BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 August, 2007, 00:54 GMT 05:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بگٹی کی قبر کے پاس پکّے مورچے‘

’جگہ جگہ فوج اور فرنٹیئر کور کے اہلکار مورچہ بند ہیں ‘
بلوچستان کے قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے ایک سال بعد بھی ضلع ڈیرہ بگٹی میں حالات کشیدہ ہیں اور صحافیوں کے داخلے پر پابندی برقرار ہے۔

حکومتی نمائندے ’سب کچھ ٹھیک ہے‘ کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن بعض عینی شاہدین کہتے ہیں کہ ضلع بھر میں چپے چپے پر فوج اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکار تعینات ہیں۔

ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سنگسیلا یونین کونسل کے نائب ناظم دریان خان بگٹی نے بتایا کہ جگہ جگہ فوج اور فرنٹیئر کور کے اہلکار مورچہ بند ہیں،’ہر آنے جانے والے کی توہین آمیز انداز میں تلاشی لی جاتی ہے اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار خواتین سے بھی بدسلوکی کرتے ہیں‘۔

اس بارے میں حکومتی موقف جاننے کے لیے بلوچستان کے وزیراعلیٰ اور صوبائی وزیر داخلہ اور دیگر ذمہ داران سے کئی بار رابطے کی کوشش کے باوجود جواب نہ مل پایا۔

نواب اکبر بگٹی مرحوم کے صاحبزادے جمیل اکبر بگٹی کا دعویٰ ہے کہ ڈیرہ بگٹی ضلع میں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں میں رشتہ داروں سے ملنے کے لیے جانے والوں کا بھی اندراج ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا ’جس طرح سرحدی علاقوں میں دورانِ جنگ حالات ہوتے ہیں اور سورج غروب ہونے کے بعد نظر آنے والے کو گولی مارنے کا حکم دیا جاتا ہے اس طرح ڈیرہ بگٹی کی صورتحال ہے‘۔

>ڈیرہ بگٹی میں زمانۂ جنگ جیسے حالات ہیں: جمیل بگٹی

نواب اکبر بگٹی کے ایک اور بیٹے طلال اکبر بگٹی کا کہنا ہے کہ ملٹری انٹیلیجنس کے چند افسران نے ان کے مکان اور جائیداد پر قبضہ کروایا ہے اور بگٹی قلعہ ( نواب بگٹی کی رہائش گاہ) کے گرد نواح میں آباد ہندو خاندانوں کی دکانیں بھی سرکار کے حامی بگٹی قبائل میں تقسیم کی جا رہی ہیں۔

جمہوری وطن پارٹی سے منسلک دریان خان بگٹی نے بتایا کہ مرحوم اکبر بگٹی کی قبر پر ان کے عزیز و اقارب یا حامیوں کو فاتحہ کے لیے بھی جانے نہیں دیا جاتا۔ ’یکم ستمبر سن دو ہزار چھ کو نواب بگٹی کی تدفین کے بعد سات ماہ تک سکیورٹی اہلکار قبر کے قریب درختوں تلے چارپائیوں پر ہر وقت بیٹھے رہتے تھے لیکن آج کل انہوں نے پکے مورچے بنا لیے ہیں‘۔

ڈیرہ بگٹی کے شہر سوئی سے صوبہ سندھ کے شہر کشمور پہنچنے والے ایک بگٹی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سوئی شہر میں فوجی چھاؤنی کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔ ان کے مطابق نواب بگٹی کے خاندان سمیت بگٹی قبیلے کے کئی افراد کی زمینیں فوجی چھاؤنی کی حدود میں ہیں لیکن انہیں ابھی تک معاوضہ بھی نہیں ملا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد