’فراہمیِ تحفظ میں حکومت ناکام‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنما اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کراچی میں بم دھماکوں کے بعد حکومت کی طرف سے سیاسی جماعتوں کے لئے قوائد وضوابط بنانے کی جو تجاویز دی جارہی ہیں وہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں تاحال حکومت کی جانب سے ان سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ اتوار کو پشاور میں جے یو آئی ضلع پشاور کی مجلس عمومی کے آئینی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بم دھماکوں کے بعد حکومت نے سیاسی جماعتوں کےلئے قوائد و ضوابط مرتب کرنے کے جو اعلانات شروع کررکھے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرانے میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے۔ دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے میں اختلافات کے بارے انہوں نے کہا کہ ایک سوال کے جواب میں جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ (اے پی ڈی ایم) میں رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ پارٹی کی مرکزی مجلس شوری کے اجلاس میں 24 اور 25 اکتوبر کو کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک افغانستان سے امریکی افواج واپس نہیں جاتی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں بھی اب اس سلسلے میں ان کے اس موقف کو تسلیم کرنے پر مجبور ہورہی ہے۔ انہوں نے اس بابت پاکستان میں متعین امریکی سفیر سے اپنی حالیہ ملاقات کا خصوصی طورپر تذکرہ کیا جس میں ان کے مطابق امریکی سفیر نے عندیہ دیا تھا کہ امریکہ افغانستان سے اپنی افواج واپس بلانے پر غور کر رہا ہے۔ جے یو آئی کی مجلس عمومی کا آئینی اجلاس خصوصی طورپر اس سلسلے میں بلایاگیا تھا تاکہ ایم ایم اے میں اختلافات ، اسمبلیوں سے استعفوں اور سرحد اسمبلی کی تحلیل کے حوالے سے پارٹی کارکنوں کے خدشات کو دور کیا جاسکے۔ مولانا فضل الرحمان نے اس حوالے سے تفصیلاً کارکنوں کو تمام سیاسی صورتحال سےآگاہ کیا اور تمام حالات کا ذمہ دار جماعت اسلامی کو ٹھہرایا۔ اس موقع پر اجلاس میں جے یو آئی کے ایک کارکن نے جوش میں آکر ’ نہیں مانتے نہیں مانتے مودودی کو نہیں مانتے‘ کا نعرہ بھی لگایا تاہم پارٹی سربراہ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا۔ سابق اپوزیشن رہنما نے صدراتی انتخاب کے دوران ذرائع ابلاغ کے کردار کو بھی دبے الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک میں جو بھی صورتحال بنتی ہے میڈیا اس کا ذمہ دار ان کو ٹھہراتا ہیں۔ | اسی بارے میں کراچی: دھماکوں میں 134 ہلاک19 October, 2007 | پاکستان بم دھماکے کے بعد فضا سوگوار19 October, 2007 | پاکستان ڈیرہ بگٹی: بم دھماکہ، چار ہلاک20 October, 2007 | پاکستان ’بعض شخصیات ملوث ہوسکتی ہیں‘19 October, 2007 | پاکستان کراچی دھماکے:’تین افراد زیرِ حراست‘20 October, 2007 | پاکستان بینظیر کی زخمیوں کی عیادت21 October, 2007 | پاکستان اے پی سی بلانے کا فیصلہ: درانی20 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||