امام بارگاہ:خود کش حملہ، 10ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور کے ایک گنجان آباد علاقے میں واقع امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں دس افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ دھماکہ مرزا قاسم بیگ امام بارگاہ کے قریب ہوا جہاں مجلس جاری تھی۔ مقامی پولیس ایس ایچ او امتیاز خان کے مطابق خود کش حملہ آور مجلس میں موجود تھا جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے کے نتیجے میں امام بارگاہ میں ہلاک شدگان اور زخمیوں کے اعضاء بکھر گئے اور خون پھیل گیا۔ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ ان تمام ہسپتالوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال میں پہنچنے والے افراد میں خاصا غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں امام بارگاہ کے متولی ذاکر حسین کا نام بھی لیا جا رہا ہے ۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایک ڈاکٹر جانباز کے مطابق اس وقت اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ زخمیوں کو کیسے زخم آئے ہیں۔ جس علاقے میں یہ دھماکہ ہوا وہاں اور بھی امام بارگاہیں واقع ہیں اور ان امام بارگاہوں سے افراد ہسپتال کے باہر جمع ہو گئے اور انہوں نے کافی نعرے بازی کی اور کافی دیر تک ماتم کرتے رہے۔ لیکن کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ ایک عینی شاہد فرخ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس والوں نے اس شخص کو روکنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنے آپ کو جھٹکا دے کر چھڑایا اور آگے کھڑے پولیس والوں کی ٹانگوں میں سے گزر کے یہ زبردستی امام بارگاہ کے اندر داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ امام بارگاہ کے منتظمین میں سے ایک غلام عباس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’میں نے ایک نوجوان شخص کو دروازے پر موجود سکیورٹی اہلکاروں کو دھکا دیتے دیکھا۔ وہ بھاگا اور پھر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے بعد دھواں پھیل گیا۔ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی اور دروازے کے پاس اعضاء پھیل گئے۔ بجلی چلی گئی اور بہت سے لوگ زخمی بھی ہوئے‘۔
فرخ کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہوگی کیونکہ صرف زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ جو لوگ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے ان کی نعشیں ہسپتال نہیں پہنچائی گئیں۔ دھماکے کے ایک عینی شاہد وقار حسین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ’ اندر مرد، عورتیں اور بچے تھے۔ لوگ چیخ رہے تھے۔ پولیس نے سارا علاقہ بند کر دیا ہے جبکہ دیواروں پر خون کے چھینٹے ہیں‘۔ دھماکے کے بعد امام بارگاہ میں موجود افراد مشتعل ہوگئے اور انہوں نے امام بارگاہ سے باہر نکل کر نعرے بازی بھی کی۔ یاد رہے کہ یہ دھماکہ اسی علاقے میں ہوا ہے جہاں گزشتہ برس عاشورۂ محرم پر ہونے والے خودکش حملے میں بارہ افراد مارے گئے تھے۔ یاد رہے کہ حکومت نے محرم الحرام کے آغاز سے ہی ملک میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے تھے اور صوبہ سرحد کی نگراں حکومت نے محرم کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی اور امن ِعامہ کی غیر تسلی بخش صورتِحال کے پیشِ نظر پشاور سمیت چار اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا تھا۔ | اسی بارے میں محرم: سرحد میں سکیورٹی سخت10 January, 2008 | پاکستان لاہور بم دھماکہ، ہلاکتوں میں اضافہ11 January, 2008 | پاکستان کراچی: ہلاکتوں کی تعداد گیارہ 14 January, 2008 | پاکستان ’دہشتگردی میں انیس فیصد اضافہ‘14 January, 2008 | پاکستان محرم، پینتیس اضلاع حساس11 January, 2008 | پاکستان ’دو سال میں 140 خودکش بمبار‘10 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||