علی سلمان بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور |  |
 | | | فاروق لغاری نے قومی حکومت کی ضرورت پر زور دیا |
پاکستان میں حکمران مسلم لیگ کے سینیئر عہدیدار اور سابق صدر فاروق لغاری نے انتخابات سے پہلے اتفاق رائے کی ایک قومی حکومت بنانے کی تجویز دی ہے اور کہا ہے ملکی حالات قابو میں آنے کے بعد ہی عام انتخابات ہونے چاہیے۔ وہ جمعرات کو لاہور کے نواح رائے ونڈ روڈ پر اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے سانحہ کراچی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر معاملے میں القاعدہ اور طالبان پر الزام نہیں دھر دینا چاہیے بلکہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را پر بھی نظر رکھنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ انڈیا پاکستان کا دشمن ہے اور وہ پاکستان کو غیرمستحکم دیکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ کراچی پر پورا ملک سوگوار ہے، ملکی حالات سنگین ہیں، وزیر ستان سے لیکر کراچی تک ملک کا کوئی حصہ محفوظ نہیں جہاں صحیح معنوں میں الیکشن ہوسکیں۔  | مفاہمتی آرڈیننس کی مخالفت  فاروق لغاری نے کہا کہ وہ حکمران مسلم لیگ کا حصہ ہونے کے باوجود مفاہمتی آرڈیننس کی مخالفت کرتے ہیں۔ قوم کا پیسہ لوٹنے والوں نے قوم سے معافی مانگی نہ لوٹ کی رقم واپس کی، انہیں ایسے کس طرح معافی دی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس پر سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی۔  |
انہوں نے کہا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو سیاسی جماعتیں کیسے بڑے اجتماعات کرسکیں اور کس طرح اپنا نقطۂ نظر عوام تک پہنچا پائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں حکومت کا فرض بنتا ہے کہ پہل کرے اور قومی حکومت کے قیام کی طرف پیش رفت کی جائے۔فاروق لغاری نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا نام لیکر کہا کہ ان سب کو ملکر ایک قومی حکومت بنانی چاہیے جس کا سربراہ ایک غیرجانبدار غیرسیاسی شخصیت کو بنایا جائے اور اس حکومت کا واحد ایجنڈا ملک کی موجودہ صورتحال کو کنٹرول کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک دہشت گردی، خودکش بمباری اور انتہاپسندی ختم نہیں ہوتی اس وقت تک ملک میں صحیح معنوں میں آزادانہ انتخابات نہیں ہوسکتے۔ ایک سال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حالات قابو میں آنے میں ایک برس لگ سکتا ہے۔انہوں نے کہا ملک جمہوریت کی جانب بڑھ رہا ہے اور فوری اقدامات نہ ہونے کی صورت میں انہیں مارشل لاء کا خطرہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سابق صدر نے کہا کہ وہ انتخابات ملتوی کرانے کا نہیں کہہ رہے اور وہ خود الیکشن کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں الیکشن کیسے کروائے جاسکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی بینظیر حکومت کو برطرف کرنے والے سابق صدر فاروق لغاری نے مفاہمتی آرڈیننس کو قوم پر بدنما داغ قرار دیا اور کہا کہ ان کا بینظیر حکومت کو بدعنوانی کےالزامات پر برطرف کرنا دس ہزار فی صد درست اقدام تھا۔ فاروق لغاری نے کہا کہ وہ حکمران مسلم لیگ کا حصہ ہونے کے باوجود مفاہمتی آرڈیننس کی مخالفت کرتے ہیں۔ قوم کا پیسہ لوٹنے والوں نے قوم سے معافی مانگی نہ لوٹ کی رقم واپس کی، انہیں ایسے کس طرح معافی دی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس پر سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ لٹیرے قوم کا پیسہ واپس کردیں اور عوام سے معافی مانگیں پھر ان کی معافی کی بات کی جاسکتی ہے۔ |