مدرسےمیں ’دھماکے‘ 30 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقےشمالی وزیرستان کے ایک مدرسے میں دھماکوں سے کم از کم تیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بی بی سی اردو کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق مقامی انتظامیہ نے دتہ خیل کے شوال اسلامی مدرسے پر حملے اور ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جبکہ مقامی لوگوں کے مطابق مرنےوالوں کی تعداد تیس سے چالیس کے درمیان ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں بھی باجوڑ میں ایک مدرسے پر بمباری سے اسّی افراد ہلاک ہوئے تھے جنہیں حکومت کی جانب سے شدت پسند قرار دیا گیا تھا جبکہ مقامی ابادی کے مطابق ہلاکشدگان میں بچے اور طالبعلم شامل تھے۔ ہلاکتوں کا تازہ واقعہ صدر مقام میران شاہ سے چالیس کلو میٹر دور سرحد کے قریب پیش آیا ہے۔ یہ ایک انتہائی دشوار گزار علاقہ ہے جہاں ٹیلی فون کی سہولت میسر نہیں ہے۔ وہاں سے ملنے والی متضاد اطلاعات کی فوری طور پر تصدیق بھی ممکن نہیں۔ مقامی لوگوں اور طالبان کے ایک کمانڈر حاجی عمر کے مطابق یہ ایک فضائی حملہ تھا لیکن پاکستانی فوج کےترجمان وحید ارشد کے مطابق مقامی شدت پسند بم بنا رہے تھے جو حادثاتی طور پر پھٹ گئے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل وحید ارشد نے کہا کہ’یہ ہلاکتیں کسی فوجی آپریشن کا نتیجہ نہیں تھیں اور مقامی انتظامیہ کے مطابق اس واقعے میں پندرہ سے بیس افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب بم بنانے کی کوشش کے دوران دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا‘۔ حاجی عمر نے بی بی سی بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ حملہ امریکی طیاروں نے کیا جو کئی روز سے اس علاقے میں جاسوسی کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ’حملہ گائیڈڈ میزائل سے کیا گیا۔یہ بارود کا دھماکہ نہیں تھا ( جیسا کے فوج کے ترجمان دعوی کر رہے ہیں)۔ یہ کوئی تربیتی کیمپ نہیں تھا۔‘ خبر رساں ایجنسی اے پی نے ایک نامعلوم انٹیلی جنس افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ سرحد پار افغانستان سے تین میزائل داغے گیے جس سے شدت پسندوں کا ایک تربیتی مرکز تباہ ہوگیا۔ ایجنسی نے دوسرے انٹیلی جنس افسران کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ مدرسہ پاکستان کی سرحد کے تین کلومیٹر اندر ہے اور مبینہ شدت پسند کھلے میں بیٹھے تھے۔ ادھر افغانستان میں امریکی فوج نے کہا ہے کہ افغانستان سے میزائل داغےجانے کے بارے میں اس کے پاس کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔فوج کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل ڈیوڈ اسیٹا نے کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور ہم اس کے اقتدار اعلی کا احترام کرتے ہیں۔ |
اسی بارے میں باجوڑ ایجنسی: نو مشتبہ قبائلی رہا21 October, 2006 | پاکستان حکومت،طالبان امن معاہدے کا ٹیسٹ22 September, 2006 | پاکستان وزیرستان: دو بااثر قبائلی سردار رہا15 July, 2006 | پاکستان پاک افغان جرگہ کمیشن کا اجلاس01 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||