احمد رضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | اگر کوئی شہادت ریکارڈ کرانا چاہتا ہے تو تحقیقاتی افسران سے رجوع کرے |
سندھ ہائی کورٹ نے ’بارہ مئی‘ کے واقعات کے متعلق عدالت کے رجسٹرار کے ریفرنس اور آئینی درخواستوں کی سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کردی ہے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں کام کرنے والے ایک سات رکنی بینچ نے پیر کو لگ بھگ ایک ماہ کے وقفے کے بعد اس معاملے کی دوبارہ سماعت شروع کی تو ہائی کورٹ کے اندر اور باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی جبکہ عدالت میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد تھی۔ سماعت کے موقع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد عدالت کے مرکزی دروازے کے باہر جمع تھی، جن کا کہنا تھا کہ وہ بارہ مئی کے واقعات کے عینی شاہدین ہیں اور عدالت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم پر تشدد کے واقعات کا الزام جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
 | مشین گنز اور آنسو گیس  یہ تاثر غلط ہے کہ بارہ مئی کے دن پولیس غیرمسلح تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دن منتخب پولیس اہلکاروں کو 700 سب مشین گنز اور آنسو گیس پھینکنے والی 3000 گنز دی گئی تھیں  راجہ قریشی |
سماعت کے دوران سرکاری وکیل راجہ قریشی اور ڈپٹی اٹارنی جنرل رضوان صدیقی نے دلائل دیے۔ راجہ قریشی کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ بارہ مئی کے دن پولیس غیرمسلح تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دن منتخب پولیس اہلکاروں کو 700 سب مشین گنز اور آنسو گیس پھینکنے والی 3000 گنز دی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بارہ مئی سے قبل چیف جسٹس سپریم کورٹ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کراچی کا دورہ ملتوی کردیں کیونکہ اس دن شہر میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان تصادم کا خدشہ ہے، لیکن وہ کراچی پہنچے اور فسادات میں باون افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح حکومت نےگزشتہ دنوں بے نظیر بھٹو کو بھی بم حملوں کے خطرے کی بناء پر پاکستان نہ آنے کا مشورہ دیا تھا لیکن وہ بھی کراچی آئیں اور ان کے استقبالیہ جلوس میں بم دھماکوں کے نتیجے میں 134 لوگوں کی اموات ہوئیں۔
 | | | لوگوں کی ایک بڑی تعداد عدالت کے مرکزی دروازے کے باہر جمع تھی |
راجہ قریشی نے عدالت سے کہا کہ واقعہ کے عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں، جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ یہ کوئی انکوائری ٹریبونل نہیں ہے، لیکن اگر کوئی اپنی شہادت ریکارڈ کرانا چاہتا ہے تو اسے پولیس کے تحقیقاتی افسران سے رجوع کرنا چاہیے۔جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ ’یہ حقائق جاننے کا عمل ہے، عدالت صرف یہ جاننا چاہتی ہے کہ بارہ مئی کے دن حفاظتی انتظامات میں کیا نقائص تھے اور ان کے ذمہ دار کون ہیں، کیونکہ اس دن پولیس حالات کنٹرول کرنے میں ناکام رہی۔‘ عدالت نے سرکاری وکلاء سے کہا کہ وہ چیف جسٹس کی سکیورٹی کے حوالے سے قواعد کے بارے میں بھی عدالت کو آگاہ کریں۔ |