BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 June, 2007, 10:25 GMT 15:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمس تبریز کب آئے گا؟


سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد کافی بڑی تعداد میں پاکستانی بھی امریکہ کے خلاف جہاد کے لیے افغانستان چلے گئے تھے۔ ان میں سے کئی ابھی تک واپس نہیں آئے۔ ان کے ساتھ کیا ہوا؟ یہی جاننے کے لیے بی بی سی اردو کی سمیرا اسلم نے ٹھیک پانچ سال بعد پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ سے لیکر افغانستان کے صوبہ بلخ تک کا سفر کیا۔ ان کے اس سفر پر مبنی سلسلہ وار مضامین آپ ان صفحات پر پڑھ رہے ہیں۔ ہرمضمون کے آخر میں دیے گئے لنک کے ذریعے آپ بی بی سی اردو کی عالمی سروس کا خصوصی پروگرام ’باجوڑ سے بلخ تک‘ بھی سن سکتے ہیں۔ یہ اس سلسلے کا تیسرا مضمون ہے۔


یہ افغانستان اور عراق میں اتنی مماثلت کیوں ہے۔ یہاں تک کہ علی بھی دونوں جگہ دفن ہیں۔ افغانیوں کاماننا ہے کہ ان کے بادشاہ ابو مسلم خراسانی نے ایک دن خواب میں حضرت علی کو دیکھا تھا اور ان کے حکم کے مطابق ان کا جسد خاکی نجف سے نکال کر یہاں لے آیا تھا۔ ضحرامیں ان کا مزار بنوایا اور آہستہ آہستہ مزار کے ارد گرد شہر بنتا چلا گیا جسے اب مزار شریف کہتے ہیں۔

اسی شہر میں وہ سلطان رضیہ سکول بھی ہے جس کے ارد گرد سے سن دو ہزار ایک میں جمع کی ہوئی پاکستانیوں کی لاشوں کی آئی سی آر سی والوں نے تصویریں کھینچی تھیں لیکن چار سال تک ان کی ہمت نہیں پڑی کہ یہ تصویریرں مالاکنڈ اور باجوڑ میں لوگوں کو دکھا کر پوچھیں کہ یہ آپ کے بیٹے کی تو نہیں ہے۔

مزار شریف صوبہ بلخ میں ہے۔ افغانی مولانا جلال الدین رومی کومولانا بلخی کہتے ہیں کیونکہ وہ یہیں پیدا ہوئے تھے۔ وہی مولانا رومی جن کے بارے میں ایک اور صوفی شاعر جامی نے کہا تھا کہ وہ پیغمبر تو نہیں تھے لیکن ان کے پاس کتاب تھی۔ جامی مثنوی کا ذکر کر رہے تھے۔ اور اسی مثنوی کے انگریزی ترجمے کی وجہ سے اس وقت امریکہ میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعر مولانا بلخی ہی ہیں۔

امریکی بلخ کی سڑکوں پر بکتر بند گاڑیوں میں گھومتے اور پہرا دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ویسے ہی جیسے وہ عراق میں جمہوریت کی حفاظت کر رہے ہیں لیکن انسانوں کی نہیں کر پا رہے۔ اور انسان تو وہاں شاید اب کوئی رہتا ہی نہیں ہے، شعیہ رہتا ہے، سنی یا کرد۔ افغانستان میں بھی شاید کوئی انسان نہیں رہتا، پشتون ہے، تاجک ہے، ازبک ہے یا ہزارہ۔

باجوڑ اور مالاکنڈ کے پاکستانی وہاں امریکیوں سے لڑنے گئے تھے لیکن سامنا افغانیوں سے ہوگیا۔ وہ تو سلطان رضیہ سکول کے اندر بند تھے ان کو کیا پتہ تھا کہ باہر سے گولیاں ان پر امریکی برسا رہے ہیں یا دوستم کی فوج۔ وہ تو بس طالبان کی حکومت کو بچانا چاہتے تھے بلخ کو نہیں۔

بلخ ، بخارا اور بغداد بسانے والے تو کب کے چلے گئے پتہ نہیں ان کو بچانے والے کب آئیں گے۔

جب سچ کے لئے مولانا بلخی کی تلاش اپنی انتہا کو پہنچی تھی تو انہیں شمس تبریز بغداد کی ایک گلی میں ملے تھے۔

پچانوے سالہ عمرئی چشتی پچھلے پچھہتر سال سے افغانستان کے شہر ہرات میں مولانا بلخی کی مثنوی پڑھا رہے ہیں۔ کولمین بارکس جنہوں نے مولانا بلخی کے کام کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے نے ایک دن ہرات میں ان سے ملاقات کے دوران پوچھا شمس تبریز اب کب آئے گا؟ عمرئی چشتی نے جواب دیا شمس تبریز وہ مسیحا ہے جو تب آتا ہے جب درد حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے ـ ابھی کسی کو اتنی تکلیف نہیں ہو رہی!





پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
مولانا بلخی کا شہر
مزار شریف کی چند تصاویر
شکاری عورتیں
’وہ مولوی کے کہنے پر مجھے مار سکتے تھے‘
تصاویر کا کیا کروں؟
جہادی لڑکوں کے عزیزوں کی ٹوٹتی بنتی امیدیں
باجوڑ باجوڑ: دس روز بعد
بمباری کے بعد عنایت کلی سے چند تصاویر
جنرل مشرف’جہاد پر اختیار‘
جہاد صرف حکومت ہی کر سکتی ہے: جنرل مشرف
بھنگ کے پودےبھنگ کے جنگلات
اتحادی فوج کے خلاف افغان جنگوؤں کا حربہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد