نبرد آزما ہے۔ پاکستان سے ان کو کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا انشاء اللہ‘۔ پر تشدد واقعات میں حکومتی ایجنسیوں کے ملوث ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ اپنی جگہ لیکن اب ہر طرف یہ سوال ضرور اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر خود کش حملہ آوروں کے کسی شہر میں داخل ہونے کا انٹیلی جنس ایجنسیوں کو علم ہوجاتا ہے تو آخر وہ انہیں پکڑ کیوں نہیں سکتیں؟ |