BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: پچپن افراد حراست میں

کوہلو میں کارروائی ( فائل فوٹو)
اس کارروائی میں ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے ( فائل فوٹو)
بلوچستان کے علاقہ سوئی اور پٹ فیڈر کے قریب فوج نیم فوجی دستے اور پولیس نے مشترکہ کارروائی ہے اور پچپن افراد کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا ہے۔

اس کارروائی میں ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے ہیں اور کارروائی صبح سویرے شروع کی گئی جو شام تک جاری رہی۔ سوئی میں کٹھن کے علاقے کا محاصرہ کرکے چھاپے مارےگئے ہیں۔ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ سکیورٹی فورسز اور پولیس کو مطلوب افراد کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

ڈیرہ بگٹی کے ضلعی پولیس افسر نجم الدین ترین نے بتایا ہے اس کارروائی میں ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے ہیں لیکن کہیں کوئی بمباری نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پچپن مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے جس کے بعد بے گناہ افراد کو چھوڑ دیا جائے گا اور پولیس کو مطلوب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

دریں اثناء سرباز بلوچ نامی ایک شخص نے خود کو ایک نئی مسلح تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بھاری اسلحہ سے کارروائی کی ہے جس میں بے گناہ افراد ہلاک اور گرفتار کیےگئے ہیں۔

انہوں نےدعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی کے جواب میں مسلح افراد نے سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ کیا ہے جس میں فورسز کا جانی نقصان ہوا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

 ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں دسمبر دو ہزار پانچ میں مبینہ فوجی کارروائی شروع کی گئی تھی جس کے بعد حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ بڑی تعداد میں فراری کیمپ تباہ کر دیے گئے ہیں اور مزاحمت کار مارے گئے ہیں لیکن اس دوران دھماکے جنوبی بلوچستان کے مختلف علاقوں تک پھیل گئے ہیں

یاد رہے اس علاقے میں دو روز پہلے نا معلوم افراد نے رینجرز کی چوکی پر حملہ کیا تھا جس میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے پہلے اسی علاقے میں مسلح قبائلیوں نے دعوی کیا تھا کہ ایک فوجی قافلے اور ایک چوکی پر حملہ کیا گیا ہے جس میں فورسز کا جانی نقصان ہوا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں دسمبر دو ہزار پانچ میں مبینہ فوجی کارروائی شروع کی گئی تھی جس کے بعد حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ بڑی تعداد میں فراری کیمپ تباہ کر دیے گئے ہیں اور مزاحمت کار مارے گئے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ بڑی تعداد میں مسلح افراد نے ہتھیار ڈال کر حکومت کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ لیکن ان سب دعؤوں کے باوجود ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے مختلف علاقوں سے دھماکوں، راکٹ باری اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔ یہ دھماکے اور حملے اور ڈیرہ بگٹی یا کوہلو تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ جنوبی بلوچستان کے مختلف علاقوں تک پھیل گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد