BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 October, 2007, 10:13 GMT 15:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھرتی کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ
پٹیشن کی سماعت چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل بینچ نے کی۔
سندھ ہائی کورٹ نے صوبے میں سرکاری محکموں میں کی گئی بھرتی کی تفصیلات اور طریقہ کار عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

کراچی کے سابق ناظم نعمت اللہ خان نے سرکاری محکموں میں مبینہ طور
پر سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کو چیلنج کیا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان بھرتیوں کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔

چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل بینچ میں منگل کو اس درخواست کی سماعت ہوئی۔

ایڈووکیٹ جنرل خواجہ نوید احمد نے عدالت کو بتایا کہ یہ درخواست قابل سماعت نہیں کیونکہ درخواست گزار متاثر فریق نہیں ہے ایک اخبار کے تراشے کی بنیاد پر مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا۔

چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے عدالت میں تحریری جواب دائر کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہم نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ہے جو بھی بھرتیاں ہیں وہ قانونی طور پر کی گئی ہیں۔

نعمت اللہ خان کے وکیل عبدالوحید نے عدالت سے گزارش کی کہ انہیں وقت دیا جائے تاکہ وہ بتا سکیں کہ حکومت نے کون سی غیر قانونی بھرتیاں کی ہیں اور کیسے کی ہیں جس کے بعد خود عدالت کو تعجب ہوگا۔

چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے ایڈووکیٹ جنرل خواجہ نوید احمد سے معلوم کیا کہ آپ نے کتنی بھرتیاں کی ہیں؟ کیا عدالت کو بتایا ہے جو آپ نے جو دستاویز فراہم کیے ہیں اس کے مطابق بھرتیوں سے پابندی ضرور ہٹائی گئی ہے مگر قوائد وضوابط نہیں بنائے ہیں جس کے بغیر کوئی بھرتی نہیں کرسکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے حکم جاری کیا کہ حکومت نے کتنے لوگ بھرتی کیے ہی اور کون سی پالیسی کے تحت یہ بھرتیاں کی گئی ہیں اس کا تفصیلی جواب دیا جائے اور نعمت اللہ خان کے وکیل کو ہدایت کی کہ ان کے پاس جو دستاویز موجود ہیں وہ بھی تیس اکتوبر کو پیش کریں جس کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کردی

سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے اپنی درخواست میں صوبے کے چیف سیکرٹری، سیکرٹری تعلیم اور سیکرٹری داخلہ کو فریق بنایا ہے۔ درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں نے سرکاری نوکریوں کی بندر بانٹ کر لی ہے اور وہ سرکاری محکموں میں بھرتی پر پابندی کے باوجود اپنے من پسند افراد کو خلاف قانون ملازمتیں دے رہی ہیں جس سے اہل افراد نظر انداز ہو رہے ہیں اور کراچی سمیت صوبے کے عوام میں سخت بے چینی اور مایوسی پائی جاتی ہے۔

گزشتہ سماعت پر عدالت نے حکم جاری کیا تھا کہ جب تک اس درخواست کا فیصلہ نہیں ہوجاتا کوئی بھرتی نہ کی جائے، عدالت نے اس حکم کو اگلی سماعت یعنی تیس اکتوبر تک جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد