BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 17 February, 2008 - Published 03:16 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: دھاندلی اور تصادم کے خدشات

پیپلز پارٹی
سندھ کے سیاسی منظر نامے میں بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد میں یکسر تبدیلی ہوئی

سندھ کے لوگ پیر کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی اور تصادم کے خدشات کے سائے میں ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں۔

سندھ میں ایک کروڑ پچانوے لاکھ ووٹروں کے لیے کل تیرہ ہزار چار سو پانچ پولنگ سٹیشن ہیں جہاں ایک لاکھ تینتیس ہزار سے زیادہ پولنگ عملہ مقرر کیا گیا ہے۔

سندھ میں قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے کل دو ہزار پچانوے امیدوار میدان میں ہیں جس میں سے چھ سو ستائیس قومی کے اور چودہ سو اڑسٹھ صوبائی حلقوں پر ہیں۔

سندھ کے سیاسی منظر نامے میں مجموعی طور پر پیپلز پارٹی ایک طرف ہے تو باقی مخالف جماعتیں دوسری طرف۔ اگرچہ ان مخالف جماعتوں نے کوئی باضابطہ انتخابی معاہدہ یا اتحاد تو نہیں بنایا ہوا ہے تاہم یہ پیپلز پارٹی کی مخالفت میں ایک دوسرے کی مختلف نشستوں پر حمایت اور مدد کر رہی ہیں جبکہ کئی نشستوں پر ایک دوسرے کے سامنے بھی نبرد آزما ہیں۔

جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان کے بائیکاٹ کی وجہ سے مذہبی جماعتوں کا اتحاد ایم ایم اے غیر موثر ہوگیا ہے تاہم جمعیت علمائے اسلام کچھ دیگر مذہبی جماعتوں کے ساتھ خاص طور کراچی میں انتخاب لڑ رہی ہے۔

کراچی میں اکثر نشستوں پر ایم کیو ایم کا پلڑا بھاری ہے

میاں نواز شریف کی حکومت کی برطرفی کے بعد سندھ میں ان کی جماعت بھی بکھر گئی تھی تاہم حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ نواز کے چند ایک حلقوں میں امیدوار موجود ہیں ۔

کراچی میں اے این پی کے امیدوار دستبردار ہونے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مقابلہ ہے مگر اکثر نشستوں پر ایم کیو ایم کا پلڑا بھاری ہے۔

صوبے کے دیہی علاقوں میں سابق حکمران اتحاد جماعت مسلم لیگ قاف، پیر پاگارا کی مسلم لیگ فنکشنل، غلام مصطفی جتوئی کی نیشنل پیپلز پارٹی اور بعض برادریوں کی بنیاد پر قائم کیےگئے علاقائی اتحادوں کی بااثر شخصیات اور ان کے اتحادوں کا مقابلہ ہے۔

ان انتخابات میں بارہ سے زیادہ امیدواران ایسے ہیں جو نگران حکومت کے وزراء کے قریبی رشتہ دار ہیں تو چھہتر امیدواروں کے اعزا و اقرباء ضلع یا تعلقہ ناظمین ہیں۔

گزشتہ عام اور خاص طور پر بلدیاتی انتخابات کے بعد سندھ کے بائیس اضلاع میں مختلف سیاسی گھرانوں کی ضلعی حکومتیں نظر آتی ہیں، جن میں سے نوابشاہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور ناظمہ ہیں جبکہ گھوٹکی میں مہر، جیکب آباد میں سومرو، نوشہرو فیروز میں جتوئی، شکارپور میں مہر، دادو میں جتوئی، قمبر شہداد کوٹ میں چانڈیہ، خیرپور میں سید جبکہ ٹنڈو محمد خان میں تالپور فیملی کے ضلعی ناطم ہیں۔

ارباب غلام رحیم سمیت چھ سابق وزرائے اعلٰی بھی میدان میں ہیں

ان انتخابات میں چھ سابق وزرائے اعلی سید قائم علی شاہ، آفتاب شعبان میرانی، سید مظفر حسین شاھ، لیاقت جتوئی، علی محمد مہر اور ارباب غلام رحیم شریک ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے وائس چئرمین مخدوم امین فہیم سمیت کئی ایسے امیدوار بھی ہیں جو چھٹی مرتبہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

سندھ کے سیاسی منظر نامے میں بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد میں یکسر تبدیلی ہوئی اور انتخابی مہم کے دوران لوگوں نے پی پی مخالف امیدواروں کی مہم چلانے میں مزاحمت کی۔ دادو، عمرکوٹ، گھوٹکی، قمبر شہدادکوٹ اور دیگر مقامات پر پیپلز پارٹی مسلم لیگ کے کارکنوں میں تصادم بھی ہوئے جس میں تین کارکن ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے۔ انتخابات کے روز بھی ان اضلاع میں تصادم کا خدشہ موجود ہے۔

سیاسی جماعتوں میں یہ تاثر شدت کی حد تک موجود ہے کہ انتخابات غیر جانبدارانہ اور منصفانہ نہیں ہونگے اور پی پی فوج کی نگرانی میں انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

اگرچہ مختلف اضلاع میں فوج بھیج دی گئی ہے لیکن وہ بوقت ضرورت صرف امن و امان کی بحالی کے لئے استعمال کی جائے گی۔سندھ میں تیرہ ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنوں میں سے نصف کے قریب کو حساس قرار دیا گیا ہے، مگر فوج یا رینجرز کو ذمہ داری دینے کے بجائے پولیس کے ساتھ یومیہ اجرت پر ہزاروں رضاکار بھرتی کیے گئے ہیں جو حکام کے بقول پولنگ سٹیشنوں پر نظم و ضبط قائم رکھیں گے۔

سکیورٹی اہلکاربلوچستان الیکشن
684 امیدوار اور ساٹھ ہزار سکیورٹی اہلکار
الیکشن کمشنالیکشن 2008
ملک بھر کے مختلف حلقوں میں 7335 امیدوار
مائیکل گہلرغیر ملکی مبصرین
’ابتدائی رپورٹ الیکشن کے دو دن بعد دیں گے‘
احتجاجالیکشن 2008
انتخابی دھاندلی کی تاریخ اور طریقہ کار
اسی بارے میں
پی پی پی کا بڑھتا جوش
11 February, 2008 | الیکشن 2008
پی پی: سندھی قوم پرستوں کی امید
14 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد