BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 October, 2007, 15:55 GMT 20:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر حملہ، را پر نظر: لغاری

فاروق لغاری نے قومی حکومت کی ضرورت پر زور دیا
پاکستان میں حکمران مسلم لیگ کے سینیئر عہدیدار اور سابق صدر فاروق لغاری نے انتخابات سے پہلے اتفاق رائے کی ایک قومی حکومت بنانے کی تجویز دی ہے اور کہا ہے ملکی حالات قابو میں آنے کے بعد ہی عام انتخابات ہونے چاہیے۔

وہ جمعرات کو لاہور کے نواح رائے ونڈ روڈ پر اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے سانحہ کراچی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر معاملے میں القاعدہ اور طالبان پر الزام نہیں دھر دینا چاہیے بلکہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را پر بھی نظر رکھنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ انڈیا پاکستان کا دشمن ہے اور وہ پاکستان کو غیرمستحکم دیکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ کراچی پر پورا ملک سوگوار ہے، ملکی حالات سنگین ہیں، وزیر ستان سے لیکر کراچی تک ملک کا کوئی حصہ محفوظ نہیں جہاں صحیح معنوں میں الیکشن ہوسکیں۔

مفاہمتی آرڈیننس کی مخالفت
 فاروق لغاری نے کہا کہ وہ حکمران مسلم لیگ کا حصہ ہونے کے باوجود مفاہمتی آرڈیننس کی مخالفت کرتے ہیں۔ قوم کا پیسہ لوٹنے والوں نے قوم سے معافی مانگی نہ لوٹ کی رقم واپس کی، انہیں ایسے کس طرح معافی دی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس پر سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو سیاسی جماعتیں کیسے بڑے اجتماعات کرسکیں اور کس طرح اپنا نقطۂ نظر عوام تک پہنچا پائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں حکومت کا فرض بنتا ہے کہ پہل کرے اور قومی حکومت کے قیام کی طرف پیش رفت کی جائے۔

فاروق لغاری نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا نام لیکر کہا کہ ان سب کو ملکر ایک قومی حکومت بنانی چاہیے جس کا سربراہ ایک غیرجانبدار غیرسیاسی شخصیت کو بنایا جائے اور اس حکومت کا واحد ایجنڈا ملک کی موجودہ صورتحال کو کنٹرول کرنا ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک دہشت گردی، خودکش بمباری اور انتہاپسندی ختم نہیں ہوتی اس وقت تک ملک میں صحیح معنوں میں آزادانہ انتخابات نہیں ہوسکتے۔

ایک سال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حالات قابو میں آنے میں ایک برس لگ سکتا ہے۔انہوں نے کہا ملک جمہوریت کی جانب بڑھ رہا ہے اور فوری اقدامات نہ ہونے کی صورت میں انہیں مارشل لاء کا خطرہ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سابق صدر نے کہا کہ وہ انتخابات ملتوی کرانے کا نہیں کہہ رہے اور وہ خود الیکشن کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں الیکشن کیسے کروائے جاسکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی بینظیر حکومت کو برطرف کرنے والے سابق صدر فاروق لغاری نے مفاہمتی آرڈیننس کو قوم پر بدنما داغ قرار دیا اور کہا کہ ان کا بینظیر حکومت کو بدعنوانی کےالزامات پر برطرف کرنا دس ہزار فی صد درست اقدام تھا۔

فاروق لغاری نے کہا کہ وہ حکمران مسلم لیگ کا حصہ ہونے کے باوجود مفاہمتی آرڈیننس کی مخالفت کرتے ہیں۔ قوم کا پیسہ لوٹنے والوں نے قوم سے معافی مانگی نہ لوٹ کی رقم واپس کی، انہیں ایسے کس طرح معافی دی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس پر سپریم کورٹ فیصلہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ لٹیرے قوم کا پیسہ واپس کردیں اور عوام سے معافی مانگیں پھر ان کی معافی کی بات کی جاسکتی ہے۔

لوگ کیا کہتے ہیں
’ہم جمہوریت چاہتے ہیں کرپشن نہیں‘
بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘
اس استقبال کے بعد یہ نعرہ عجیب نہیں لگا
’عادت بدلنا ہوگی‘
جلوس اور قواعد و ضوابط کی اہمیت
خود کش حملہ (فائل فوٹو)پاکستان میں دہشت
’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘
افتخار کے بعد بینظیر
وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا
اخباراتبے نظیر کی واپسی
بم دھماکے اور ہلاکتیں اخبارات کی شہہ سرخیاں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد