BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 July, 2007, 13:24 GMT 18:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے غریب الوطن

ملنگ بگتی
’روزانہ کے حملوں سے ہم غریب لوگ خوفزدہ ہوگئے تھے‘
بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں گزشتہ سال فوجی کارروائی میں بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد اب حکومت کا کہنا ہے کہ زندگی معمول پر آ گئی ہے، مگر بلوچ مزاحمت کاروں کے خلاف آپریشن کے دوران علاقے سے نقل مکانی کرنے والے بگٹی قبیلے کے لوگ آج بھی خود کو غیرمحفوظ سمجھتے ہیں اور اپنے گھروں کو واپس جانے کو تیار نہیں۔

کراچی کے نزدیک سپر ہائی وے پر کھلے آسمان تلے ان لوگوں نے خانہ بدوشوں کی طرز پر جھونپڑیاں بنائی ہوئی ہیں۔ ان عارضی قیام گاہوں میں قریباً دو سو افراد زندگی بسر کر رہے ہیں جن میں عورتیں، بچے، بوڑھے، جوان سب ہی شامل ہیں۔

انہی غریب الوطن لوگوں میں شامل ملنگ بگٹی کہتے ہیں کہ انہوں نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت سے قبل ہی اپنا گھر بار اور علاقہ چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’جہاز آتے تھے اور بمباری کرتے تھے۔ روزانہ کے ان حملوں سے ہم غریب لوگ خوفزدہ ہوگئے تھے‘۔

بگٹی قبیلے کے یہ لوگ اس وقت سندھ کے علاقے نصیرآباد، حیدرآباد اور کراچی کے نواح میں رہائش پذیر ہیں اور خوف کی وجہ سے انہوں نے شہروں سے باہر رہائش اختیار کی ہوئی ہے۔

ان خاندانوں کی مشکلات میں حالیہ بارشوں نے مزید اضافہ کر دیا ہے

کراچی میں رہنے والے یہ افراد انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے پاس نہ تو روزگار ہے نہ ہی سر چھپانے کے لیے آشیانہ۔ مرد سبزی منڈی کی باسی اور سڑی ہوئی سبزیاں اٹھاکر لاتے ہیں جو گھر میں پکائی جاتی ہیں جبکہ عورتیں اور بچے بھیک مانگتے ہیں۔

یہ لوگ مقامی مارکیٹوں میں بھی کوئی روزگار نہیں ڈھونڈ سکے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ ان کے بقول یہ ہے کہ وہ اردو اور سندھی نہیں بول سکتے جبکہ ان کے پاس شناختی کارڈ بھی نہیں ہیں۔محمد مراد بگٹی کہتے ہیں کہ بگٹی قبیلے سے تعلق ہونے کی وجہ سے لوگ ان سے ڈرتے بھی ہیں اور اس وجہ سے بھی کوئی ملازمت دینے کو تیار نہیں ہے۔

ڈیرہ بگٹی چھوڑنے والوں میں کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ میں نچلے درجے کے ملازم تھے مگر آپریشن کے دوران انہیں اپنی نوکریوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔

ایک برطرف ملازم کے بیٹے محمد اسحاق بتاتے ہیں کہ ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں وہ کاشتکاری کرتے تھے،گندم اور دیگر فصلیں اگاتے تھے اور خوشحال تو نہیں تھے البتہ اپنی زندگی سے مطمئن ضرور تھے۔

ان لوگوں نے شہروں سے باہر رہائش اختیار کی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نواب اکبر بگٹی ان کا خیال رکھتے تھے جب انہوں نے علاقہ چھوڑا تو یہاں بھی آغا شاہد بگٹی نے انہیں خرچہ فراہم کیا تھا مگر اب وہ بھی رابطہ نہیں کرتے۔

حالات کے ستم رسیدہ ان خاندانوں کی مشکلات میں حالیہ بارشوں نے مزید اضافہ کر دیا ہے کیونکہ لکڑیوں کی مدد سے بنائی گئی ان کی جھونپڑیوں کو طوفانی ہوائیں اور موسلادھار بارش بہا کر لے گئیں۔ علی اکبر نامی ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ بارش کے دوران ایک بزرگ خاتون کی ہلاکت ہوئی اور جب ان کی تدفین کے لیے انہوں نے قبر کھودی تو ان کے بقول لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور چار ہزار روپے طلب بھی کیے جو انہیں آپس میں چندہ کر کے دینا پڑے۔

حکومت سندھ نے کراچی کے بارش سے متاثرہ خاندانوں کے لیے جس امداد کا اعلان کیا ہے یہ لوگ وہ بھی نہیں لے سکتے کیونکہ وجہ وہی ہے کہ ان کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہے۔

محمد مراد بگٹی کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی کوئی گاڑی آتی ہے تو بریانی کی تھیلی دے جاتی ہے اور کوئی مدد نہیں ہوئی ہے۔ پینے اور دیگر استعمال کے لیے پانی کا حصول بھی ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے اور انہیں دور جا کر پانی بھر کر لانا پڑتا ہے۔

تاہم ان تمام تر مشکلات کے باوجود یہ دربدر خاندان واپس جانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہیں اب بھی ڈر ہے کہ انہیں نہ تو وہاں تحفظ ملے گا اور نہ روزگار۔

اسی بارے میں
سائیں کیا خاطر کریں۔۔۔
06 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد