محرم، بلوچستان میں سکیورٹی سخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں محرم کے حوالے سے کوئٹہ سمیت پانچ اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جہاں پولیس کے علاوہ فرنٹیئر کور اور انسداد دہشت گردی فورس کی اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے۔ صرف کوئٹہ میں چھ ہزار آٹھ سو اہلکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ کوئٹہ کے پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ جمعرات کی شب سےصوبائی دارالحکومت کی باسٹھ امام بارگاہوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چھ انتہائی حساس امام بارگاہوں پر فرنٹیئر کور یعنی نیم فوجی دستوں اور پولیس کی مشترکہ چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔ رحمت اللہ نیازی کے مطابق ایک سے پانچ محرم الحرام تک پولیس، فرنٹیئر کور اور انسداد دہشت گردی کی فورس کے چھبیس سو اہلکار حساس مقامات پر تعینات کر دیے جائیں گے۔ ان میں ایک ہزار اہلکار نیم فوجی دستوں کے ہوں گے۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ آٹھ نو اور دس محرم کے دنوں میں یہ نفری دو گنی کر دی جائے گی۔ بلوچستان میں شعیہ فرقے پر حملوں کا سلسلہ انیس سو ننانوے میں شروع ہوا۔انیس سو ننیانوے کے بعد تین بڑے واقعات میں مجموعی طور پر ایک سو تیس افراد کو ہلاک کیا گیا۔ ان واقعات میں سن دو ہزار چار میں عاشورہ کے جلوس پر خودکش حملہ نمایاں رہا ہے جس میں لگ بھگ پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے پہلے سن دو ہزار تین میں پرنس روڈ پر امام بارگاہ پر اور سریاب روڈ پر پولیس کیڈٹس کی گاڑی پر حملے میں کوئی باسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق دو سال قبل علمدار روڈ پر جلوس پر حملہ کرنے والے دو خود کش حملہ آور وقت سے پہلے بم پھٹ جانے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی دوران کوئٹہ میں جمعرات کو نا معلوم افراد نے حجام کی دو دکانوں پر فائرنگ کی ہے اور اس کے بعد دستی بم پھینکا جس سے چھ افراد زخمی ہوگئے۔ رحمت اللہ نیازی نے بتایا کہ عیسی نگری میں حجام کی دکانیں ساتھ ساتھ واقع ہیں جہاں نا معلوم افراد نے پہلے فائرنگ کی اور جب لوگ وہاں جمع ہوئے تو ان پر دستی بم پھینکا۔ بلوچستان میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے حجام کی دکانوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں سے حجام اپنے آبائی علاقوں کی طرف واپس جا رہے ہیں۔ | اسی بارے میں لاہور بم دھماکہ، تیئس افراد ہلاک10 January, 2008 | پاکستان مدرسے میں دھماکہ، چھ ہلاک03 December, 2007 | پاکستان بلوچستان، سپن بولدک، تین دھماکے07 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||