مدرسے میں دھماکہ، چھ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقہ قلعہ سیف اللہ میں ایک مدرسے میں دھماکے سے چھ طالب علم ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ دھماکہ شہر سے کوئی بیس کلومیٹر دور مولوی یار محمد کے مدرسے میں ہوا ہے ۔ قلعہ سیف اللہ کوئٹہ سے کوئی ایک سو چالیس کلومیٹر دور شمال میں واقع ہے۔ قلعہ سیف اللہ ہسپتال میں موجود عینی شاہدین نے بتایا ہے چھ نوجوان طالبعلم اس دھماکے میں ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے چھ نوجوانوں کے نام حافظ نورالدین ، عبدالرؤوف، محمد آصف، رفیع اللہ اور عبدالمالک ہیں جبکہ ایک کا نام معلوم نہیں ہو سکا۔ ایک زخمی نے بتایا ہے کسی نامعلوم شخص نے دھماکہ خیز مواد مدرسے میں رکھ دیا تھا جسے طالبعلم پہچان نہیں پائے اور کچھ دیر بعد دھماکہ ہوگیا۔ قلعہ سیف اللہ کے پولیس افسر آصف غلزئی نے بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق رات ایک طویل قد کا لڑکا مدرسے میں ٹھہرنے آیا تھا جو خود کو پاگل ظاہر کر رہا تھا اور جاتے جاتے مدرسے میں بم چھوڑ گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے نوجوانوں کی عمریں پندرہ سے بیس سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچستان: بارودی سرنگ کا دھماکہ01 December, 2007 | پاکستان مدرسےمیں ’دھماکے‘ 30 ہلاک19 June, 2007 | پاکستان بلوچستان میں جسم فروش بچے18 November, 2007 | پاکستان راستے کھل گئے، طلباء مدرسے میں21 May, 2007 | پاکستان بلوچستان: پولیس کے چھاپے جاری04 November, 2007 | پاکستان مدرسے پر بمباری: 80 افراد ہلاک31 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||