سندھ میں ملازمتوں پر پابندی عائد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے صوبے میں سرکاری محکموں میں بھرتی پر پابندی عائد کر دی ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی انتہائی ضروری بھرتی کرنی بھی ہو تو اس سے پہلے عدالت سے اجازت حاصل کی جائے۔ کراچی کے سابق ناظم نعمت اللہ خان نے سرکاری محکموں میں مبینہ طور سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے درخواست میں صوبے کے چیف سیکرٹری، سیکرٹری تعلیم اور سیکرٹری داخلہ کو جوابدہ بنایا ہے۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں نے سرکاری نوکریوں کی بندر بانٹ کر لی ہے اور وہ سرکاری محکموں میں بھرتی پر پابندی کے باوجود اپنے من پسند افراد کو خلاف قانون ملازمتیں دے رہی ہیں جس سے اہل افراد نظر انداز ہو رہے ہیں اور کراچی سمیت صوبے کے عوام میں سخت بے چینی اور مایوسی پائی جاتی ہے۔ چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل ڈویژن بنچ نے جمعہ کو اس درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سیکرٹری تعلیم اور سیکرٹری داخلہ کی جانب سے حلفیہ بیان جمع کروائے گئے جن میں کہا گیا ہے کہ اتحادی حکومت کی جانب سے ملازمتوں کی کوئی تقسیم نہیں کی گئی ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ چیف سیکرٹری کی جانب سے جواب دائر کرنے کے لیے مزید وقت دیا جائے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا حکومت اپنے من پسند امیدواروں کو بھرتی کر رہی ہے یہ بھرتیاں ایمانداری سے میرٹ پر ہونی چاہئیں۔ چیف جسٹس صبیح الدین احمد کا کہنا تھا’ آپ نے مذاق بنایا ہوا ہے، جس کو چاہتے ہیں خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بھرتی کر لیتے ہیں، ہزاروں بھرتیاں ہو چکی ہیں‘۔ محکمۂ تعلیم کے سیکرٹری محمد علی نے عدالت سے استفسار کیا کہ کیا گریڈ ایک سے پانچ تک کی بھرتیوں پر یہ پابندی ہوگی جس پر چیف جسٹس نے کہا’نہیں تمام گریڈ کی ملازمتوں کی بھرتی پر پابندی ہوگی‘۔ عدالت نے حکم جاری کیا کہ جب تک اس درخواست کا فیصلہ نہیں ہوجاتا کوئی بھرتی نہ کی جائے۔ آئندہ سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔ | اسی بارے میں سیاسی بنیاد پر بھرتیاں چیلنج01 August, 2007 | پاکستان سندھ حکومت کو نوٹس جاری03 August, 2007 | پاکستان ’اداروں میں نمائندگی بڑھائی جائے‘15 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||