BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارہ مئی واقعات، سماعت ملتوی

سندھ ہائیکورٹ
اگر کوئی شہادت ریکارڈ کرانا چاہتا ہے تو تحقیقاتی افسران سے رجوع کرے
سندھ ہائی کورٹ نے ’بارہ مئی‘ کے واقعات کے متعلق عدالت کے رجسٹرار کے ریفرنس اور آئینی درخواستوں کی سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کردی ہے۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں کام کرنے والے ایک سات رکنی بینچ نے پیر کو لگ بھگ ایک ماہ کے وقفے کے بعد اس معاملے کی دوبارہ سماعت شروع کی تو ہائی کورٹ کے اندر اور باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی جبکہ عدالت میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد تھی۔

سماعت کے موقع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد عدالت کے مرکزی دروازے کے باہر جمع تھی، جن کا کہنا تھا کہ وہ بارہ مئی کے واقعات کے عینی شاہدین ہیں اور عدالت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم پر تشدد کے واقعات کا الزام جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

مشین گنز اور آنسو گیس
 یہ تاثر غلط ہے کہ بارہ مئی کے دن پولیس غیرمسلح تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دن منتخب پولیس اہلکاروں کو 700 سب مشین گنز اور آنسو گیس پھینکنے والی 3000 گنز دی گئی تھیں
راجہ قریشی

سماعت کے دوران سرکاری وکیل راجہ قریشی اور ڈپٹی اٹارنی جنرل رضوان صدیقی نے دلائل دیے۔ راجہ قریشی کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ بارہ مئی کے دن پولیس غیرمسلح تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دن منتخب پولیس اہلکاروں کو 700 سب مشین گنز اور آنسو گیس پھینکنے والی 3000 گنز دی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بارہ مئی سے قبل چیف جسٹس سپریم کورٹ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کراچی کا دورہ ملتوی کردیں کیونکہ اس دن شہر میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان تصادم کا خدشہ ہے، لیکن وہ کراچی پہنچے اور فسادات میں باون افراد ہلاک ہوئے۔

اسی طرح حکومت نےگزشتہ دنوں بے نظیر بھٹو کو بھی بم حملوں کے خطرے کی بناء پر پاکستان نہ آنے کا مشورہ دیا تھا لیکن وہ بھی کراچی آئیں اور ان کے استقبالیہ جلوس میں بم دھماکوں کے نتیجے میں 134 لوگوں کی اموات ہوئیں۔

لوگوں کی ایک بڑی تعداد عدالت کے مرکزی دروازے کے باہر جمع تھی

راجہ قریشی نے عدالت سے کہا کہ واقعہ کے عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں، جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ یہ کوئی انکوائری ٹریبونل نہیں ہے، لیکن اگر کوئی اپنی شہادت ریکارڈ کرانا چاہتا ہے تو اسے پولیس کے تحقیقاتی افسران سے رجوع کرنا چاہیے۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ ’یہ حقائق جاننے کا عمل ہے، عدالت صرف یہ جاننا چاہتی ہے کہ بارہ مئی کے دن حفاظتی انتظامات میں کیا نقائص تھے اور ان کے ذمہ دار کون ہیں، کیونکہ اس دن پولیس حالات کنٹرول کرنے میں ناکام رہی۔‘

عدالت نے سرکاری وکلاء سے کہا کہ وہ چیف جسٹس کی سکیورٹی کے حوالے سے قواعد کے بارے میں بھی عدالت کو آگاہ کریں۔

رسول بخش پلیجو’ کراچی کا مسئلہ‘
ہتھیار نہیں ہتھیار بند ہیں: رسول بخش پلیجو
سازش میں اہم کردار
ایم کیو ایم کا فوج کے ہاتھوں استعمال
کراچیکراچی میں قتل
شہر میں تشدد: خصوصی ضمیمہ
دو ہاتھیوں کی لڑائی
چیف جسٹس کی آمد پر عسکری طاقت کا مظاہرہ
کراچیکراچی تشدد
کون معصوم ہے اور کون قصور وار
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
کراچیلمحہ بہ لمحہ
مختلف علاقے میں موجود ہمارے رپورٹرز سے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد