BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 17 February, 2008 - Published 00:34 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان کا انتخابی منظر

بلوچستان (فائل فوٹو)
الیکشن کے موقع پر سخت خفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں
بلوچستان میں قومی اسمبلی کی چودہ اور صوبائی اسمبلی کی اکیاون جنرل نشستوں کے لیے چھ سو چوراسی امیدوار میدان میں ہیں جبکہ صوبے میں الیکشن کے موقع پر ساٹھ ہزار سکیورٹی اہلکار حفاظتی ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔

بلوچستان میں کل ووٹرز کی تعداد ساڑھے تنتالیس لاکھ سے زیادہ ہے اور سوموار کو ہونے والے انتخابات میں کل چھ سو چوراسی امیدوار میدان میں ہیں۔ان امیدواروں میں ایک سو اکتالیس قومی اسمبلی اور پانچ سو تنتالیس صوبائی اسمبلی کی اکیاون جنرل نشستوں پر مقابلہ کر رہے ہیں۔

صوبائی حکومت نے بلوچستان میں لگ بھگ ساڑھے چونتیس ہزار پولنگ سٹیشنز میں سے قریباً ساڑھے تیرہ سو پولنگ سٹیشنز کو انتہائی حساس اور ساڑھے گیارہ سو کو حساس قرار دیا ہے جبکہ صوبے میں فوج، فرنٹیئر کور، پولیس اور بلوچستان کانسٹیبلری کے ساٹھ ہزار اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔

بلوچستان کے نگراں وزیر اعلی سردار صالح محمد بھوتانی کے مطابق ظاہری طور پر تو حالات بہتر ہوئے ہیں لیکن کسی قسم کی دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہ ہو اس لیے ان پولنگ سٹیشن کو انتہائی حساس یا حساس قرار دیا گیا ہے۔

بلوچ کالعدم تنظیموں نے پولنگ سٹیشنوں پر حملوں کی دھمکی بھی دی ہے جبکہ مبصرین کا بھی کہنا ہے کہ بلوچستان میں ووٹ ڈالنے کی شرح کم ہوگی۔

 صوبائی حکومت نے بلوچستان میں لگ بھگ ساڑھے چونتیس ہزار پولنگ سٹیشنز میں سے قریباً ساڑھے تیرہ سو پولنگ سٹیشنز کو انتہائی حساس اور ساڑھے گیارہ سو کو حساس قرار دیا ہے جبکہ صوبے میں فوج، فرنٹیئر کور، پولیس اور بلوچستان کانسٹیبلری کے ساٹھ ہزار اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں

ان انتخابات میں جن حلقوں میں سخت مقابلوں کی توقع ہے ان میں این اے دو سو چھیاسٹھ جعفر آباد نصیر آباد بھی شامل ہے۔ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی ہاشم بلوچ کے مطابق یہاں مقابلہ آزاد امیدوار ظہور کھوسہ اور پیپلز پارٹی کے امیدوار میر تاج محمد جمالی کے مابین ہے۔ یہ حلقہ سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کا ہے لیکن اس مرتبہ وہ خود انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے بلکہ ان کے بھائی عبدالرحمان جمالی میدان میں ہیں۔

اسی طرح ژوب قلعہ سیف اللہ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سو چونسٹھ پر جمعیت علماء اسلام سے ہی تعلق رکھنے والے امیدواروں کے درمیان ہی سخت مقابلےکی توقع تھی تاہم اب مسلم لیگ قائداعظم کے امیدوار جعفر مندوخیل کی پوزیشن بھی بہتر ہوئی ہے اور انہوں نے ژوب میں ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب بھی کیا ہے۔ جمعیت کے نظریاتی گروپ کے سربراہ مولوی عصمت اللہ کو اب بھی اس حلقے میں مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔

تربت میں سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال کا مقابلہ یعقوب بزنجو سے ہے جبکہ کوئٹہ اور کوئٹہ چاغی کی دو نشستوں پر بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پیپلزپارٹی کے امیدواروں کے لیے ہمدردیاں بڑھی ہیں۔ ادھر سابق گورنر اور کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ خاران اور پنجگور سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔

الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والی جماعت پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے بڑی ریلیاں منعقد کی ہیں

انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی قوم پرست جماعتیں بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں متحرک ہیں اور ان میں سے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نے بڑی ریلیاں اور جلسے منعقد کیے ہیں۔

تاہم بیشتر سیاسی قائدین کا موقف ہے کہ بایئکاٹ کرنے والی جماعتوں کو اکثریتی جماعتوں کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی صدر اور کوئٹہ کی نشست پر امیدوار خدائے نور کا کہنا ہے کہ ان کی اور اے پی ڈی ایم کی منزل ایک ہی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اے پی ڈی ایم کی ساری تحریک پشتون علاقوں میں ہی کیوں ہو رہی ہے اور بلوچ علاقوں میں بڑی ریلیاں کیوں منعقد نہیں کی گئیں۔

اے پی ڈی ایم میں شامل نیشنل پارٹی کے رہنما جان محمد بلیدی کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بعد تمام سیاسی جماعتیں ان کے پاس آجائیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اے پی ڈی ایم کا بائیکاٹ کا فیصلہ درست ہے کیونکہ اب بھی بلوچستان میں فوجی آپریشن جاری ہے اور کئی لوگ گرفتار ہیں۔

اسی بارے میں
بلوچستان سردی کی لپیٹ میں
06 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد