ایوب ترین کوئٹہ |  |
 | | | قوم پرست ہتھیار بند صوبائی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں |
بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں ہونیوالے ایک بم دھماکے میں کم از کم چار افراد ہلاک جبکہ تیس زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکہ ڈیرہ بگٹی شہر میں واقع گول چوک کے قریب بسوں کے ایک اڈے پر ہوا۔ گول چوک کو نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد سرکاری طور پر پاکستان چوک کہا جانے لگ گیا ہے۔ زخمیوں میں سے دو کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق شدید زخمیوں کوسوئی کے آرمی ہسپتا ل کے علاوہ پنجاب کے قریبی شہر رحیم یارخان بھی منتقل کیا گیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی پولیس کے ڈی ایس پی راجہ بشیر کے مطابق دھماکہ ایک پک اپ گاڑی میں نصب شدہ دھماکہ خیزمواد سے ہوا ہے، جس سے کئی گاڑیوں اور دکانوں کونقصان پہنچا ہے۔ ڈیرہ بگٹی میں میں دو دن قبل بلوچ عسکریت پسندوں نے ایک شخص کو حکومت کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گلا کاٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔ بلوچ ریپبلیکن آرمی نامی زیر زمین کام کرنے والی ایک تنظیم کے ترجمان سرباز بلوچ نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ بلوچ تحریک کی مخالفت کرنے اور حکومت کے لیے جاسوسی کرنے والے لوگ چند روپوں کی خاطر بلوچ وطن سے غداری جیسا کام کرنے سے باز آجائیں۔ بلوچستان میں قوم پرست ہتھیار بند زیادہ سے زیادہ صوبائی حقوق کے لیے مسلح جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں پچھلے پانچ سال کے دوران زیادہ شدت دیکھنے میں آئی ہے۔ گزشتہ سال اگست کے مہینے میں سکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن کے دوران بلوچ قوم پرست رہنماء نواب اکبر بگٹی ہلاک ہوگئے تھے۔ ڈیرہ بگٹی میں ہونیوالے بم دھماکے کا کراچی میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے استقبالی جلوس پر کیے گئے مبینہ خودکش حملے سے بظاہر کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس حملے میں کم از کم ایک سو چونتیس افراد ہلاک جبکہ پانچ سو کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہیں۔ |