سندھ میں مزید بھرتیوں کی شکایات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عام انتخابات میں صرف دو روز باقی ہیں لیکن الیکشن کمیشن کے احکامات کے برعکس سندھ حکومت کی جانب سے نئی بھرتیاں کی جا رہی ہیں اور حال ہی میں صوبائی حکومت نے سولہ سو ڈاکٹروں اور پانچ سو میڈیکل سٹاف کو مستقل کرنے کی منظوری دی ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں ان ڈاکٹروں اور میڈیکل اسٹاف کو کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا تھا اور انہیں بعد میں مستقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا مگر اتحادی صوبائی حکومت میں ان ملازمتوں کی تقسیم کا فامولا طے نہ پانے کی وجہ سے اس وقت کے وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم نے اس سمری کو روک دیا تھا۔ محکمہ صحت کی نگران صوبائی وزیر فوزیہ لاری نے سنیچر کو خصوصی طور پر سندھ کے وزیراعلیٰ عبدالقادر ہالیپوٹہ سے ملاقات کی اور یہ سمری منظور کرا لی۔محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق الیکشن کے بعد پہلے معمول کے دن ان ملازمین کو آفر لیٹر جاری کر دیے جائیں گے۔ سندھ کی نگران حکومت پر مختلف محکموں میں دس ہزار سے زائد بھرتیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ سابقہ حکمران اتحاد مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ میں اپنی گنجائش نہ دیکھ کر یہ بھرتیاں کر رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو شکایات کی گئی تھیں اور گزشتہ ہفتے سندھ کے نگران وزیراعلیٰ کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تھا جس میں بھرتیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ ان احکامات کے باوجود جمعہ کو محکمہ کرمنل پراسیکیوشن میں چار سو آسامیوں کے لیے تمام اضلاع میں فوری بھرتی کے لیے انٹرویو لیے گئے۔ اس محکمے کا قلمدان خود سندھ کے نگران وزیراعلیٰ عبدالقادر ہالیپوٹہ کے پاس ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ قوانین کو بالائے طاق رکھ کر بھرتیاں کی جا رہی ہیں، الیکشن کمیشن کو کئی بار شکایات کی گئی ہیں اور انہوں نے وزیراعلیٰ کو بھی اس سے آگاہ کیا ہے مگر کوئی تدارک نہیں کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا اگر پاکستان پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی تو تمام غیر قانونی احکامات رد کیے جائیں گے۔ سید قائم علی شاہ کے موقف کے برعکس الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ نئی بھرتیوں سے لاعلم ہیں۔ صوبائی الیکشن کمشنر چودھری قمر زمان کا کہنا ہے کہ اس سے قبل جب یہ شکایات ملی تھیں تو چیف سیکرٹری کو لکھ دیا گیا تھا، اس کے بعد تو کوئی بھرتی نہیں کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ بھرتیاں ابتدا میں کی گئی تھیں مگر یہ وہ بھرتیاں تھیں جن کے سال ڈیڑھ قبل انٹرویو کیے گئے تھے۔ دریں اثنا پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نگران صوبائی وزیر اعجاز شاہ شیرازی اور ضلعی ناظم شفقت حسین شاہ نے مسلم لیگ میں شامل شیرازی اتحاد کے جلسے سے خطاب کیا ہے۔ ان دونوں افراد کے چھ بیٹے اور بھتیجے انتخابات میں مسلم لیگ ق کی جانب سے امیدوار ہیں۔ صوبائی الیکشن کمشنر چودھری قمرزمان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے اس کی کوئی شکایت نہیں کی ہے، اگر شکایت کی جاتی ہے تو فوری اس کا نوٹس لیتے ہیں اور متعلقہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو پہنچاتے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پہلا جلسہ عام ٹھٹہ میں کیا گیا تھا اور پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ’یہاں سب سے زیادہ ظلم ہے اس وجہ سے انہوں نے یہاں پہلا جلسہ کیا ہے‘۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن کو پونے آٹھ سو شکایت کی گئی ہیں، جن میں سرفہرست ناظمین کی مداخلت اور سرکاری مشینری کے استعمال کے بارے میں ہیں ، ان جماعتوں کا کہنا ہے الیکشن کمیشن نے کسی بھی شکایت پر کوئی موثر اور واضح کارروائی نہیں کی ہے۔ |
اسی بارے میں بھرتی کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم 23 October, 2007 | پاکستان سندھ میں ملازمتوں پر پابندی عائد05 October, 2007 | پاکستان سندھ حکومت کو نوٹس جاری03 August, 2007 | پاکستان نگران وزرائےاعلٰی، کابینہ کا حلف 19 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||