محرم، پینتیس اضلاع حساس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں محرم الحرام کے آغاز پر حکومت نے ملک بھر میں پینتیس اضلاع کو حساس قرار دیتے ہوئے وہاں سکیورٹی بڑھا دی ہے۔ لاہور میں خودکش حملے کے بعد لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات اٹھا لیے گئے ہیں۔ محرم الحرام اگرچہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ہمیشہ ایک بڑا چیلنج بن کر آتا ہے لیکن گزشتہ چند ماہ میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کی وجہ سے اس مرتبہ یہ چیلنج کچھ زیادہ مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی، سوات میں جاری فوجی کارروائی اور ملک کے طول و عرض میں جاری خودکش حملے لوگوں اور سرکاری اہلکاروں کی تشویش میں مزید اضافے کا باعث ہیں۔ اس چینلج سے نمٹنے کے لیے وزارت داخلہ کا معمول کے مطابق ایک بیان سامنے آچکا ہے کہ ملک بھر میں سکیورٹی ایجنسیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ عاشورہِ امن کمیٹیاں شہروں اور قصبوں کی سطح تک متحرک کر دی گئی ہیں۔
وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر (ریٹائرڈ) جاوید اقبال چیمہ کے بقول ملک کے پینتیس اضلاع کو حساس قرار دیتے ہوئے ان مقامات پر مزید سکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق صوبہ پنجاب کے بائیس اضلاع میں فوج کو بھی تیار رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہے جبکہ کئی شہروں میں سیکورٹی فورسز کے فلیگ مارچ کا آغاز ہوچکا ہے۔ صوبہ سندھ میں بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پہلے ہی فوج امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔ امام بارگاہوں اور مساجد کے باہر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ ہوٹلوں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔ صوبہ سرحد میں پشاور سمیت چار اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ بلوچستان میں محرم کے حوالے سے کوئٹہ سمیت پانچ اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، جہاں پولیس کے علاوہ فرنٹیئر کور اور انسداد دہشت گردی فورس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑا چنار میں آج کرفیو مکمل طور پر اٹھا لیا گیا ہے تاہم کسی تازہ تصادم کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ پشاور سے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ نے بتایا کہ فرقہ ورانہ فسادات سے متاثرہ قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام نے تقریباً بیس روز سے جاری کرفیو کو محرم الحرام کی وجہ سے مکمل طور پر اٹھالیا ہے۔ پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے مطابق کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں جمعہ کے روز سے محرم الحرام کے سبب کرفیو ختم کردیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق کرفیو اٹھانے کے بعد پاڑہ چنار کا بازار کھل گیا ہے اور لوگ معمول کے مطابق خریداری میں مصروف نظر آئے۔
پاڑہ چنار میں بیس روز قبل شیعہ اور سنی مسلک کے ماننے والوں کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد کرفیو نافذ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں اگرچہ شہر کی حد تک صورتحال پر قابو پالیا گیا تھا تاہم اپر اور لوئر کرم کے کئی علاقوں میں چودہ روز تک لڑائی جاری رہی تھی۔ حکام کے مطابق لڑائی میں تقریباً پینسٹھ افراد ہلاک جبکہ ایک سو بیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔ ایک ہفتہ قبل مصالحتی جرگہ فریقین کو پندرہ جون تک عارضی جنگ بندی پر راضی کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ گزشتہ سال تین مرتبہ پھوٹ پڑنے والے فسادات کے نتیجے میں پاڑہ چنار شہر میں کئی بار کرفیو نافذ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو نقل حرکت کے علاوہ خوردنی اشیاء کی دستیابی، ہسپتال تک رسائی اور سکولوں کی بندش کی صورت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ | اسی بارے میں پاکستان: سکیورٹی انتظامات سخت28 January, 2007 | پاکستان عاشورہ: فوج اور فرنٹیئر کور تعینات29 January, 2007 | پاکستان پولیس اپنی حفاظت کے لیے فکر مند30 January, 2007 | پاکستان محرم: سرحد میں سکیورٹی سخت10 January, 2008 | پاکستان محرم، بلوچستان میں سکیورٹی سخت10 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||