بلوچستان میں جسم فروش بچے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھرکی طرح پاکستان میں بھی ہرسال بیس نومبر کو اظہارِ یک جہتی کے لیے بچوں کا عالمی دن منایا جا تا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان میں لاکھوں بچے دکانوں، گیراجوں اور کانوں میں نہ صرف نقصاندہ ماحول میں کام کرتے ہیں بلکہ مختلف قسم کے جسمانی، جنسی اور معاشی تشدد کا بھی شکار ہوتے ہیں۔ ان بچوں کی حفاظت کیلیے انیس نومبرکوبچوں کوذیادتیوں سے بچاوکا عالمی دن منایا جاتاہے۔ پاکستان میں آئے روز سینکڑوں بچے نفسیاتی، جسمانی اور جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ ان بچوں پرتشدد کسی خاص طبقے یا ادارے کی جانب سے نہیں بلکہ گھر کی سطح سے لے کر سکولوں، مدرسوں، کام کی جگہوں، کھیل کے میدانوں اور محلے کے گلی کوچوں میں تک میں ہوتا ہے اور تشدد کرنے والوں میں اساتذہ، آوارہ گر اور آجروں سے والدین تک بھی شامل ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں کچرہ اٹھانے والے، ریڑھی چلانے والے، خوانچے لگانے والے اور سبزی منڈیوں میں کام کرنے والے بچوں کو انکے حقوق دلانے کیلیے سرکاری سطح پر وہ اقدامات نہیں ہوئے ہیں البتہ ایک غیرسرکاری تنطیم سحر نے کوئٹہ میں ایسے بچوں کیلیے دو مراکز قائم کیے ہیں جو مختلف لوگوں کی جانب سے جنسی تشدد کا شکار ہونے کے بعد اب خود سٹریٹ سکس ورکرکے طورپرکام کرتے ہیںآ سحر کے پاس بحالی کے ان مراکز میں سینکڑوں کے حساب سے ایسے بچے رجسٹرڈ ہیں جن کو ہوس پرست لوگوں نے مختلف طریقوں سے جنسی بے راہ روی کی طرف مائل کیا۔ بے راہ روی کا شکار ہونے والے ان بچوں میں سے ہر ایک کی کہانی اپنی جگہ انتہائی دردناک ہے۔ ان میں اکثر بچے اب رات کو سڑکوں کے کنارے جسم فروشی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بچے شہر کے سنوکر کلبوں، منی سینماؤں، چند مخصوص قہوہ خانوں، بس اڈوں پر بھی پائے جاتے ہیں۔ اس گھناونے عمل میں بہت سے معززین بھی ان بچوں کے ذریعے جنسی تسکین حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر کوئی بچہ انکار کرے تو ان پرچوری وغیرہ کا الزام لگا کر پولیس کے حوالے کرنے کی دھمکی بھی دی جاتی ہے۔
سحرکے ڈائریکٹر عبدالودود نے بی بی سی ارود ڈاٹ کام کو بتایا کہ والدین، نگہداشت کرنے والے اور خاندان کے لوگ جو مختلف اثرات کے زیر نظر بچوں کو یا تو کم یا مکمل طور پر توجہ نہیں دیتے۔ یہ لوگ بچوں کے تن پر کپڑوں اور پیٹ میں روٹی کی فکر تو کرتے ہیں لیکن ان کی بات سننے، انہیں مختلف معاملات میں شریک کرنے اور ان کی رائے کو مقدم جاننے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ حد تو یہ ہے کہ بچوں کی باتوں تک یقین ہی نہیں کیا جاتا۔اگر کبھی بچہ بھول کر بھی یہ بتائے کہ فلاں چاہے وہ ٹیچر ہو، مولوی ہو، محلے کا بڑا لڑکاہو، گھر کا نوکر ہو یا کسی دور یا نزدیک رشتہ دار ہو کا رویہ یا اس کا چھونا اُسے اچھا نہیں لگتا تو والدین اس بات کو سننا ہی نہیں چاہتے بلکہ اکثر حالتوں میں مارپیٹ اورگالی گلوچ کر کے اسے بتاتے ہیں کہ وہ غلط ہیں یہی وجہ ہے کہ بچوں پر جنسی تشدد کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد اُن لوگوں کی ہے جنہیں بچہ پہلے سے جانتا ہے۔ ان مراکز میں آنے والے بعض بچوں کے مطابق انہیں سب سے پہلے سکول کے استاد، مولوی یاب کسی قریبی رشتہ دارنے جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔ جسکی وجہ سے زیادہ تر بچے ان رشتوں کو مد نظر رکھ کرخاموش رہتے ہیں اور ایک لمبے عرصے تک ان ہوس پرستوں کی زیادتیوں پر پردہ ڈالتے رہتے ہیں۔ عبدالودود کے مطابق کے زیادہ تر والدین نے اپنے بچوں کو سکولوں، مدرسوں، کام کی جگہوں، سودا سلف لانے کیلیے حتیٰ کہ کھیل کود کیلیے گھر سے باہر بھیجتے ہوئے ایک لمحے کیلیے بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ گھر سے باہر ان کے بچوں کو کس قسم کے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
پاکستان کے تقریباً ہر چھوٹے بڑے شہر میں ان بچوں کو سٹریٹ چلڈرن کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ ریاست کی طرف سے بنیادی ضرورتوں کی عدم فراہمی اور غربت کی وجہ سے ایسے ہزاروں بچے بے گھر ہو کر سڑکوں پر زندگی گزارنے لگتے ہیں اور زیادہ تر بھیک مانگنے اور گاڑیاں دھونے، جوتے پالش کرنے یا چھوٹی موٹی چوریاں کرنے لگتے ہیں۔ یہ بچے عام لوگوں کی حقارت کے علاوہ قانون نافذ کرنے والوں کے لیے بھی نشانہ بنتے ہیں اور انہیں آئے دن پکڑ کر آوارہ گردی کے الزام میں بند کردیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں ایسے بچوں میں زیادہ تر افغان مہاجر بچے ہیں جو اب مختلف نشوں کے بھی عادی ہوچکے ہیں۔ بلوچستان میں کچرہ اٹھانے والے، ریڑھی چلانے والے، خوانچے لگانے والے اور سبزی منڈیوں میں کام کرنے والے بچوں کو انکے حقوق دلانے کیلیے سرکاری سطح پر وہ اقدامات نہیں ہوئے ہیں البتہ ایک غیرسرکاری تنطیم سحر نے کوئٹہ میں ایسے بچوں کیلیے دو مراکز قائم کیے ہیں جو مختلف لوگوں کی جانب سے جنسی تشدد کا شکار ہونے کے بعد اب خود سٹریٹ سکس ورکرکے طورپرکام کرتے ہیںآ سحر کے پاس بحالی کے ان مراکز میں سینکڑوں کے حساب سے ایسے بچے رجسٹرڈ ہیں جن کو ہوس پرست لوگوں نے مختلف طریقوں سے جنسی بے راہ روی کی طرف مائل کیا۔ بے راہ روی کا شکار ہونے والے ان بچوں میں سے ہر ایک کی کہانی اپنی جگہ انتہائی دردناک ہے۔ ان میں اکثر بچے اب رات کو سڑکوں کے کنارے جسم فروشی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بچے شہر کے سنوکر کلبوں، منی سینماؤں، چند مخصوص قہوہ خانوں، بس اڈوں پر بھی پائے جاتے ہیں۔ اس گھناونے عمل میں بہت سے معززین بھی ان بچوں کے ذریعے جنسی تسکین حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر کوئی بچہ انکار کرے تو ان پرچوری وغیرہ کا الزام لگا کر پولیس کے حوالے کرنے کی دھمکی بھی دی جاتی ہے۔
سحرکے ڈائریکٹر عبدالودود نے بی بی سی ارود ڈاٹ کام کو بتایا کہ والدین، نگہداشت کرنے والے اور خاندان کے لوگ جو مختلف اثرات کے زیر نظر بچوں کو یا تو کم یا مکمل طور پر توجہ نہیں دیتے۔ یہ لوگ بچوں کے تن پر کپڑوں اور پیٹ میں روٹی کی فکر تو کرتے ہیں لیکن ان کی بات سننے، انہیں مختلف معاملات میں شریک کرنے اور ان کی رائے کو مقدم جاننے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ حد تو یہ ہے کہ بچوں کی باتوں تک یقین ہی نہیں کیا جاتا۔اگر کبھی بچہ بھول کر بھی یہ بتائے کہ فلاں چاہے وہ ٹیچر ہو، مولوی ہو، محلے کا بڑا لڑکاہو، گھر کا نوکر ہو یا کسی دور یا نزدیک رشتہ دار ہو کا رویہ یا اس کا چھونا اُسے اچھا نہیں لگتا تو والدین اس بات کو سننا ہی نہیں چاہتے بلکہ اکثر حالتوں میں مارپیٹ اورگالی گلوچ کر کے اسے بتاتے ہیں کہ وہ غلط ہیں یہی وجہ ہے کہ بچوں پر جنسی تشدد کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد اُن لوگوں کی ہے جنہیں بچہ پہلے سے جانتا ہے۔ ان مراکز میں آنے والے بعض بچوں کے مطابق انہیں سب سے پہلے سکول کے استاد، مولوی یاب کسی قریبی رشتہ دارنے جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔ جسکی وجہ سے زیادہ تر بچے ان رشتوں کو مد نظر رکھ کرخاموش رہتے ہیں اور ایک لمبے عرصے تک ان ہوس پرستوں کی زیادتیوں پر پردہ ڈالتے رہتے ہیں۔ عبدالودود کے مطابق کے زیادہ تر والدین نے اپنے بچوں کو سکولوں، مدرسوں، کام کی جگہوں، سودا سلف لانے کیلیے حتیٰ کہ کھیل کود کیلیے گھر سے باہر بھیجتے ہوئے ایک لمحے کیلیے بھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ گھر سے باہر ان کے بچوں کو کس قسم کے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے تقریباً ہر چھوٹے بڑے شہر میں ان بچوں کو سٹریٹ چلڈرن کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ ریاست کی طرف سے بنیادی ضرورتوں کی عدم فراہمی اور غربت کی وجہ سے ایسے ہزاروں بچے بے گھر ہو کر سڑکوں پر زندگی گزارنے لگتے ہیں اور زیادہ تر بھیک مانگنے اور گاڑیاں دھونے، جوتے پالش کرنے یا چھوٹی موٹی چوریاں کرنے لگتے ہیں۔ یہ بچے عام لوگوں کی حقارت کے علاوہ قانون نافذ کرنے والوں کے لیے بھی نشانہ بنتے ہیں اور انہیں آئے دن پکڑ کر آوارہ گردی کے الزام میں بند کردیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں ایسے بچوں میں زیادہ تر افغان مہاجر بچے ہیں جو اب مختلف نشوں کے بھی عادی ہوچکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||