شکاری عورتیں اور امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد کافی بڑی تعداد میں پاکستانی بھی امریکہ کے خلاف جہاد کے لیے افغانستان چلے گئے تھے۔ ان میں سے کئی ابھی تک واپس نہیں آئے۔ ان کے ساتھ کیا ہوا؟ یہی جاننے کے لیے بی بی سی اردو کی سمیرا اسلم نے ٹھیک پانچ سال بعد پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ سے لیکر افغانستان کے صوبہ بلخ تک کا سفر کیا۔ ان کے اس سفر پر مبنی سلسلہ وار مضامین آپ ان صفحات پر پڑھ سکیں گے۔ اس کے علاوہ آپ ہر مضمون کے آخر میں دیے گئے لنک کے ذریعے بی بی سی اردو کی عالمی سروس کا خصوصی پروگرام ’باجوڑ سے بلخ تک‘ بھی سن سکتے ہیں۔ یہ اس سلسلے کا دوسرا مضمون ہے۔ ’’ان کو جتنی نفرت امریکیوں سے ہے اتنی ہی مجھ جیسی عورتوں سے۔ حالانکہ میں نے علاقائی روایات کا احترام کرتے ہوئے سر سے پاؤں تک چادر لپیٹی ہوئی تھی۔ اسی چادر کے نیچے ایک دن میں نے کیمرہ چھپایا اور دو نامحرم مردوں کے ساتھ باجوڑ کی طرف چل پڑی۔ اس وقت صحافیوں کے وہاں جانے پر سخت پابندی تھی کیونکہ مدرسے پر بمباری کو ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا۔ تین چیک پوسٹوں سے گزرے۔ پوچھ گچھ ہوئی۔ ہر جگہ پکڑے جانے کا ڈر لیکن آخر کار ہم دو کنال پر بنے اس مدرسے تک پہنچ گئے جسے حکومت دہشت گردوں کا تربیتی کیمپ کہہ رہی تھی۔ مدرسے کے سامنے ایک بچے کی قبر کی تصویر بھی بنائی جو اسی بمباری میں ہلاک ہوا تھا۔ لیکن یہ سب بہت جلدی جلدی کیا کیونکہ باجوڑ وہی علاقہ ہے جہاں اس قسم کے اعلان ہو رہے تھے: ’جو استانیاں باہر سے آ کر باجوڑ کے سکولوں میں پڑھاتی ہیں اور جو باندیاں شعبہ ہیلتھ میں کام کرتی ہیں وہ جلد از جلد باجوڑ چھوڑ جائیں ـ جو بہنیں مڈل اور ہائی سکول جاتی ہیں وہ نہ جائیں۔‘ یقیناً، میرا اس طرح کھلم کھلا کھڑے ہو کر تصویریں بنانا انہیں پسند نہ آتا۔ دوسرے دن میں ضلع دیر کے علاقے میدان میں کتابوں کی ایک دکان میں بیٹھ کر ان لوگوں کے ناموں کی لسٹ دیکھ رہی تھی جو دو ہزار ایک میں امریکہ کے خلاف جہاد کرنے کے لیے افغانستان چلے گئے تھے اور واپس نہیں آئے۔ دکاندار نے جس کے پاس لسٹیں تھیں دکان کے شٹر اچھی طرح بند کر دیے تھے تا کہ کسی کو پتا نہ چلے کہ اندر ایک عورت بیٹھی ہے۔ وہی عورت جو افغانستان جانا چاہتی تھی ان لوگوں کو ڈھونڈنے جن کے گھر والے پانچ سال گزرنے کے بعد بھی ان کی واپسی کا انتظار کر رہے ہیں۔ دکاندار میرے اس جذبے سے بہت متاثر نظر آیا لیکن پھر فوراً بولا ’جتنی محنت آپ ان لوگوں کے لئے کر رہی ہیں کتنا ہی اچھا ہوتا اگر اتنی ہی محنت آپ اسلام کی خدمت کے لیے کرتیں۔‘ وہ مجھ سے اسلام کی کیا خدمت کرانا چاہتا تھا ، اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب چلتے چلتے اس نے مجھے مولانا مودودی کی کتاب ’پردہ‘ تعفے میں دی۔ ویسے میں نے دکان کے شیلف پر ایک اور کتاب بھی رکھی دیکھی تھی جس کاعنوان تھا ’شکاری عورتیں‘۔ وہاں کا ایک مقامی صحافی اسرار میرے ساتھ تھا اور اس بات سے بہت پریشان تھا کہ میں نے لسٹیں دیکھنے اور انٹرویو کرنے میں خاصا وقت صرف کر دیا اب اندھیرا ہو گیا تھا اور ہمیں دو گھنٹے کا سفر طے کر کے واپس شہر پہنچنا تھا۔ لیکن ابھی تو صرف چھ ہی بجے تھے مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا اگر ہمارے پاس گاڑی ہے تو اسے پریشانی کس بات کی ہے ؟ میں نے انٹرویو جاری رکھے۔ آخر کار ایک گھنٹے بعد جھنجلا کر اس نے پریشانی کی اصل وجہ ظاہر کر ہی دی۔ ’میڈم وہ آپ کو مار دیں گے ۔‘ کون؟ ’وہی جو رات کے اندھیرے میں ایک عورت کا نامحرم مردوں کے ساتھ اس طرح سفر کرنا پسند نہیں کرتے۔‘ سنسان سڑک پر رات کےاندھیرے میں واپسی کا وہ سفر انتہائی خاموشی سے کٹا۔ یقییناً یہ لوگ کسی مولوی کے کہنے پر مجھے مار سکتے تھے ـ یہ وہی تو تھے جو کچھ مولویوں کے کہنے پر تلواریں، ڈنڈے یا ایک ایک بندوق اٹھا کر امریکہ کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے افغانستان چلے گئے تھے۔‘‘
لال بادشاہ، باڑہ خیببر ایجنسی یہ بہت اچھی کہانی ہے لیکن اس میں کوئی تصویریں نہیں ہیں۔براہ مہربانی اس میں تصویریں بھی لگائیں۔ خالد راجہ، لاوبے ٹیک سنگھ خورشید انور، پشاور سلطان خان، کیمبرج، برطانیہ شبانہ صمدچوہدری، پشاور رضوان کلیم، اسلام آباد |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||