سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد کافی بڑی تعداد میں پاکستانی بھی امریکہ کے خلاف جہاد کے لیے افغانستان چلے گئے تھے۔ ان میں سے کئی ابھی تک واپس نہیں آئے۔ ان کے ساتھ کیا ہوا؟ یہی جاننے کے لیے بی بی سی اردو کی سمیرا اسلم نے ٹھیک پانچ سال بعد پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ سے لیکرافغانستان کے صوبہ بلخ تک کا سفر کیا۔ ان کے اس سفر پر مبنی سلسلہ وار مضامین آپ ان صفحات پر پڑھ سکیں گے۔ اس کے علاوہ آپ ہر مضمون کے ساتھ بی بی سی اردو کی عالمی سروس کا خصوصی پروگرام ’باجوڑ سے بلخ تک‘ بھی سن سکیں گے۔ یہ اس سلسلے کا پہلا مضمون ہے۔
’میں نے کسی کو نہیں بتایا تھا کہ افغانستان کیوں جا رہی ہوں۔ لیکن جس دن میں اسلام آباد پہنچی اسی دن میرے بہنوئی نے ایک شخص کو اپنی گاڑی میں لفٹ دی تھی جو تمام راستہ انہیں ایک ہی کہانی سناتا رہا، اپنے بیس سالہ سب لیفٹیننٹ بیٹے کی کہانی جو نیوی کے انجنیرنگ کالج میں تھا۔دو ہزار ایک میں بغیر کسی کو بتائے کراچی سے کوئٹہ اور پھر افغانستان چلا گیا تھا، امریکیوں کے خلاف جہاد کرنے۔ پانچ سال ہو چکے واپس نہیں آیا۔ایسے لوگوں کے ساتھ کیا ہوا، یہ ہی جاننے کے لئے تو میں افغانستان جا رہی تھی۔ جب ان صاحب کو پتا چلا تو دوسری ہی شام بیٹے کی تصویر لے کر میرے پاس پہنچ گئے۔ کہنے لگے آخری مرتبہ سنا ہے اسے قندوز میں دیکھا گیا تھا، وہاں جانا میرے بیٹے کی تصویر دکھانا کیا پتا کوئی پہچان لے اور بتا دے کہ اب وہ کہاں مل سکتا ہے۔ یہ پہلی تصویر تھی جو مجھے دی گئی۔ دوسری شاہد کی تھی، وہ صوبہ سرحد کے شہر دیر کے کالج میں سیکنڈ ایئر کاطالبعلم تھا۔ باپ فوج میں کمیشن دلوانا چاہتا تھا لیکن شاہد کو شاید محاذ پر پہنچنے کی جلدی تھی۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد مالاکنڈ میں ملا صوفی محمد نے جیسے ہی اعلان کیا کہ وہ امریکیوں سے لڑنے کے لئے ایک مسلح لشکر لے کر افغانستان جانا چاہتے ہیں تو شاہد اپنے گھر سے بندوق اور کچھ کارتوس لے کر نکل پڑا تھا۔ اب تک اس کےوالدین کو تین مرتبہ اس کے ہلاک ہونے کی اور تین مرتبہ زندہ بچ جانے کی خبر مل چکی ہے۔ کبھی گھر پر افسوس کرنے والوں کی قطار لگ جاتی ہے تو کبھی مبارک باد دینے والوں کی۔ تیسری تصویر ریحان کی تھی، جسے اخبار والوں نے ننھا مجاہد لکھا تھا کیونکہ وہ صرف دس سال کا تھا۔ چوتھی روزی خان کی جس کے والد کا کہنا تھا کہ ان کے کچھ رشتہ داروں نے ان کے بیٹے کو بی بی سی ٹی وی پر دیکھا تھا، اس کو افغانستان کی جیل سے رہا کر دیا گیا تھا لیکن وہ پاکستان نہیں پہنچا۔ ان کو یقین تھا کہ میں اسے ضرور ڈھونڈ نکالوں گی۔ پانچویں عجب خان کی جس کے تین بچے ہر عید پر اپنے دادا سے پوچھتے ہیں کہ ان کا باپ کابل سے کیا کیا تحفے لائے گا؟ چھٹی تصویر بخت زیب کی تھی جس کی شادی کو آٹھ ماہ ہوئے تھے اور وہ جہاد پر چلا گیا تھا۔ اس کی بیوی گلناز نے مجھ سے پوچھا تھا اس انٹرویو کا تم کیا کرو گی ؟ میں نے کہا تھا بی بی سی پر نشر کروں گی۔ اس نے کہا پھر کیا ہو گا؟ اس سوال کا جواب تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔ چپ رہی۔ وہاں سے اٹھ کر آ گئی۔ افغانستان سے واپس لوٹی تو دوبارہ ان گھروں کا رخ نہیں کیا۔ بہت سے لوگوں کو بہت سی جھوٹی امیدیں بندھائی تھیں میں نے۔ تصویریں اب بھی میرے پاس ہیں، میں ان کا کیا کروں؟‘
|