BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 January, 2008, 14:26 GMT 19:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امام بارگاہ:خود کش حملہ، 10ہلاک

پشاور میں دھماکہ
امام بارگاہ میں ہلاک شدگان اور زخمیوں کے اعضاء بکھر گئے
پشاور کے ایک گنجان آباد علاقے میں واقع امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں دس افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ دھماکہ مرزا قاسم بیگ امام بارگاہ کے قریب ہوا جہاں مجلس جاری تھی۔

مقامی پولیس ایس ایچ او امتیاز خان کے مطابق خود کش حملہ آور مجلس میں موجود تھا جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے کے نتیجے میں امام بارگاہ میں ہلاک شدگان اور زخمیوں کے اعضاء بکھر گئے اور خون پھیل گیا۔

دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ ان تمام ہسپتالوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

ہسپتال میں پہنچنے والے افراد میں خاصا غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں امام بارگاہ کے متولی ذاکر حسین کا نام بھی لیا جا رہا ہے ۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایک ڈاکٹر جانباز کے مطابق اس وقت اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ زخمیوں کو کیسے زخم آئے ہیں۔

جس علاقے میں یہ دھماکہ ہوا وہاں اور بھی امام بارگاہیں واقع ہیں اور ان امام بارگاہوں سے افراد ہسپتال کے باہر جمع ہو گئے اور انہوں نے کافی نعرے بازی کی اور کافی دیر تک ماتم کرتے رہے۔ لیکن کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

ایک عینی شاہد فرخ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس والوں نے اس شخص کو روکنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنے آپ کو جھٹکا دے کر چھڑایا اور آگے کھڑے پولیس والوں کی ٹانگوں میں سے گزر کے یہ زبردستی امام بارگاہ کے اندر داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

امام بارگاہ کے منتظمین میں سے ایک غلام عباس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’میں نے ایک نوجوان شخص کو دروازے پر موجود سکیورٹی اہلکاروں کو دھکا دیتے دیکھا۔ وہ بھاگا اور پھر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے بعد دھواں پھیل گیا۔ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی اور دروازے کے پاس اعضاء پھیل گئے۔ بجلی چلی گئی اور بہت سے لوگ زخمی بھی ہوئے‘۔

پشاور میں خود کش حملہ 2007 جنوری
گزشتہ برس بھی محرم میں اسی علاقے میں خودکش حملہ ہوا تھا

فرخ کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہوگی کیونکہ صرف زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ جو لوگ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے ان کی نعشیں ہسپتال نہیں پہنچائی گئیں۔

دھماکے کے ایک عینی شاہد وقار حسین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ’ اندر مرد، عورتیں اور بچے تھے۔ لوگ چیخ رہے تھے۔ پولیس نے سارا علاقہ بند کر دیا ہے جبکہ دیواروں پر خون کے چھینٹے ہیں‘۔

دھماکے کے بعد امام بارگاہ میں موجود افراد مشتعل ہوگئے اور انہوں نے امام بارگاہ سے باہر نکل کر نعرے بازی بھی کی۔ یاد رہے کہ یہ دھماکہ اسی علاقے میں ہوا ہے جہاں گزشتہ برس عاشورۂ محرم پر ہونے والے خودکش حملے میں بارہ افراد مارے گئے تھے۔

یاد رہے کہ حکومت نے محرم الحرام کے آغاز سے ہی ملک میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے تھے اور صوبہ سرحد کی نگراں حکومت نے محرم کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی اور امن ِعامہ کی غیر تسلی بخش صورتِحال کے پیشِ نظر پشاور سمیت چار اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں
محرم: سرحد میں سکیورٹی سخت
10 January, 2008 | پاکستان
محرم، پینتیس اضلاع حساس
11 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد