BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 October, 2007, 16:46 GMT 21:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بعض شخصیات ملوث ہوسکتی ہیں‘

بینظیر بھٹو
پریس کانفرنس میں بینظر سیاہ پٹی باندھی تھی ہوئی تھیں
پاکستان پیپلز پارٹی کی تاحیات چیئر پرسن اور سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے استقبالی جلوس پر ہونے والے دونوں خود کش حملے تھے اور حملہ آوروں کا مقصد انہیں اور ان کے ساتھیوں کو ختم کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے استقبالی جلوس پر حملے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیغام ہیں کہ وہ اپنی انتخابی مہم آزادانہ طریقے سے نہ چلائیں۔ لیکن بینظیر بھٹو نے کہا کہ وہ اپنے جلسے جلوسوں کے ذریعے سیاسی عمل جاری رکھیں گی۔

بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ انہوں نے سولہ اکتوبر کو صدر جنرل پرویز مشرف کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ ’اگر مجھے کچھ نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ داری تین حکومتی شخصیات پر عائد ہوگی۔‘ تاہم انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران ان تین حکومتی شخصیات کا نام نہیں لیا۔

انہوں نے کہا کہ خط میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ بظاہر حملہ کوئی بھی تنظیم کرے لیکن اصل ذمہ داری ان تین شخصیات پر ہوگی۔ جب ان سے پوچھا کہ کیا ان پر ہونے والے حملوں میں ریاستی عوامل کا ہاتھ ہوسکتا ہے تو بینظیر بھٹو نے کہا کہ انہوں نے خط میں جن شخصیات کی نشاندہی کی ہے وہ اپنے عہدوں کا غلط استعمال کرسکتے ہیں۔

’حملوں کی وارننگ برادر ملک سے‘
 سابق وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے ایک برادر ملک نے حکومت کو معلومات فراہم کی کہ ایک افغانستان کے طالبان اور دوسرا القاعدہ کے ایک گروپ نے خود کش حملوں کی تیاری کی ہے۔ ان کے مطابق پڑوسی ملک نے ممکنہ خود کش حملہ آوروں کے نام اور فون نمبر بھی فراہم کیے لیکن پاکستان حکومت نے کچھ نہیں کیا۔
بینظیر بھٹو نے اپنے خیرمقدمی جلوس پر حملے کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فی الوقت وہ ان حملوں کی ذمہ دار حکومت کو قرار نہیں دیتیں۔

بینظیر بھٹو نے بلاول ہاؤس میں حملوں کے بعد پہلی نیوز کانفرنس میں اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والے حملوں اور اپنے کارکنوں کی اڑتی لاشوں کا آنکھوں دیکھا حال بڑی تفصیل سے بیان کیا۔

’ہمارا جلوس جیسے ہی آگے بڑھا اور جب اندھیرا ہونا شروع ہوا تو اچانک شاہراہ فیصل کی سٹریٹ لائٹس بند ہوگئیں۔ یہ اہم معاملہ ہے کہ سٹریٹ لائٹس کیوں بند ہوئیں؟ مخدوم امین فہیم نے قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری طارق عزیز اور دیگر ساتھیوں نے بعض اور حکومتی ذمہ داروں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن تاحال جواب نہیں ملا ہے۔‘

بینظیر بھٹو نے کہا کہ ان کے گارڈز جو ان کے بقول بینظیر کے جان نثار ہیں انہیں اتنی تربیت دی گئی تھی کہ وہ اگر روشنی ہوتی تو خود کش حملہ آوروں کو روک لیتے۔ ان کے بقول جب لائٹس بند ہوگئیں تو شیری رحمٰن نے بعض ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ٹیکسٹ میسیج بھیجا کہ انہیں خطرہ ہے کہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

’مجھے کہا گیا کہ بلٹ پروف شیلڈ کے پیچھے رہیں لیکن میں نے کہا کہ قراقرم اور کشمیر سے کراچی تک لوگ میری جھلک دیکھنے آئے ہیں میں شیلڈ کے پیچھے نہیں رہ سکتی اور میں سامنے کھڑی رہی۔ خود کش حملوں سے ایک گھنٹہ پہلے ایک پستول والے مشکوک شخص کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔ جبکہ حملوں سے نصف گھنٹہ پہلے نرسری کے استقبالی کیمپ کے کارکنوں نے بارودی بیلٹ والے شخص کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔‘

’ہمیں اطمینان نہیں ہے کہ پولیس نے ان گرفتار افراد کا ابھی تک کیا کیا ہے۔ پولیس کی تحقیقات سے مطمئن نہیں، میں نے خود دیکھا کہ دھماکوں کے بعد ہمارے ساتھیوں کی لاشیں اڑ رہی تھیں۔ اس دوران میرے پاؤں سوج چکے تھے اور میں نیچے اتری تاکہ جوتے کی طسمے ڈھیلے کرسکوں اور جب میں تقریر کے لیے اوپر ٹرک پرگئی تو دھماکہ ہوا۔ کسی نے کہا کہ کریکر کا دھماکہ تھا، لیکن میرے دل میں خیال آیا کہ یہ خود کش حملہ ہوسکتا ہے۔ اتنی دیر میں دوسرا دھماکہ ہوا اور اس دوران میں نے لاشوں کو اڑتا دیکھا۔‘

ہمارے ٹرک پر فائرنگ بھی ہوئی
 ’ہمارے ٹرک پر فائرنگ بھی ہوئی اور کارپٹ کو آگ لگی تو میرے سیکورٹی ایڈوائیزر رحمٰن ملک نے وہ اٹھا کر پھینکا کیونکہ ٹرک کو آگ لگ سکتی تھی، ہوسکتا ہے کہ اس کا مقصد ٹرک کو روکنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے غیرمسلح سکیورٹی گارڈوں نے خودکش حملہ آور کو ٹرک کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور جانثارانِ بینظیر نے جان پر کھیلتے ہوئے خودکش حملہ آور کو آگے نہ بڑھنے دیا۔

’ہمارے ٹرک پر فائرنگ بھی ہوئی اور کارپٹ کو آگ لگی تو میرے سیکورٹی ایڈوائیزر رحمٰن ملک نے وہ اٹھا کر پھینکا کیونکہ ٹرک کو آگ لگ سکتی تھی، ہوسکتا ہے کہ اس کا مقصد ٹرک کو روکنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے غیرمسلح سکیورٹی گارڈوں نے خودکش حملہ آور کو ٹرک کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور جانثارانِ بینظیر نے جان پر کھیلتے ہوئے خودکش حملہ آور کو آگے نہ بڑھنے دیا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’پاکستان میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سیاسی رہنما پر ملٹی پل خود کش حملے ہوئے ہوں۔ لیکن میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ ایسے حملوں سے میں ڈرتی نہیں ہوں۔‘ بینظیر بھٹو نے اعلان کیا کہ ہلاک ہونے والے ’جاں نثارانِ بینظیر‘ کے لیے بیس اور اکیس اکتوبر کو ملک بھر میں ضلعی سطح پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔

سابق وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے ایک برادر ملک نے حکومت کو معلومات فراہم کی کہ ایک افغانستان کے طالبان اور دوسرا القاعدہ کے ایک گروپ نے خود کش حملوں کی تیاری کی ہے۔ ان کے مطابق پڑوسی ملک نے ممکنہ خود کش حملہ آوروں کے نام اور فون نمبر بھی فراہم کیے لیکن پاکستان حکومت نے کچھ نہیں کیا۔

سابق وزیراعظم نے بتایا کہ دبئی سے روانگی سے قبل انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک پاکستانی طالبان اور ایک کراچی کا گروپ بھی ان کے جلوس پر حملہ کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق طیارے میں ایک پاکستانی صحافی نے انہیں بتایا کہ ایک سینیئر ریٹائرڈ فوجی افسر نے انہیں (صحافی کو) بتایا ہے کہ کراچی میں ان کے جلوس پر ایم کیو ایم حملہ کرے گی۔ لیکن بینظیر بھٹو نے کہا کہ انہوں نے اس صحافی سے کہا کہ ایم کیو ایم ایسا نہیں کرے گی۔

جمعہ کو پریس کانفرنس میں بڑی تعداد میں غیرملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی موجود اور بینظیر بھٹو نے کھل کر سوالات کے جواب دیے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ عام انتخابات معطل کیے گئے تو ملک میں بحران بڑھے گا۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کے خیرمقدمی جلوسوں پر حملے کا باضابطہ مقدمہ درج کرانے کے بارے میں ان کی اپنے وکلاء سے مشاورت جاری ہے۔

ہمدردی کے پیغامات ملے
 بینظیر بھٹو نے کہا کہ انہیں صدر جنرل پرویز مشرف، بھارتی اپوزیشن لیڈر لال کرشن اڈوانی، ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین، سابق وزرائے اعظم میاں نواز شریف اور غلام مصطفیٰ جتوئی اور قوم پرست رہنما اسفند یار ولی کے ہمدردی کے پیغامات بھی ملے ہیں۔
پریس کانفرنس کے وقت انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ دو جگہوں پر سکینرز نصب تھے جہاں ہر صحافی اور ان کے سامان کی انتہائی باریکی سے چیکنگ کی جاتی رہی۔ تاہم اس دوران بدنظمی بھی دیکھنے کو ملی اور خاصی دھکم پیل بھی ہوئی۔

جمعہ کی شب بلاول ہاؤس کے باہر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھیے اور ہر طرف بینظیر بھٹو کی قدآور تصاویر، بینر اور پرچم لگے ہوئے تھے لیکن ماحول خاصا سوگوار نظر تھا۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ انہیں صدر جنرل پرویز مشرف، بھارتی اپوزیشن لیڈر لال کرشن اڈوانی، ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین، سابق وزرائے اعظم میاں نواز شریف اور غلام مصطفیٰ جتوئی اور قوم پرست رہنما اسفند یار ولی کے ہمدردی کے پیغامات بھی ملے ہیں۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ انہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کیمومن، وائٹ ہاؤس، پاکستان میں چین، فرانس، اٹلی اور دیگر ممالک کے سفارتخانوں کی جانب سے اظہار ہمدردی کے فون آئے ہیں۔

لاہور میں ہمارے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ بم دھماکوں اورموجودہ حالات کی وجہ سے عام انتخابات متاثر نہیں ہونگے اور یہ اپنے وقت پر آئین اور قانون کے مطابق منعقد ہونگے۔یہ بات انہوں نے گورنر ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم نے کراچی سانحہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قابل مذمت واقعہ ہے جس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، یہ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی تھی جس کی دنیا بھر میں مذمت کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا ’ہم نے کوشش کی تھی کہ پیپلز پارٹی کے قائدین کے ساتھ مشاورت کے بعد سکیورٹی کو لاحق خطرے کا خاتمہ کیا جائے، سندھ کے سیکیورٹی سے متعلق حکام پیپلز پارٹی سے رابطے میں تھے اور انہیں ریلی کے بارے میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا گیا تھا کیونکہ خود کش حملوں کو روکنا ایک مشکل امر ہوتا ہے۔‘

شوکت عزیز نے کہا کہ ’ہم نے اپنی اطلاعات کی بنیاد پر انہیں بتایا تھا کہ خطرات موجود ہیں لیکن حتمی فیصلہ تو بے نظیر نے کرنا تھا۔‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک آصف زرداری کے الزامات کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں تحقیقات ہو رہی ہے اور حتمی نتائج آنے تک کسی کا نام لینا مناسب عمل نہیں ہے۔

بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
’عادت بدلنا ہوگی‘
جلوس اور قواعد و ضوابط کی اہمیت
بینظیر بال بال بچ گئیں
بینظیر پر حملے کی وارننگ سچ ثابت ہوئی
لوگ کیا کہتے ہیں
’ہم جمہوریت چاہتے ہیں کرپشن نہیں‘
خود کش حملہ (فائل فوٹو)پاکستان میں دہشت
’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘
افتخار کے بعد بینظیر
وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا
اخباراتبے نظیر کی واپسی
بم دھماکے اور ہلاکتیں اخبارات کی شہ سرخیاں
اسی بارے میں
کراچی: دھماکوں میں 134 ہلاک
19 October, 2007 | پاکستان
بم دھماکےاخبارات کی سرخیاں
19 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد