BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 February, 2008, 09:08 GMT 14:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابی مہم: خضدار میں دھماکہ

انتخابی ریلی
انتخابی جلسوں اور ریلیوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے
بلوچستان کے شہر خضدار میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے دو امیدواروں کے مشترکہ دفتر کے سامنے دھماکہ ہوا ہے، جس میں پانچ صحافیوں سمیت بارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

خضدار کے ضلعی پولیس افسر حامد شکیل نے بتایا ہے کہ دھماکہ دو انتخابی امیدواروں کے دفتر کے سامنے ہوا ہے جہاں سائیکل کھڑے تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دو زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اس دھماکے میں پانچ صحافی بھی زخمی ہوئے ہیں جن میں روزنامہ جنگ کے نامہ نگار ایوب بلوچ شدید زخمی ہیں۔

جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں قومی اسمبلی کے آزاد امیدوار محمد عثمان ایڈووکیٹ اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار سردار اسلم بزنجو کا مشترکہ دفتر واقع ہے۔ محمد عثمان ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ پریس کانفرنس کرنے اپنے دفتر آ رہے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے ایجنسیوں کا ہا تھ ہو سکتا ہے کیونکہ ان کے کارکنوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انہیں بھی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

ایجنسیوں پر الزام
 اس کارروائی کے پیچھے ایجنسیوں کا ہا تھ ہو سکتا ہے کیونکہ ان کے کارکنوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مجھے بھی دھمکیاں مل رہی ہیں
ایڈووکیٹ عثمان

عثمان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ حکومت اپنے منظور نظر امیدواروں کو کامیاب کرانے کے لیے اس طرح کے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے جہاں ایک طرف انہیں بھی گرفتار کیا جا رہا ہے جو انتخابات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں اور دوسری طرف انتخابات میں حصہ لینے والے افراد کو اس طرح کی کارروائیوں (دھماکوں) سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔

محمد عثمان ایڈووکیٹ گرفتار قوم پرست سیاسی کارکنوں کے وکیل ہیں جبکہ سردار اسلم بزنجو کا تعلق نیشنل پارٹی سے ہے اور وہ خضدار کے ضلع ناظم رہ چکے ہیں۔ لیکن نیشنل پارٹی کے انتخابات سے بائیکاٹ کی وجہ سے وہ آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

گزشتہ روز شمالی وزیرستان کے گاؤں عیدک میں عوامی نیشنل پارٹی کے قومی اسمبلی کے امیدوار نثار خان پر خودکش حملہ ہوا تھا، جس میں خودکش بمبار سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

نثار خان تو حملے میں محفوظ رہے لیکن ہلاک ہونے والوں میں عوامی نیشنل پارٹی کے سابق عہدیدار حاجی انور شاہ اور ملک بخت الدین شامل تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد